اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-17

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 9 نومبر 2007ء بطر زسوال و جواب

سوال: مومنوں کے باہمی تعلق کی کیا خصوصیت بیان ہوئی ہے؟
جواب: مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے دوست، خیرخواہ اور مددگار ہوتے ہیں۔ وہ باہمی محبت، تعاون اور اخوت کے ذریعہ جماعت کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوال: مومن برائی کے خلاف کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
جواب: وہ ہر ایسی بات سے روکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔ ظالم کو ظلم سے روکتے اور مظلوم کی مدد کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں امن، انصاف، محبت اور بھائی چارہ قائم ہو۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے نماز کی کیا اہمیت بیان فرمائی ہے؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ نماز بڑی ضروری چیز اور مومن کا معراج ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے نماز کو تمام وظائف کا مجموعہ کیوں قرار دیا؟
جواب: کیونکہ نماز میں حمدِ الٰہی، استغفار اور درود شریف شامل ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ نماز سے ہر قسم کے غم و ہم دور ہوتے اور مشکلات حل ہوتی ہیں۔
سوال: زکوٰۃ اور مالی قربانی کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال کا حصہ نکالنا تاکہ مال پاک ہو، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا اظہار ہو، ضرورت مندوں کی مدد ہو اور اللہ تعالیٰ اس مال میں برکت عطا فرمائے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا کس قسم کی تجارت قرار دی گئی ہے؟
جواب: یہ ایسی تجارت ہے جس میں گھاٹے کا کوئی سودا نہیں؛ انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے کئی گنا بڑھا کر واپس عطا فرماتا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے کتنے اجر کا وعدہ فرمایا ہے؟
جواب: قرآن کریم کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں خرچ کیے ہوئے مال کو سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھا سکتا ہے۔
سوال: سورۃ البقرہ کی آیت 273 میں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے والوں کے بارے میں کیا وعدہ فرمایا؟
جواب: فرمایا کہ جو مال اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کیا جائے گا، وہ انسان کے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے، اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں انہیں بھرپور واپس دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے اور دنیاوی سرمایہ کاری میں کیا بنیادی فرق ہے؟
جواب: دنیاوی تجارت میں نفع محدود اور نقصان کا امکان موجود رہتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ خرچ کیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق برکت، اجر اور کئی گنا اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال پر کیا اثر پڑتا ہے؟
جواب: اس سے مال پاک ہوتا ہے، اس میں برکت پڑتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے بڑھاتا ہے۔ ساتھ ہی انسان دنیاوی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود آخرت کا اجر بھی حاصل کرتا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے مال کیسا ہونا چاہیے؟
جواب: مال پاک کمائی سے حاصل کیا ہوا ہونا چاہیے۔ دھوکے، ظلم، غریبوں کو لوٹنے یا ناجائز طریقوں سے حاصل کیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں قبولیت کے لائق نہیں۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو پاک کمائی کی تاکید کیوں کی گئی ہے؟
جواب: کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ مالی قربانی کا مقصد صرف رقم دینا نہیں بلکہ پاک مال کو پاک دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پیش کرنا ہے۔
سوال: تحریکِ جدید کا نیا سال کب شروع ہوتا ہے؟
جواب: تحریکِ جدید کا سال 31؍ اکتوبر کو ختم ہوتا ہے اور یکم نومبر سے نیا سال شروع ہوتا ہے۔ عموماً نومبر کے پہلے جمعہ میں نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے۔
سوال: تحریکِ جدید میں مالی قربانی کرنے والے بعض افراد کی کیا کیفیت بیان ہوئی؟
جواب: بعض افراد اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے معمولی وظیفے پر گزارہ کرنے کے باوجود خلیفۂ وقت کی تحریک پر اسی رقم میں سے بچت کرکے شوق اور اخلاص کے ساتھ چندہ ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
سوال: مالی قربانی جماعتی طور پر کیا فوائد پیدا کرتی ہے؟
جواب: مالی قربانی سے جماعتی کام مضبوط ہوتے ہیں، تبلیغِ اسلام کے ذرائع وسیع ہوتے ہیں، دینی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور جماعت کے افراد میں اخلاص، اتحاد، اطاعت اور قربانی کی روح پیدا ہوتی ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت کے لیے مالی قربانی کیوں ضروری ہے؟
جواب: کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے اسلام کی اشاعت اور غلبۂ دین کے لیے ایک ایسی جماعت قائم فرمائی ہے جو اپنے جان، مال، وقت اور عزت کو دین کے لیے قربان کرنے والی ہو۔