یہ تو ہر ایک قوم کا دعویٰ ہے کہ بہتیرے ہم میں سے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں، مگر ثبوت طلب یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ بھی ان سے محبت رکھتا ہے یا نہیں؟اور خدا تعالیٰ کی محبت یہ ہے کہ پہلے تو ان دلوں پر سے پردہ اٹھا دے، جس پردہ کی وجہ سے اچھی طرح انسان خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا اور ایک دھندلی سی اور تاریک معرفت کے ساتھ اس کے وجود کا قائل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات امتحان کے وقت اس کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتا ہے اور یہ پردہ اٹھایا جانا بجز مکالمہ الٰہیہ کے اور کسی صورت سے میسر نہیں آسکتا۔ پس انسان حقیقی معرفت کے چشمہ میں اس دن غوطہ مارتا ہے۔ جس دن خدا تعالیٰ اس کو مخاطب کر کے اَنَا الْمَوْجُوْد کی اس کو آپ بشارت دیتا ہے۔ تب انسان کی معرفت صرف اپنے قیاسی ڈھکو سلہ یا محض منقولی خیالات تک محدود نہیںرہتی بلکہ خدا تعالیٰ سے ا یسا قریب ہو جاتا ہے کہ گویا اس کو دیکھتا ہے اور یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان اسی دن اس کو نصیب ہوتا ہے کہ جب اللہ جَلَّ شَانُہٗ اپنے وجود سے آپ خبر دیتا ہے اور پھر دوسری علامت خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ ہے کہ اپنے پیارے بندوں کو صرف اپنے وجود کی خبر ہی نہیںبلکہ اپنی رحمت اور فضل کے آثار بھی خاص طور پر ان پر ظاہر کرتا ہے اور وہ اس طرح پر کہ ان کی دعا ئیں جو ظاہری امیدوں سے زیادہ ہوں قبول فرما کر اپنے الہام اور کلام کے ذریعہ سے ان کو اطلاع دیتا ہے۔ تب ان کے دل تسلی پکڑ جاتے ہیں کہ یہ ہمارا قادر خدا ہے جو ہماری دعا ئیں سنتا ہے اور ہم کو اطلاع دیتا ہے اور مشکلات سے ہمیں نجات دیتا ہے۔ اسی روز سے نجات کا مسئلہ بھی سمجھ میں آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی پتہ لگتا ہے اگرچہ جگانے اور متنبہ کرنے کے لئے کبھی کبھی غیروں کو بھی سچی خواب آسکتی ہے۔ مگر اس طریق کا مرتبہ اور شان اور رنگ اور ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا مکالمہ ہے جو خاص مقربوں ہی سے ہوتا ہے اور جب مقرب انسان دعا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنی خدا ئی کے جلال کے ساتھ اس پر تجلی فرماتا ہے اور اپنی روح اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی محبت سے بھرے ہوئے لفظوں کے ساتھ اس کو قبول دعا کی بشارت دیتا ہے اور جس کسی سے یہ مکالمہ کثرت سے وقوع میں آتا ہے اس کو نبی یا محدَّث کہتے ہیں۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ16، ایڈیشن 2018، قادیان)
…٭…٭…٭…