رحمانیت کا مظہر تام محمد ﷺ ہے کیونکہ محمدؐ کے معنے ہیں بہت تعریف کیا گیا اور رحمان کے معنے ہیں بلا مُزد، بن مانگے بلا تفریق مومن وکافر دینے والا اور یہ صاف بات ہے کہ جو بن مانگے دے گا اس کی تعریف ضرور کی جاوے گی۔ پس محمدؐمیں رحمانیت کی تجلی تھی اور اسم احمد میں رحیمیت کا ظہور تھا کیونکہ رحیم کے معنے ہیں محنتوں اور کوششوں کو ضائع نہ کرنے والا اور احمد کے معنے ہیں تعریف کرنیوالا اور یہ بھی عام بات ہے کہ وہ شخص جو کسی کا عمدہ کام کرتا ہے وہ اس سے خوش ہو جاتا ہے اور اسکی محنت پر ایک بدلہ دیتاہے اور اسکی تعریف کرتا ہے۔ اس لحاظ سے احمد میں رحیمیت کا ظہور ہے۔ پس اللہ محمد(رحـمٰن)احمد(رحیم) ہے۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ان دو عظیم الشان صفات رحمانیت اوررحیمیت کے مظہر تھے۔ ‘‘
دنیا ایک ریل گاڑی ہے اور ہم سب کو عمر کے ٹکٹ دئیے گئے ہیں جہاں جہاں کسی کا سٹیشن آتا جاتا ہے اس کو اُتار دیا جاتا ہے یعنی وہ مر جاتاہے پھر انسان کس زندگی پر خیالی پلاؤ پکاتا اور لمبی امیدیں باندھتا ہے۔
نماز انسان کا تعویذ ہے۔ پانچ وقت دعا کا موقع ملتا ہے۔ کوئی دعا تو سنی جائیگی۔ اس لیے نماز کو بہت سنوار کر پڑھنا چاہیے اور مجھے یہی بہت عزیز ہے۔
سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں اسی واسطے رکھی ہیں کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں۔ پس ہر ایک آیت گویا ایک دروازہ سے بچاتی ہے۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ20، ایڈیشن 2018، قادیان)