یہ بالکل سچی بات ہے کہ قول کی طرف دیکھو قائل کی طرف مت خیال کرو۔ اس طرح پر انسانسچائی کے لینے سے محروم رہ سکتا ہے اور اندر ہی اندر ایک عجب و نخوت کا بیج پرورش پا جاتا ہے، کیونکہ اگر یہ صرف سچائی اور صداقت کا طالب ہے تو پھر دوسروں کی عیب شماری سے اس کو کیا غرض۔
واعظ اپنے لئے کوئی ایک بات نکال لے،مگر تم کو اس سے کیا غرض۔ تمہارا مقصود اصلی تو طلب حق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ بے موقع،بے محل،بے ربط بات شروع کر دیتے ہیں اور پندونصیحت کرتے وقت امور مقتضائے وقت کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ان امراض کا لحاظ رکھتے ہیں جن میں مخاطب مبتلا ہوتے ہیں بلکہ اپنے سوال کو ہی مختلف پیرایوں میں بیان کرتے ہیں۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز بیان کواگر غور سے دیکھتے تو ان کو وعظ کہنے کا بھی ڈھنگ آجاتا۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ سب سے بہتر نیکی کیا ہے۔ آپ اس کو جوب دیتے ہیں کہ سخاوت۔ دوسرا آکر یہی سوال کرتا ہے تو اس کو جواب ملتا ہے ماں باپ کی خدمت۔ تیسرا آتا ہے اس کو جواب کچھ اور ملتا ہے۔ سوال ایک ہی ہوتا ہے جواب مختلف۔ اکثر لوگوں نے یہاں پہنچ کر ٹھوکر کھائی ہے اور عیسائیوں نے بھی ایسی حدیثوں پر بڑے بڑے اعتراض کیے ہیں، مگر احمقوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مفید اور مبارک طرز جواب پر غور نہیں کیا۔
اس میں سِرّ یہی تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس قسم کا مریض آتا تھا اسکے حسب حال نسخہ شفا بتلا دیتے تھے۔ جس میں مثلاً بخل کی عادت تھی اس کیلئے بہترین نیکی یہی ہو سکتی تھی کہ اس کو ترک کرے،جو ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا تھا،بلکہ ان کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آتا تھا،اس کو اسی قسم کی تعلیم کی ضرورت تھی کہ وہ ماں باپ کی خدمت کرے۔
(ملفوظات، جلد اوّل ، صفحہ506، مطبوعہ 2018قادیان )