نماز میں دعا اور تضرع
انسان کی زاہدنہ زندگی کا بڑا بھاری معیار نماز ہے۔ وہ شخص جو خدا کے حضور نماز میں گریاں رہتا ہے،امن میں رہتا ہے۔ جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں چیخ چیخ کر روتا ہے اور اپنی ماں کی محبت اور شفقت کو محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح پر نماز میں تضرّع اور ابتہال کے ساتھ خدا کے حضور گڑ گڑانے والا اپنے آپ کو ربوبیت کی عطوفت کی گود میں ڈال دیتا ہے۔ یاد رکھو اس نے ایمان کا حظ نہیں اٹھایا جس نے نماز میں لذت نہیں پائی۔ نماز صرف ٹکروں کا نام نہیںہے۔ بعض لوگ نماز کو تو دو چار چونچیں لگا کر جیسے مرغی ٹھونگے مارتی ہے ختم کرتے ہیں اور پھر لمبی چوڑی دعا شروع کرتے ہیں، حالانکہ وہ وقت جو اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرنے کے لئے ملا تھا اس کو صرف ایک رسم اور عادت کے طور پر جلد جلد ختم کرنے میں گزار دیتے ہیں اور حضورِ الٰہی سے نکل کر دعا مانگتے ہیں۔ نماز میںدعا مانگو۔ نماز کو دعا کا ایک وسیلہ اور ذریعہ سمجھو۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ28، ایڈیشن 2018، قادیان)