ہماری جماعت جس نے مجھے پہچانا ہے کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانات(پنڈت لیکھرام وپادری آتھم کا نشان ، ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مقدمہ میں برأت کا نشان ، جلسہ مذاہب عالم کا نشان ۔ناقل) کو باسی نہ ہونے دیں۔ اس سے قوت یقین پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ ان نشانات کو پوشیدہ نہ رکھے اور جس نے دیکھے ہیں وہ ان کو بتلا دے جوغائب ہیںتا کہ برائیوں سے بچیں اور خدا پر تازہ ایمان پیدا کریں اور ان نشانات کو عمدہ براہین سے سجا سجا کر پیش کریں۔ یاد رکھو! خدا کے دلائل اور براہین کو جو غور سے نہیں دیکھتے، وہ اندھے ہوتے ہیں اور حق کو دیکھ نہیں سکتے اور ان کے سننے کے کان نہیں ہوتے۔ یہ لوگ چار پائے بلکہ ان سے بھی بد تر ہیں اور خدا ان کی زندگی کا متکفل نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ متقی اور مومن کی زندگی کا ذمہ دار ہے۔هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف:197) اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور اور چار پایوں کے مشابہ ہیں ان کی زندگی کا کفیل نہیں۔ بھلا بتاؤ تو صحیح کہ کوئی آدمی ذبح ہوتے ہوئے بکروںکے سر پر بھی بیٹھ کر روتا ہے؟پھر جو لوگ بکروں سے بھی گئے گزرے ہیں،ان کی زندگی کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے؟
جانوروں کی زندگی دیکھ لو کہ محنتیں ان سے لی جاتی ہیں اور ان کو ذبح کیا جاتا ہے۔ پس جو انسان خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرتا ہے اسکی زندگی کی ضمانت نہیں رہتی، چنانچہ فرمایا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ( الفرقان:78) یعنی اگر تم اللہ کو نہ پکارو،تو میرا ربّ تمہاری پرواہ ہی کیا رکھتا ہے۔
’’یاد رکھو جو دنیا کیلئے خدا کی عبادت کرتے ہیں یا اس سے تعلق نہیںرکھتے اللہ تعالیٰ ان کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتا۔ ‘‘
(ملفوظات، جلد اوّل ، صفحہ513، مطبوعہ 2018قادیان )
…٭…٭…٭…