اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-11-05

خطبہ جمعہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24 اپریل 2026بطر زسوال و جواب

سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر سنی سنائی بات آگے بیان کرنے والے کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبر کی تحقیق کیے بغیر اسے آگے پھیلانا بھی انسان کو جھوٹ کے دائرے میں لے آتا ہے۔
سوال : سنی سنائی بات آگے پھیلانے کی برائی کیوں سنگین ہے؟
جواب : کیونکہ انسان بعض اوقات ایسی بات دوسروں تک پہنچا دیتا ہے جس کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔ اگر وہ بات غلط ہو تو کسی بے گناہ کی بدنامی، دل آزاری یا نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے مسلمان کو ہر خبر کی تحقیق کرنی چاہیے اور بغیر تحقیق کے کوئی بات آگے نہیں پھیلانی چاہیے۔
سوال : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحابہؓ کے جھوٹ کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
ل : حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو جھوٹ سے بڑھ کر کوئی خصلت زیادہ ناپسند نہ تھی۔ اگر کوئی شخص آپؐ کے سامنے جھوٹ بولتا تو یہ بات آپؐ کے دل میں رہتی، یہاں تک کہ آپؐ کو معلوم ہو جاتا کہ اس شخص نے توبہ کر لی اور جھوٹ بولنا چھوڑ دیا ہے۔
سوال : ایک شخص اپنے خاوند کے مال کے متعلق جھوٹا اظہار کیوں کرے تو آنحضرت ﷺ نے اسے کیا قرار دیا؟
جواب : حضرت اسماءؓ کی روایت کے مطابق ایک عورت نے عرض کیا کہ کیا وہ اپنی سوتن کو چڑانے کے لیے یہ ظاہر کر سکتی ہے کہ اس کا خاوند اسے بہت کچھ دیتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ چیزیں اسے نہیں دی گئیں؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایسی چیز سے سیر ہونے کا اظہار کرے جو اسے دی ہی نہیں گئی، وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔
سوال : ’’جھوٹ کے دو کپڑے پہننے‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
جواب : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص مکمل طور پر جھوٹ اور فریب میں ملوث ہے۔ ’’دو کپڑے‘‘ بطور تمثیل استعمال ہوئے ہیں، یعنی اس کا ظاہر و باطن جھوٹ سے آلودہ ہے۔
سوال : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو منافقت سے کس طرح جوڑا؟
جواب : حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار خصلتیں جس شخص میں ہوں وہ پورا منافق ہے، اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، جب تک وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ ان میں یہ بھی شامل ہے کہ:
جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے۔
دیگر علامات امانت میں خیانت، عہد شکنی اور جھگڑے میں گالی دینا ہیں۔
سوال : جھوٹ بولنے کے علاوہ منافق کی دیگر علامات کون سی بیان ہوئی ہیں؟
جواب : 1. امانت میں خیانت کرنا۔
2. بات کرتے ہوئے جھوٹ بولنا۔
3. عہد کرنے کے بعد عہد شکنی کرنا۔
4. جھگڑے کے وقت گالی گلوچ کرنا۔
سوال : غلط باتیں پھیلانے والوں کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے کس قسم کا انذار فرمایا؟
جواب : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے انجام سے سختی سے ڈرایا جو جھوٹی بات بنا کر لوگوں میں پھیلاتے ہیں۔ حضرت سمرہ بن جندبؓ کی روایت میں ایک ایسے شخص کا ذکر ہے جس کا منہ لوہے کے آنکڑے سے چیر دیا جاتا تھا کیونکہ وہ صبح ایک جھوٹی بات بناتا اور وہ بات چاروں طرف پھیل جاتی تھی۔
سوال : حدیث میں جھوٹی بات پھیلانے والے شخص کے لئے کس سزا کا منظر دکھایا گیا؟
جواب : اس کے منہ، نتھنے اور آنکھ کے ایک جانب کو گدی تک چیر دیا جاتا تھا، پھر دوسری جانب یہی عمل کیا جاتا، اور جب ایک طرف دوبارہ درست ہوتی تو پھر اسے چیر دیا جاتا۔ یہ اس شخص کے لیے سخت وعید تھی جو جھوٹی بات بنا کر اسے چاروں طرف پھیلاتا تھا۔
سوال : لوگ بعض اوقات دوسروں کے متعلق غلط باتیں کیوں پھیلاتے ہیں؟
جواب : بعض لوگ محض زبان کے مزے، تفریح یا مجلس کی رونق کے لیے باتیں کرتے ہیں، جبکہ بعض اوقات کسی شخص کو بدنام کرنے، نقصان پہنچانے یا معاشرے میں اس کی عزت خراب کرنے کے لیے غلط باتیں پھیلائی جاتی ہیں۔ دونوں صورتیں قابلِ مؤاخذہ ہیں۔
سوال : جھوٹی بات پھیلانے والے کو کس بات سے خوفزدہ ہونا چاہیے؟
جواب : اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل سے باخبر ہے، اور غلط خبریں پھیلانا اور لوگوں کو نقصان پہنچانا قابلِ مؤاخذہ ہے۔ اس لیے ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ سے خوف کرنا، استغفار کرنا اور اپنی اصلاح کرنا چاہیے۔
سوال : کاروباری معاملات میں سچائی کی کیا اہمیت ہے؟
جواب : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کاروبار میں بھی سچائی اور صاف گوئی کو ضروری قرار دیا۔ اگر خریدنے والا اور بیچنے والا سچ بولے، حقیقت واضح کرےاور کوئی بات نہ چھپائےتو ان کی تجارت میں برکت ہوتی ہے۔ لیکن اگر جھوٹ بولیں یا حقیقت چھپائےتو ان کے کاروبار کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔
سوال : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’امین‘‘ اور ’’صدیق‘‘ کا خطاب کس نے دیا؟
جواب : اہلِ مکہ نے آپؐ کی غیر معمولی امانت اور صداقت کو دیکھتے ہوئے آپؐ کو امین اور صدیق کے خطابات دیے تھے۔