سوال : حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کس عظیم رسول کے لیے دعا کی تھی؟
جواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نسل میں ایک ایسے عظیم رسول کی بعثت کے لیے دعا کی تھی جو اللہ تعالیٰ کی آیات لوگوں کو سنائے، انہیں کتاب کی تعلیم دے، حکمت عطا کرے اور ان کا تزکیہ کرے۔ یہ دعا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی صورت میں پوری ہوئی۔
سوال : حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے الفاظ کیا ہیں؟
جواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی:رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ۔(البقرۃ:130)’’اےہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث کر جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب کی تعلیم دے اور حکمت بھی سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے۔ یقیناً تو ہی کامل غلبے والا اور حکمت والا ہے۔‘‘
سوال : حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی کن دو صفات کا ذکر کیا؟
جواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر کیا:
اَلْعَزِیْزُ کامل غلبے والا۔اَلْحَکِیْمُ حکمت والا۔
سوال : ’’الحکیم‘‘ کا بنیادی مفہوم کیا ہے؟
جواب: ’’الحکیم‘‘ سے مراد وہ ذات ہے جو کامل حکمت رکھنے والی ہے، جس کا کوئی کام بے مقصد یا بے حکمت نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ، ہر حکم، ہر تقدیر اور ہر تدبیر اپنی جگہ کامل حکمت رکھتی ہے۔
سوال : حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنحضرتﷺ کے متعلق کن چار امور کی دعا کی؟
جواب: چار امور یہ تھے:
یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات سنائے۔
وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ انہیں کتاب کی تعلیم دے۔
وَالْحِکْمَۃَ انہیں حکمت سکھائے۔
وَیُزَکِّیْہِمْ ان کا تزکیہ کرے۔
سوال : حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کس مقصد کے تحت کی تھی؟
جواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فراست اور یقیناً الہام کے ذریعہ یہ ادراک تھا کہ انسانی ذہنی، علمی اور روحانی ترقی آگے بڑھنی ہے۔ اس لیے انہوں نے دعا کی کہ جب انسانیت ترقی کے ایک ایسے دور میں پہنچے جہاں ایک عظیم عالمی اور روحانی تعلیم کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ ایک ایسا رسول مبعوث فرمائے جو انسانیت کی رہنمائی کرے۔
سوال : حضرت ابراہیمؑ کی دعا کس طرح پوری ہوئی؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، جو آخری شرعی کتاب قرآن کریم لے کر آئے اور جن کی تعلیم قیامت تک تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔
سوال : آنحضرت ﷺ کے مقام کے متعلق خطبہ میں کیا بیان ہوا؟
جواب: آپؐ افضل الرسل اور خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی بندگی، عبادت، قربانی اور اطاعت کے ایسے اعلیٰ معیار قائم کیے جو بے مثال ہیں۔
سوال : حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں ’’آیات‘‘ سے کیا مراد لی؟
جواب: ’’آیات‘‘ کے کئی معانی ہیں، مثلاً:نشان،معجزہ، عبرت کی بات،ایسی چیز جس کے ذریعے کسی پوشیدہ حقیقت کا علم ہو، قرآن کریم کی آیات یا حصے۔
خطبہ میں اس کے مختلف معانی کی روشنی میں بتایا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ایسے دلائل، نشانات اور معجزات دکھانے والے تھے جن کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے۔
سوال : ’’آیت‘‘ کے معنی نشان کیوں ہیں؟
جواب: کیونکہ آیت ایسی چیز ہے جو کسی دوسری حقیقت کی طرف رہنمائی کرے۔ کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اس کی قدرت، حکمت اور وجود کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔
سوال : آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لیے لوگوں کو کیا عطا فرمایا؟
جواب: آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی تعلیم اور نشانات کے ذریعہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت اور اس کے وجود کی معرفت عطا فرمائی۔ آپؐ نے ایسے دلائل پیش فرمائے جن سے انسان اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنے اور اس سے تعلق پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
سوال :قرآن کریم کے تدریجی نزول میں کیا حکمت تھی؟
جواب: قرآن کریم ایک ہی وقت میں مکمل طور پر نازل نہیں ہوا بلکہ تقریباً 23 سال کے عرصہ میں مختلف مواقع اور حالات کے مطابق نازل ہوتا رہا۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ اس وقت کے انسانوں کی ذہنی اور علمی استعداد کے مطابق تعلیم تدریجاً نازل ہو، لوگ اسے سمجھیں، یاد کریں اور اس پر عمل کریں۔
سوال :قرآن کریم کے ٹکڑوں میں نازل ہونے کا ذکر کس قرآنی آیت میں ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً
یعنی: ’’اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا؟‘‘
سوال : قرآن کریم کے تدریجی نزول کو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے کس رنگ میں بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے 23 سال کے عرصہ میں نازل ہونے کو قرآن کریم کی سچائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک دلیل قرار دیا۔ سخت ترین حالات، جنگوں، تکالیف اور مخالفانہ کوششوں کے باوجود آپؐ کی زندگی باقی رہی اور قرآن کریم کے مکمل نزول اور دین کے کامل ہونے کا اعلان ہوا۔
سوال :قرآن کریم کے تدریجی نزول کا ایک اہم عملی فائدہ کیا تھا؟
جواب: صحابہؓ کے لیے اس تعلیم کو سمجھنا، یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان تھا۔ اگر پوری کتاب ایک ہی وقت میں نازل ہوتی تو اس زمانے کے لوگوں کے لیے اس کے تمام احکام اور تعلیمات کو ایک دم سمجھنا اور عملی طور پر اختیار کرنا مشکل ہوتا۔
سوال : کیا صحابہؓ کو قرآن کریم کی تمام باتیں فوراً سمجھ آ جاتی تھیں؟
جواب: نہیں۔ بعض باتیں صحابہؓ کی سمجھ میں فوراً نہیں آتی تھیں، لیکن ان کا ایمان کامل تھا۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تعلیم پر یقین رکھتے تھے۔
سوال : ایمان کامل کے متعلق خطبہ میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا کیا واقعہ بیان ہوا؟
جواب: جب کسی نے حضرت منشی ظفر احمد صاحب سے مخالفین کے اعتراضات سننے کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ اعتراضات سن بھی لیں تو ان کا ایمان کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا۔ ان کا ایمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک اور آپؐ کی صداقت سے مضبوط ہو چکا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی ایمان محض اعتراضات کے سننے سے متزلزل نہیں ہوتا۔
سوال : قرآن کریم میں مستقبل کے علوم اور حقائق کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: قرآن کریم میں ایسے بہت سے حقائق اور پیشگوئیاں موجود ہیں جنہیں انسانی علم اور سائنسی ترقی کے ساتھ وقت گزرنے پر مزید سمجھنے کے مواقع ملتے ہیں۔ اس سے قرآن کریم کی گہرائی اور اس کی تعلیم کی وسعت ظاہر ہوتی ہے۔
سوال : ڈاکٹر عبدالسلام مرحوم قرآن کریم کے متعلق کیا کہا کرتے تھے؟
جواب: خطبہ میں بیان ہوا کہ ڈاکٹر عبدالسلام مرحوم کہا کرتے تھے کہ وہ اپنے ہر تجربے کی بنیاد قرآن کریم کی آیات پر رکھتے تھے۔ اس سے قرآن کریم اور کائنات کے حقائق میں مطابقت کی طرف توجہ ملتی ہے۔
***