شیخ رحمت اللہ صاحب کا خط دربارہ کسی ابتلاء کے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا، جس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا:
’’ میں اس ابتلا میں ان کے لئے بہت دعا کرتا ہوں۔ اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ درحقیقت ابتلا بڑی رحمت کا موجب ہوتے ہیں کہ ایک طرف عبودیت مضطر ہوکر اور چاروں طرف سے کٹ کر اسی اکیلے سبب ساز کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے اور ادھر سے الوہیت اپنے فضلوں کے لشکر لے کر اس کی تسلی کے لئے قدم بڑھاتی ہے۔ میں ہمیشہ یہ سنت انبیاء علیہم السلام اور سنت اللہ میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر اس گرامی جماعت کی رأفت ورحمت ابتلا کے وقت اپنے خدام کی نسبت جوش مارتی ہے، آرام و عافیت کے وقت وہ حالت نہیں ہوتی۔‘‘
حضرت اقدس علیہ السلام نے قبل از نماز ظہر بڑی لطیف تقریر فرمائی اورمولانا عبدالکریم صاحب سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ:
’’ جو کچھ ہورہا ہے ارادہ الٰہی کے موافق ہورہا ہے۔ ضروری تھا کہ یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ان آثار کی صداقت پر مہر لگادیتے جن میں لکھا ہے کہ مہدی موعود کے وقت بڑا شور برپا ہوگا او راسکو سلف و خلف کے عقائد کے خلاف باتیں بنانے والا کہہ کر کافر ٹھہرایا جائے گا۔ اسوقت ہمارے احباب کو ایسا ہی صبر کرنا چاہئےجیسا کہ ہمارے نبی کریمﷺ اور آپؐکے اصحاب نے مکہ معظمہ میں کیا کوئی حرکت ان سے ایسی سرزد نہ ہوئی جو انہیں حُکاّم تک پہنچاتی۔ اس وقت کسی پر بھروسہ نہ کریں کہ فلاں شخص ہماری مدد کرے گا۔ یادرکھیں اس وقت خدا وند جلّ و عَلا کے سوا کوئی ولی و نصیر نہیں۔‘‘
(ملفوظات، جلددوم صفحہ4تا5، مطبوعہ 2018قادیان )