اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2024-06-06

حدیث میں آیا ہے کہ دوزخ پر ایک ایسا زمانہ آویگا کہ اس میں ایک آدمی بھی باقی نہ رہیگا اور نسیم صبا اسکے دروازوں کو کھٹکھٹائیگی

اسلام کی نسبت جو کہتے ہیں کہ تلوار سے پھیلا، یہ بالکل غلط ہے۔ اسلام نے تلوار اُسوقت تک نہیں اٹھائی جب تک سامنے تلوار نہیں دیکھی۔ قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ جس قسم کے ہتھیاروں سے دشمن اسلام پر حملہ کرے، اسی قسم کے ہتھیار استعمال کرو۔ مہدی کیلئے کہتے ہیں کہ آکرتلوار سے کام لے گا، یہ صحیح نہیں۔ اب تلوار کہاں ہے جو تلوار نکالی جاوے۔ پھر افسوس تو یہ ہے کہ باوجود یکہ مسیح ان لوگوں کے مسلّمات کو تسلیم کرلے گا اور فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اترے گا مگر پھر بھی اس پر کفر کا فتویٰ دیا جائے گا، جیسا کہ کتابوں سے ثا بت ہے بلکہ ایک شخص اٹھ کر کہہ دے گا اِنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ غَیَّرَ دِیْنَنَا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت کے لوگ ان دلائل سے باخبر ہوںتاکہ کسی محفل میں ان کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
ہمارا ایمان ہے کہ دوزخ میں ایک عرصہ تک آدمی رہے گا،پھر نکل آوے گا۔ گویا جن کی اصلاح نبوت سے نہیں ہوسکی،اُن کی اصلاح دوزخ کرے گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ دوزخ پر ایک ایسا زمانہ آوے گا کہ اس میں ایک آدمی بھی باقی نہ رہے گا اور نسیم صبا اس کے دروازوں کو کھٹکھٹائے گی۔
اسکے علاوہ قرآن شریف نے بہشت کے انعامات کا تذکرہ کر کے عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ کہہ دیا ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے تھا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو امید نہ رہتی اور مایوسی پیدا ہوتی۔ بہشت کے انعامات کی بے انتہا درازی کودیکھ کر مسرت بڑھتی ہے اور دوزخ کے ایک معین عرصہ تک ہونے سے خدا تعالیٰ کے فرض پر امید پیدا ہوتی ہے۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ11 اور 14، ایڈیشن 2018، قادیان)