اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-06-25

حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہّر تھابلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید ایک ناپاک طبع، دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا۔ اور جن معنوں کی رُو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے، وہ معنی اُس میں موجودنہ تھے۔ مومن بننا کوئی امر سہل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کی نسبت فرماتا ہے۔ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا۔ قُلْ لَّمْ تُوْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْآ اَسْلَمْنَا (الحجرات: 15) مومن وہ لوگ ہوتے ہیں … جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اُس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اُس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمالِ فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو، سب سے اپنے تئیں دُور تر لے جاتے ہیں۔ لیکن بدنصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں۔ دنیا کی محبت نے اُس کو اندھا کر دیا تھا۔ مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہّر تھا اور بلا شبہ وہ اُن برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرّہ کینہ رکھنا اُس سے موجب سلبِ ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الٰہی اور صبر اور استقامت اور زُہد اور عبادت ہمارے لئے اُسوۂ حسنہ ہے۔ ‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 548 تا 550 اشتہار نمبر 263مطبوعہ الشرکۃ الاسلامیۃ ربوہ)
آپؑ اپنے ایک فارسی شعر میںفرماتے ہیں : جان و دلم فدائے جمال محمدؐ است خاکم نثار کوچۂ آل محمدؐ است (درثمین فارسی۔ صفحہ ۸۹)
میری جان اور دل حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جمال پر قربان میری خال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی گلیوں میں قربان۔