اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2024-07-04

اُونٹ کی سرشت میں اِتباعِ امام کا مسئلہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے سب اُونٹ اُس اُونٹ کے پیچھے ایک خاص انداز اور رفتار سے چلتے ہیں جو سب سے پہلے بطور امام اور پیشرو کے ہوتا ہے پس دنیا کے سفر کو قطع کرنے کے واسطے جب تک ایک امام نہ ہو انسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے

فرمایا: قرآن شریف میں جو یہ آیت آئی ہے اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (الغاشیۃ:۱۸ )یہ آیت نبوت اور امامت کے مسئلہ کو حل کرنے کے واسطے بڑی معاون ہے۔ اُونٹ کے عربی زبان میں ہزار کے قریب نام ہیں اور پھر ان ناموں میں سے اِبِل کے لفظ کو جو لیا گیا ہے۔ اس میں کیا سِرّہے؟ کیوں اِلَی الْـجَمَل بھی تو ہو سکتا تھا؟
اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جَـمَل ایک اونٹ کو کہتے ہیں اور اِبِل اسم جمع ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کو چونکہ تمدنی اور اجماعی حالت کا دکھانا مقصود تھا اور جَـمَل میں جو ایک اونٹ پر بولا جاتا ہے یہ فائدہ حاصل نہ ہوتاتھا،اس لیے اِبِل کے لفظ کو پسند فرمایا۔ اونٹوں میں ایک دوسرے کی پیروی اوراطاعت کی قوت رکھی ہے۔ دیکھو اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے اور وہ کس طرح پر اس اونٹ کے پیچھے ایک خاص انداز اور رفتار سے چلتے ہیں۔ اور وہ اونٹ جو سب سے پہلے بطور امام اور پیشرو کے ہوتا ہے۔ وہ ہوتا ہے جو بڑا تجربہ کار اور راستہ سے واقف ہو۔ پھر سب اونٹ ایک دوسرے کے پیچھے برابر رفتار سے چلتے ہیں اور ان میں سے کسی کے دل میں برابر چلنے کی ہوس پیدا نہیں ہوتی جو دوسرے جانوروں میں ہے جیسے گھوڑے وغیرہ میں۔ گویا اونٹ کی سرشت میں اتباعِ امام کا مسئلہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ کہہ کر اس مجموعی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے جبکہ اونٹ ایک قطار میں جارہے ہوں۔ اسی طرح پر ضروری ہے کہ تمدنی اور اتحادی حالت کو قائم رکھنے کے واسطے ایک امام ہو۔
پھر یہ بھی یاد رہے کہ یہ قطار سفر کے وقت ہوتی ہے پس دنیا کے سفر کو قطع کرنیکے واسطے جب تک ایک امام نہ ہو انسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے۔ پھر اونٹ زیادہ بارکش اور زیادہ چلنے والا ہے اس سے صبر وبرداشت کا سبق ملتا ہے۔
پھر اونٹ کا خاصہ ہے کہ وہ لمبے سفرو ںمیں کئی کئی دنوں کا پانی جمع رکھتا ہے۔ غافل نہیں ہوتا۔ پس مومن کو بھی ہر وقت اپنے سفر کے لئے طیار اور محتاط رہنا چاہیے اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى (البقرۃ:۱۹۸ )
يَنْظُرُوْنَکے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھنا بچوں کی طرح دیکھنا نہیں ہے بلکہ اس سے اتباع کا سبق ملتا ہے کہ جس طرح پر اونٹ میں تمدنی اور اتحادی حالت کو دکھایا گیا ہے اور ان میں اتباع امام کی قوت ہے اسی طرح پر انسان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اتباع امام اپنا شعار بنا وے کیونکہ اونٹ جو اسکے خادم ہیں ان میں بھی یہ مادہ موجود ہے۔ كَيْفَ خُلِقَتْمیں ان فوائد جامع کی طرف اشارہ ہے جو اِبِل کی مجموعی حالت سے پہنچتے ہیں۔ ‘‘ (ملفوظات جلد 2 صفحہ18، ایڈیشن 2018، قادیان) ٭٭