اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-04-30

اللہ کا ذکر ایسی شئے ہے جو دلوں کو اطمینان عطا کرتا ہے

آنحضرت ﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتاتو آپ نماز کیلئے کھڑے ہو جاتے اور اس کیلئے فرمایا اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ اطمینان سکینت قلب کیلئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔
(الحکم جلد 7 صفحہ 20 مورخہ 31 مئی 1903ء صفحہ 9)
قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شئے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے جیسا فرمایا اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔ پس جہاں تک ممکن ہو ذکر الٰہی کرتا رہے اسی سے اطمینان حاصل ہو گا ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔ اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا۔
(الحکم جلد ۹ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۸)
اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ اس کے عام معنی تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اور فلاسفی یہ ہے کہ جب انسان سچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے یقین کرتا ہے۔ اس سے اس کے دل پر ایک خوف عظمتِ الٰہی کا پیدا ہوتا ہے۔ وہ خوف اس کو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ اس پر نازل ہوتے ہیں اور وہ اس کو بشارتیں دیتے ہیں اور الہام کا دروازہ اس پر کھولا جاتا ہے اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی وراء الورا طاقتوں کو مشاہدہ کرتا ہے۔ پھر اس کے دل پر کوئی ہمّ و غم نہیں آ سکتا۔ اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔
(الحکم جلد ۹ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۰ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲)
(بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد نمبر 2، صفحہ نمبر 92-91)