افسوس کی بات ہے کہ مسلمان خود شریعت کی توہین کرتے ہیں۔چنانچہ دیکھوجنھوں نے ان دنوں روزے رکھے ہیں،وہ کچھ دبلے نہیں ہو گئے اور جنھوں نے استخفاف کے ساتھ اس مہینہ کو گزارا ہے،وہ کچھ موٹے نہیںہو گئے۔ان کا بھی وقت گزرگیااوران کا بھی زمانہ گزر گیا۔جاڑے کے روزے تھے،صرف غذا کے اوقات کی ایک تبدیلی تھی،سات آٹھ بجے نہ کھائی چار پانچ بجے کھالی۔باوجود اس قدر رعایت کے پھر بھی بہتوں نے شعائر اللہ کی عظمت نہیں کی اور خدا تعالیٰ کے اس واجب التکریم مہمان ماہ رمضان کو بڑی حقارت سے د یکھا۔اس قدر آسانی کے مہینوں میں رمضان کا آنا ایک قسم کا معیار تھا اور مطیع وعاصی میںفرق کرنے کیلئے یہ روزے میزان کا حکم رکھتے تھے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آسانی تھی۔سلطنت نے ہر قسم کی آزادی دے رکھی ہے۔طرح طرح کے پھل اور غذائیں میسر آتی ہیں۔کوئی آسائش وآرام کا سامان نہیں،جو آج مہیا نہ ہو سکتا ہو ۔بایں ہمہ جو پرواہ نہیں کی گئی اس کی کیا وجہ ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ دلوں میں خدا پر ایمان نہیں رہا۔افسوس خدا کا ایک ادنیٰ بھنگی کے برابر بھی لحاظ نہیں کیا جاتاگویا یہ خیال ہے کہ خدا سے کبھی واسطہ ہی نہ ہو گا اور نہ اس سے کبھی پالا پڑے گا اور اس کی عدالت کے سامنے جانا ہی نہیں۔کاش منکرغور کریں اور سوچیں کہ کروڑوں سورجوں کی روشنی سے بھی بڑھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں۔افسوس کی جگہ ہے کہ ایک جوتاکو دیکھ کر یقینی طور پر سمجھ لیا جاتا ہے کہ اسکا کوئی بنانے والا ہے،مگر یہ کس قدر بدبختی ہے کہ خدا تعالیٰ کی بے انتہا مخلوق کو دیکھ کر بھی اس پر ایمان نہ ہو۔یا ایسا ایمان ہو جو نہ ہونے میںداخل ہے۔خدا تعالیٰ کی ہم پر بہت رحمتیں ہیں۔
(ملفوظات، جلد اوّل، صفحہ 431،مطبوعہ 2018قادیان )