اعلیٰ درجہ کی خوشی خدا میں ملتی ہے جس سے پرے کوئی خوشی نہیں ہے۔ جنت پوشیدہ کو کہتے ہیں اور جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ نعمتوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ اصل جنت خدا ہے جس کی طرف تردّد منسوب ہی نہیں ہوتا اس لیے بہشت کے اعظم ترین انعامات میں رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ (التوبۃ:۷۲) ہی رکھا ہے۔ انسان انسان کی حیثیت سے کسی نہ کسی دکھ اور تردّد میں ہوتا ہے،مگر جس قدر قرب الٰہی حاصل کرتا جاتا ہے اور تَـخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ سے رنگین ہوتا جاتا ہے،اسی قدر اصل سکھ اور آرام پاتاہے۔ جس قدر قرب الٰہی ہو گا لازمی طور پر اُسی قدر خدا کی نعمتوں سے حصہ لے گا اوررفع کے معنے اسی پر دلالت کرتے ہیں۔
نجات کامل خدا ہی کی طرف مرفوع ہو کر ہوتی ہے اور جس کا رفع نہ ہو وہ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷ ) ہو جاتا ہے۔ پس رفع مسیحؑ سے مراد ان کے نجات یافتہ ہونے کی طرف ایما ہے اور یہ روحانی مراتب ہیں جن کو ہر ایک آنکھ دیکھ نہیں سکتی کہ کیونکر ایک انسان آسمان کی طرف اُٹھایا جاتا ہے۔
نزول سے مراد عزت وجلال کا اظہار ہوتا ہے۔ پس ہمارا نزول بھی یہی شان رکھتا ہے۔ پھر نزول سے پہلے منارہ کا وجود تو خود ہی ہو جائے گا۔ نزول سے مراد محض بعثت نہیں ہوتی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سے قرآن شریف اسی لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی طرف ایما ہو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ سے پایا جاتا ہے کہ جب انسانی کوششیں تھک کر رہ جاتی ہیںتو آخر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ21، ایڈیشن 2018، قادیان)