اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-24

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 20؍مارچ 2026ءبطر زسوال و جواب

سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مومن کے دنیا سے تعلق کے بارے میں کیا بنیادی اصول بیان فرمایاہے؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نصب العین دین ہوتا ہے۔‘‘ اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو دنیاوی ترقی، مال، علم، عزت اور جائز وسائل حاصل کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اگر دنیاوی تعلقات کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی ہو تو یہی تعلقات مومن کے روحانی مقام کو بلند کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
سوال: مومن کے لیے دنیا کی اصل حیثیت کیا ہونی چاہیے؟
جواب: مومن کے لیے دنیا مقصدِ زندگی نہیں بلکہ مقصدِ زندگی تک پہنچنے کا ذریعہ ہونی چاہیے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کہ ’’دنیا، اس کا مال و جاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔‘‘ لہٰذا مال، دولت، عہدہ، کاروبار، علم اور دیگر دنیاوی وسائل انسان کے ہاتھ میں ہوں، مگر اس کے دل پر ان کی حکومت نہ ہو۔ مومن دنیا سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن دنیا کو اپنا معبود، نصب العین یا آخری منزل نہیں بناتا۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے دنیا کمانے کے بارے میں کیا واضح ہدایت فرمائی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا: ’’اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو۔‘‘ یعنی انسان روزگار حاصل کرے، کاروبار کرے، ملازمت کرے اور اپنی معاشی حالت بہتر بنائے، لیکن اس کا مقصد صرف دنیاوی آسائش، نمود و نمائش اور دوسروں پر برتری نہ ہو۔ اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ دین کی خدمت، عبادت، صدقات، حقوق العباد اور خدمتِ خلق کے لیے بھی اپنی دنیاوی نعمتوں کو استعمال کرنا چاہیے۔
سوال: کیا اسلام دنیاوی ترقی کے خلاف ہے؟
جواب: ہرگز نہیں۔ اسلام دنیا کی جائز نعمتوں سے فائدہ اٹھانے اور حلال ذرائع سے ترقی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اصل ممانعت اس بات سے ہے کہ دنیا انسان کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر دے اور وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگے۔ مومن کی دنیاوی ترقی ایسی ہونی چاہیے جو اس کے ایمان، عبادت، اخلاق، تقویٰ اور خدمتِ خلق میں اضافہ کرے۔
سوال: دنیاوی نعمت کب مومن کے لیے حقیقی نعمت بن جاتی ہے؟
جواب: جب وہ نعمت اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن جائے۔ مال ہو تو اس سے ضرورت مندوں کی مدد کی جائے، علم ہو تو انسانیت کو فائدہ پہنچایا جائے، عہدہ ہو تو انصاف اور خدمت کی جائے، صحت ہو تو نیکی کے کاموں میں استعمال کی جائے اور کاروبار ہو تو دیانت و امانت کے ساتھ کیا جائے۔ ایسی نعمت انسان کی دنیا بھی سنوارتی ہے اور آخرت بھی۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے دنیا کو دین کا خادم بنانے کے لیے کون سی خوبصورت مثال بیان فرمائی؟
جواب: آپؑ نے سفر کی مثال بیان فرمائی کہ انسان کسی منزل کی طرف سفر کرتے ہوئے سواری اور زادِ راہ ساتھ رکھتا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد سواری یا راستہ نہیں بلکہ منزلِ مقصود تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اسی طرح دنیاوی مال و اسباب بھی انسان کے لیے سفرِ زندگی میں ضروری ہیں، مگر اصل منزل اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ اگر انسان سواری اور سامان ہی کو منزل سمجھ لے تو وہ اصل مقصد سے محروم رہ جائے گا۔
سوال: قرآن کریم کی دعا ’’رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً‘‘ دنیا کے بارے میں کیا رہنمائی فراہم کرتی ہے؟
جواب: اس دعا میں اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنے کی تعلیم دی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مومن دنیاوی بھلائی سے محرومی نہیں مانگتا بلکہ ایسی دنیاوی بھلائی چاہتا ہے جو آخرت کی کامیابی میں بھی معاون ہو۔ یعنی دنیا ہاتھ میں ہو مگر آخرت کی قیمت پر نہ ہو۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ’’حَسَنَۃً فِی الدُّنْیَا‘‘ کی کیا تشریح فرمائی؟
جواب: آپؑ فرماتے ہیں کہ دنیا کی ایسی حسنات مطلوب ہیں جو آخرت میں حسنات کا موجب بن جائیں۔ گویا مومن کو ایسی دنیا چاہیے جو اسے اللہ تعالیٰ سے دور نہ کرے بلکہ اس کے ایمان، تقویٰ، نیکی اور خدمتِ خلق میں اضافہ کرے۔ ایسی دنیاوی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ہے۔
سوال: حصولِ دنیا کے لیے مومن کو کن اصولوں کو سامنے رکھنا چاہیے؟
جواب: مومن کو حلال، پاکیزہ، دیانت دار اور جائز ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔ کسی کا حق مار کر، دھوکا دے کر، جھوٹ بول کر، خیانت کر کے، ظلم و ناانصافی کے ذریعے یا کسی انسان کو نقصان پہنچا کر حاصل کی ہوئی دولت مومن کے لیے باعثِ برکت نہیں ہو سکتی۔ دنیا ایسی کمائی جائے جس میں اپنے لیے بھی فائدہ ہو اور دوسروں کے لیے بھی خیر ہو۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ناجائز ذرائع سے دنیا کمانے کے بارے میں کیا معیار بیان فرمایا؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ دنیا ’’ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو‘‘۔ یعنی حصولِ دنیا کا طریق ایسا ہونا چاہیے جس سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے، کسی کے لیے عار و شرمندگی پیدا نہ ہو اور انسان اپنے ضمیر، خاندان اور معاشرے کے سامنے شرمندہ نہ ہو۔
سوال: ایک مومن کے لیے حلال کمائی کیوں ضروری ہے؟
جواب: کیونکہ مومن کی پاکیزہ زندگی کا تعلق اس کی کمائی سے بھی ہے۔ حلال کمائی سے انسان اپنے اہل و عیال کے حقوق ادا کرتا، صدقہ و خیرات کرتا، دین کی خدمت کرتا اور معاشرے کے لیے مفید بنتا ہے۔ اس کے برعکس ناجائز کمائی انسان کو ظاہری طور پر خوشحال مگر روحانی طور پر تباہ کر سکتی ہے۔
سوال: دنیاوی ترقی اور دینی ترقی میں کس قسم کا توازن ہونا چاہیے؟
جواب: مومن کو نہ تو دنیاوی ذمہ داریوں سے غافل ہونا چاہیے اور نہ دنیاوی مصروفیات میں اس قدر کھو جانا چاہیے کہ دین بھول جائے۔ وہ اپنی روزی کمائے، اہل و عیال کی کفالت کرے، تعلیم و ہنر حاصل کرے اور معاشی ترقی کرے، مگر نماز، عبادت، تقویٰ، اخلاق، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو قربان نہ کرے۔ دنیا کی ترقی دین کے تابع ہو، دین دنیا کے تابع نہ ہو۔
سوال: دنیاوی مال و دولت انسان کے لیے کب آزمائش بن جاتی ہے؟
جواب: جب انسان مال کا مالک ہونے کے بجائے مال کا غلام بن جائے؛ جب دولت کی خاطر نماز، عبادت، سچائی، امانت، رشتوں اور انسانی حقوق کو نظر انداز کرے؛ جب حلال و حرام کی تمیز ختم ہو جائے اور دنیاوی مفاد اللہ تعالیٰ کے احکام پر مقدم ہو جائے۔ ایسی صورت میں دنیا نعمت کے بجائے آزمائش بن جاتی ہے۔
سوال: مال و دولت رکھنے والے مومن کی بنیادی ذمہ داری کیا ہے؟
جواب: اسے چاہیے کہ مال کو اللہ تعالیٰ کی عطا اور امانت سمجھتے ہوئے اپنی جائز ضروریات پوری کرے، اہل و عیال کے حقوق ادا کرے، ضرورت مندوں کی مدد کرے، صدقات و خیرات کرے، دین کی خدمت میں حصہ لے اور مخلوقِ خدا کے لیے آسانی پیدا کرے۔ مال اس کے ہاتھ میں ہو، دل میں نہیں۔
سوال: موجودہ خطرناک عالمی حالات میں مومن کا کیا کردار ہونا چاہیے؟
جواب: مومن کو حالات سے مایوس ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اپنی اصلاح کرنی چاہیے، تقویٰ اختیار کرنا چاہیے، دنیا و آخرت کی حسنات کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اپنے عمل سے امن، محبت، انصاف، ہمدردی اور خدمتِ انسانیت کو فروغ دینا چاہیے۔
سوال: دنیا کی اصلاح کا آغاز کہاں سے ہونا چاہیے؟
جواب: دنیا کی اصلاح کا آغاز اپنی ذات کی اصلاح سے ہونا چاہیے۔ جب انسان اپنے اندر سے خود غرضی، لالچ، ظلم، حسد اور دنیا پرستی کو نکال کر تقویٰ، اخلاص، شکرگزاری اور خدمت کا جذبہ پیدا کرے گا تو اس کے اثرات خاندان، معاشرے اور پھر وسیع تر دنیا تک پہنچیں گے۔
سوال: مومن کو دنیاوی کامیابی کے ساتھ کس چیز کی فکر سب سے زیادہ ہونی چاہیے؟
جواب: مومن کو یہ فکر ہونی چاہیے کہ اس کی دنیاوی کامیابی کہیں اس کی آخرت کی ناکامی کا سبب نہ بن جائے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا میں جائز اور پاکیزہ زندگی گزارے، اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرے، بندوں کے حقوق ادا کرے اور ایسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو۔
سوال: حقیقی کامیابی کی کیا تعریف بنتی ہے؟
جواب: حقیقی کامیابی صرف مال، عہدہ، شہرت یا آسائش کا نام نہیں۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائے، دین کی خدمت کرے، مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچائے اور آخرت میں کامیاب ہو۔
سوال: اس خطبہ کا مرکزی اور جامع پیغام کیا ہے؟
جواب: اس خطبہ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دنیا حاصل کرنا منع نہیں، لیکن دنیا کا غلام بننا منع ہے۔ مومن دنیا کمائے، ترقی کرے اور وسائل حاصل کرے، مگر اس کی ہر کوشش کا رخ اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی خدمت، تقویٰ، خدمتِ خلق اور آخرت کی کامیابی کی طرف ہو۔ یہی وہ طرزِ زندگی ہے جس میں دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی۔
***