حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعا کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب ہو کر دودھ کے لئے چلّاتا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آ جاتا ہے۔ بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اُس کی چیخیں دودھ کو کیونکر کھینچ لاتی ہیں؟بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں مگر بچہ کی چلّاہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچے لاتی ہے۔تو کیا ہماری چیخیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کھینچ کر لا سکتیں؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے۔ مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔ بچے کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتے کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر اگر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 129۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
’’قانون قدرت میں قبولیت دعا کی نظیریں موجود ہیں۔ جیسا کہ شروع میں بچے کے چلّانے کی وجہ سے ماں کے دودھ کے اترنے کی مثال کا ذکر ہو چکا ہے۔ یہ قانون قدرت ہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اسی قانون کے تحت ’’ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ زندہ نمونے بھیجتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 199۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)