اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2024-04-04

رمضان ختم ہونے اور عید منانے کو ہمیں اپنی عبادتوں سے رخصت یا کمی یا پورا اہتمام نہ کرنے کا اجازت نامہ نہیں سمجھ لینا چاہئے

اللہ تعالیٰ آج ہمیں عید منانے کی توفیق عطا فرما رہا ہے لیکن ایک مومن کیلئے حقیقی عید صرف یہی نہیں کہ اچھے کپڑے پہن لیے، اچھے کھانے کھا لیے، دوستوں کے ساتھ مجلس میں بیٹھ کر خوش گپیوں میں وقت گزار لیا۔ عید کی نماز پڑھ کر سمجھ لیا کہ اب عید کا فرض تو ادا ہو گیا اس لیے اب کھلی چھٹی ہے جو چاہے کرو۔ نہ اس دن وقت پر ظہر کی نماز کی ادائیگی کا خیال، نہ عصر کی نماز کا خیال، نہ باقی نمازوں کا خیال اور اگر خیال آیا بھی تو جلدی جلدی جمع کر کے پڑھ لیں بلکہ بعض لوگ تو عید کی نماز بھی نہیں پڑھتے اور جب عید کی نماز ہو جاتی ہے تو بڑے اہتمام سے اٹھ کر تیار ہو کر عید کے دن کی جو دوسری رونقیں ہیں ان میں مصروف ہو جاتے ہیں جیسے یہی عید کا مقصد ہے۔ یہ میں صرف بات برائے بات نہیں کر رہا بلکہ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو عید کی نماز بھی نہیں پڑھتے اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں نیند آ گئی تھی، ہم سوئے رہے۔
یاد رکھنا چاہئے کہ عید والا دن تو زیادہ عبادت کا دن ہے۔عام دنوں میں تو پانچ نمازیں فرض ہیں اور عید والے دن چھ نمازیں فرض ہیں۔ حتی ٰکہ عورتوں کو بھی جنہیں بعض دنوں میں نماز معاف ہوتی ہے انہیں بھی عید والے دن عید گاہ جانے کا حکم ہے۔پس عید کے دن کی بہت اہمیت ہے…عید والے دن صرف ایک تہوار منانے کی طرح جمع ہونے کا دن نہیں ہے بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے جو ہمارے سپرد کام کیے ہیں ان کا عام دنوں سے بڑھ کرحق ادا کرنا ضروری ہے۔ اپنی عبادت کے بھی حق ادا کرنا ضروری ہے اور بندوں کے حق ادا کرنے کی جو ہرمومن کی ذمہ داری ہے اسے ادا کرنا بھی ضروری ہے۔اس دن یہ عہد کرنا چاہئے کہ مَیں اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی بھی مستقل کوشش اب کرتا رہوں گا اور بندوں کے حق ادا کرنے کی بھی مسلسل کوشش کرتا رہوں گا ،تبھی ہماری عیدیں حقیقی عیدیں ہوں گی۔ پس ایسی عیدوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان حقوق کی ادائیگی کی قرآن کریم میں بہت جگہ توجہ دلائی ہے۔ اگر ہم آج عید کے دن یہ عہد کرتے ہوئے ان حقوق و فرائض کی ادائیگی پر توجہ دیں کہ آئندہ ہم نے ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے جن کا میں عمومی طور پر گذشتہ جمعوں کے خطبات میں بھی ذکر کرتا رہا ہوں تو ہم نے اپنے رمضان کے مقصد کو پا لیا اور عید منانے کے مقصد کو بھی پانے والے ہوں گے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃُ النساء آیت نمبر 37 کے حوالہ سے فرمایا کہ اس میںاللہ تعالیٰ نے بعض فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے،اور یہ ادا نہ کرنے والے تکبر کرنے والے اور شیخی بگھارنے والے ہیں اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ پس جنہیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ان کا نہ دین ہے نہ دنیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک موقع پر اسکا بڑا سخت انذار فرمایا ہے۔ آپؐنے فرمایا کہ جس کے دل میں ذرّہ بھر بھی تکبر ہو گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ انسان چاہتا ہے کہ اچھا کپڑا پہنے، اچھی جوتی پہنے، خوبصورت لگے تو یہ کس زمر ےمیں آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تکبر نہیں ہے۔ آپؐنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو خود جمیل ہے۔ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ آپؐنے فرمایا تکبر یہ ہے کہ انسان حق کا انکار کرے۔ لوگوں کو ذلیل سمجھے۔ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھے اور ان سے بری طرح سے پیش آئے۔پس عید والے دن اچھے کپڑے پہننا، تیار ہونا، خوشبو لگانا یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں لیکن ان کو فخر اور تکبر کا ذریعہ بنانا یہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
اس آیت میں ان باتوں کی طرف توجہ دلا کر پھر آخر میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر متکبر اور شیخی خورے کو پسند نہیں فرماتا۔ ان باتوں میں اللہ تعالیٰ کا بھی حق ہے اور بندوں کا حق بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ اسکی عبادت کی جائے۔ اب یہ بےشک اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے لیکن اس کا فائدہ بندے کو ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اس کا کیا فائدہ ہے؟ اللہ تعالیٰ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد عبادت ہے تو یہ اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا کوئی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو ہماری بہتری کیلئے، ہمیں نوازنے کیلئے، ہماری اصلاح کیلئے عبادتوں کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے۔ ہمیں برائیوں سے روکنے کیلئے عبادت کا حکم ہے، نمازوں کا حکم ہے۔ ایک جگہ فرمایا اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ (العنکبوت: 46)یقیناً نماز بے حیائی اور ہر ناپسندیدہ بات سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر یقیناً سب ذکروں سے بڑا ہے۔
پس نمازوں کا، عبادتوں کا، اللہ تعالیٰ کے ذکر کا، اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا فائدہ ہمیں ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا بدلہ دیتا ہے، جزا دیتا ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لے جائے اور آگ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کر۔ اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ نماز پڑھ۔ زکوٰۃ دے اور صلہ رحمی کر۔یعنی رشتہ داروں سے پیار اور محبت کا سلوک کرو۔ پس دیکھیں! کس طرح اللہ تعالیٰ نواز رہا ہے۔ دنیا میں بھی نواز رہا ہے اور اگلے جہان میں بھی جنت کی خوشخبری دے رہا ہے۔
پھر ایک اَور روایت میں آتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو محض للہ دو عیدوں کی راتوں میں عبادت کرے گا اس کا دل ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیا جائے گا۔کتنی بڑی خوشخبری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر عبادت کرنے سے ہمیشہ کیلئے انعام مل رہا ہے۔ پس عید صرف خوشیاں منانے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی راتوں کو عبادتوں سے زندہ کرنے کا نام ہے اور اس سے ہمیشہ کیلئے پھر روحانی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ رمضان ختم ہوا اب آرام سے سوئیں گے۔ کہاں تو سحری کھانے کیلئے اٹھتے تھے اور اس وجہ سے دو نفل بھی پڑھ لیتے تھے اور کہاں یہ کہ عید والے دن بعض بلکہ بہت سے فجر کی نماز میں بھی جاگنے کی سستی دکھا جاتے ہیں۔ بیماری کو کووِڈ کو بہانہ نہیں بنانا چاہئے۔فجر کی نماز پر مسجد میں آئیں۔عید والے دن اگر کم حاضری تھی تو جہاں آج عید ہے ان کو کل بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے اور جہاں کل عید ہونی ہے وہ کل اس کمی کو پورا کریں کہ نماز پہ حاضری ہو یا کم از کم گھروں میں بچوں کے ساتھ صبح اٹھ کر وقت پر نماز باجماعت ادا کریں۔ حتی الوسع باجماعت نمازوں کا اہتمام کریں۔ خاص اہتمام سے سنوار کر جیساکہ پچھلے خطبہ جمعہ میں بھی مَیں نے کہا تھا کہ سنوار کر نمازوں کی ادائیگی کریں۔رمضان ختم ہونے اور آج عید منانے کو ہمیں اپنی عبادتوں سے رخصت یا کمی یا پورا اہتمام نہ کرنے کا اجازت نامہ نہیں سمجھ لینا چاہئے۔ یہ عبادتیں ہی ہیں جو ہماری دنیوی اور آخری زندگی میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنانے کی ضمانت بنیں گی۔قادیان )
( خطبہ عید الفطرحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ2؍مئی 2022ء سے ماخوذ)