اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2024-04-18

بد ظنی بہت بری چیز ہے، انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے

جماعت کو نصیحت
طبیب کیلئے جیسا ضروری ہے کہ تشخیص عمدہ طور پر کرے، اسی طرح وعظ کے منصب کا یہ فرض ہے کہ وعظ و پند سے پہلے ان لوگوںکے امراض کو مدّ نظر رکھے جن میں وہ مبتلا ہیں۔ مگر مشکل تو یہی ہے کہ یہ فراست اور یہ معرفت، حقانی واعظ کے سوا دوسرے کو ملتی ہی کم ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں باوصفیکہ سینکڑوں، ہزاروں واعظ پھرتے ہیں، لیکن عملی حالت دن بدن پستی کی طرف جارہی ہے۔ ہر قسم کی اعتقادی،ایمانی،اخلاقی غلطیاں اور کمزوریاں اپنا اثر کرتی جاتی ہیں۔ یہ اس لئے کہ وعظوں میں حقانیت نہیں، روح نہیں۔ یہ سب کچھ ہے، مگر میں اس وقت اپنے دوستوں کو یہی بتلانا چاہتا ہوں کہ چونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے دلوں میں طلب حق کی پیاس کو محسوس کیا ہے، وہ راستی اور صداقت کے لینے میں مضائقہ نہ کریں۔ گو واعظ مختلف رنگوں اور پیرایوں میں اپنا سوال ہی پیش کرے،مگر تم کو نہیں چاہئے کہ صرف اس ایک وجہ سے اصل حکمت کو چھوڑ دو،کیونکہ وہ جوان کے سوال کو سن کر ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، وہ بھی تو غلطی پر ہے۔ کیا کسی لعل اور گوہر نایاب کو صرف اس لیے پھینک دیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بد بو دار اور میلی کچیلی ٹلی(دھجی کپڑے کی)میں بندھا ہوا ہے؟ہر گز نہیں۔ اسکے سوا اگر واعظ سوال کرتا ہے تو کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ(الضحیٰ: 4) اور سائل خواہ گھوڑے پر ہی سوار ہو کر آیا ہے پھر بھی واجب نہیں کہ اس کو رد کیا جاوے۔ تیرے لیے یہ حکم ہے کہ تو اس کو جھڑک نہیں۔ ہاں خدا نے اس کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ سوال نہ کرے۔ وہ اپنی خلاف ورزی کی خود سزا پا لے گا لیکن تمہیں یہ مناسب نہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے ایک واجب العزت حکم کی نا فرمانی کرو۔ غرض اس کو کچھ دے دینا چاہئے اگر پاس ہواور اگر پاس کچھ نہیں تو نرم الفاظ سے اس کو سمجھا دو۔‘‘
بد ظنی
فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنون فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے۔ اگر نیک ظن کرے تو پھر کچھ دینے کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ جب پہلی ہی منزل پر خطا کی تو پھر منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہے۔ بد ظنی بہت بری چیز ہے۔ انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بد ظنی شروع کر دیتا ہے۔
اگر بد ظنی کا مرض نہ بڑھ گیا ہوتا تو بتلاؤ ان مولویوں کو جنہوں نے میری تکفیر اور ایذا دہی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھااور کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، کونسی وجوہ کفر کی اور میری تکذیب کی نظر آئی تھی۔ میں نے پکار پکار کر اور خدا تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ قرآن کریم کو خاتم الکتب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الا نبیاء مانتا ہوںاور اسلام کو ایک زندہ مذہب اور حقیقی نجات کا ذریعہ قرار دیتا ہوں۔ خدا تعالیٰ کی مقادیر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتا ہوں۔ اسی قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہوں۔ اتنی ہی نمازیں پڑھتا ہوں۔ رمضان کے پورے روزے رکھتا ہوں۔ پھر وہ کونسی نرالی بات تھی جو انہوں نے میرے کفر کیلئے ضروری سمجھی۔ صریح ظلم ہے۔ وہ اپنے گندے اعمال اور زندگی کو نہیں دیکھتے۔ وہ زمین اور آسمان پر غور اور تدبر کر کے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ان مصنوعات کا خالق ہے۔ لیکھرام کے نشان سے مولویوں نے کیا فائدہ اٹھایا؟
(ملفوظات، جلد اوّل ، صفحہ507، مطبوعہ 2018قادیان )
…٭…٭…٭…