اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-03

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍ اکتوبر2007ء بطر زسوال و جواب

سوال: اسلام پر اعتراض کرنے والے بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے خدا کا ایسا تصور پیش کیا ہے جو نعوذ باللہ صرف عذاب دینے والا، جابر، ظالم اور قاہر خدا ہے۔ وہ یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو سختی اور تشدد کا حکم دیتا ہے اور دنیا و آخرت دونوں میں سزا ہی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
سوال: اسلام کے خدا پر اعتراضات کی بنیادی وجہ کیا بیان ہوئی ہے؟
جواب: خطبہ میں فرمایا گیا کہ ایسے اعتراض کرنے والوں نے یا تو قرآن کریم کو اس طرح پڑھا ہی نہیں جس طرح پڑھنے کا حق ہے، یا اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اگر انسان تعصب اور بغض سے پاک ہو کر قرآن کریم کا مطالعہ کرے تو اسے اسلام میں خدا تعالیٰ کی ہستی، صفات، حسن اور احسان کا نہایت خوبصورت تصور نظر آئے گا۔
سوال: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کا ذکر کس مقام پر سب سے پہلے نمایاں ہوتا ہے؟
جواب: قرآن کریم کی پہلی سورۃ، سورۃ الفاتحہ ہی میں اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کا بنیادی تصور پیش کر دیا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی سورۃ فاتحہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے حسن و احسان کو بڑی خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حسن کو کس طرح بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن کریم میں تمام صفات کا موصوف اللہ تعالیٰ کے اسم کو قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ کا اسم اسی وقت حقیقی طور پر متحقق ہوتا ہے جب تمام صفاتِ کاملہ اس میں پائی جائیں۔ چونکہ ہر قسم کی خوبی اللہ تعالیٰ میں موجود ہے، اس لیے اس کا حسن بھی ظاہر ہے۔ اسی حسن کے لحاظ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کو نور قرار دیا گیا ہے۔
سوال: ’’اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘ سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بیان کے مطابق ہر نور اسی کے نور کا پرتو ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کے اس روحانی حسن اور نور کو پہچاننے کے لیے انسان کو تعصّب سے پاک ہو کر اپنے دل کے دروازے کھولنے کی ضرورت ہے۔
سوال: اگر کسی شخص کو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا حسن نظر نہیں آتا تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
جواب: خطبہ میں اس کی وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ قصور اللہ تعالیٰ کے حسن میں نہیں بلکہ دیکھنے والے کی اپنی حالت میں ہو سکتا ہے۔ اگر انسان کے دل کے دروازے تعصب، بغض اور ضد کی وجہ سے بند ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے نور اور حسن کو نہیں دیکھ سکتا۔ اس لیے معرفتِ الٰہی کے لیے دل کو کھولنا اور تعصب کو ترک کرنا ضروری ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی ربوبیت سے کیا مراد ہے؟
جواب: ربوبیت سے مراد اللہ تعالیٰ کا پیدا کرنا اور مخلوق کو اس کے کمالِ مطلوب تک پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کی ضروریات کو جانتا ہے اور اس کی ضرورت کے مطابق اس کے لیے سامان مہیا فرماتا ہے۔ تمام عالم میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت جاری ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کیا ہے؟
جواب: رحمانیت اللہ تعالیٰ کا وہ احسان ہے جس کے تحت اس نے ہر جاندار کو اس کے مناسب حال صورت، سیرت، قوتیں اور صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ ہر مخلوق کو اس کی زندگی کے لیے مناسب جسمانی اور طبعی صلاحیتیں عطا ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کا مظہر ہے۔
سوال: پرندوں کی مثال سے اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کس طرح ظاہر ہوتی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے پرندوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کی ضروریات کے مطابق جسمانی ساخت عطا کی ہے۔ مثلاً ایسے پرندے جو بہت زیادہ بلندی پر پرواز کرتے یا طویل سفر کرتے ہیں، ان کے جسم کی بناوٹ اس مقصد کے مطابق مضبوط بنائی گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کی ایک نمایاں مثال ہے۔
سوال: انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمانیت سے خاص طور پر کیا فائدہ حاصل ہے؟
جواب: انسان اللہ تعالیٰ کی رحمانیت سے بہت زیادہ حصہ پاتا ہے، کیونکہ بے شمار چیزیں انسان کی کامیابی اور بقا کے لیے اس کے تابع کر دی گئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اپنی رحمت اور احسان کے بے شمار سامان پیدا کیے ہیں۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی رحیمیت سے کیا مراد ہے؟
جواب: رحیمیت اللہ تعالیٰ کا وہ خصوصی احسان ہے جس کے تحت وہ انسان کی دعا، تضرع اور اعمالِ صالحہ کو قبول فرماتا اور اسے آفات، بلاؤں اور اعمال کے ضائع ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔ ربوبیت اور رحمانیت سے دوسری مخلوقات بھی فائدہ اٹھاتی ہیں، جبکہ رحیمیت انسان کے لیے ایک خاص روحانی نعمت ہے۔
سوال: رحیمیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے انسان کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: انسان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اختیار کرنی چاہیے، دعا کرنی چاہیے، تضرع اختیار کرنا چاہیے اور اعمالِ صالحہ بجا لانے چاہئیں۔ جب انسان اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحیمیت اس کے شاملِ حال ہوتی ہے۔
سوال: کیا ’’مَالِکِ یَوْمِ الدِّین‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف سزا دینے والا خدا ہے؟
جواب: ہرگز نہیں۔ اسلام کا خدا رحمن، رحیم، رب اور مالک ہونے کے ساتھ ساتھ بخشنے والا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نیک اعمال کا اچھا بدلہ دیتا ہے اور انسان کے گناہوں کو بخشنے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی جزا و سزا کو اس کی وسیع رحمت اور حکمت سے الگ کر کے دیکھنا درست نہیں۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی سزا کا بنیادی اصول کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ انسان کو اس کے اعمال کے مطابق نتیجہ ملتا ہے۔ اگر انسان نیک اعمال کرے تو نیک جزا پاتا ہے اور اگر بداعمالی کرے تو اس کے برے نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا سزا اللہ تعالیٰ کے ظلم کی علامت نہیں بلکہ اس کے عدل اور حکمت کے قانون کا حصہ ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ انسان کو گناہوں کے باوجود کیوں معاف کر سکتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ صرف قانونِ سزا کا مالک نہیں بلکہ مالک بھی ہے، اس لیے اسے معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ دنیاوی قوانین میں جرم کے بعد لازماً سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے جنت کے آٹھ اور دوزخ کے سات دروازوں کی کیا حکمت بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ آپؑ نے سوچا کہ دوزخ کے سات دروازے کیوں ہیں جبکہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ آپؑ کو سمجھایا گیا کہ جنت کے لیے ایک زائد دروازہ بخشش کا رکھا گیا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور بخشش کا اندازہ ہوتا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفت ’’عزیز‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
جواب: عزیز سے مراد ایسا خدا ہے جو کامل قوت، غلبہ اور اقتدار کا مالک ہے۔ اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی یہ قوت بے حکمت یا ظلم کے طور پر ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اس کی دوسری صفات کے ساتھ مل کر اس کے کامل عدل، حکمت، رحمت اور بخشش کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفت ’’عزیز‘‘ اکثر کن صفات کے ساتھ بیان ہوئی ہے؟
جواب: خطبہ میں بتایا گیا کہ قرآن کریم میں صفت عزیز اکثر دوسری صفات کے ساتھ آئی ہے۔ تقریباً نصف مقامات پر عزیز کے ساتھ حکیم کی صفت آئی ہے۔ اس کے علاوہ عزیز کے ساتھ رحیم، حمید، وہاب، غفور اور کریم جیسی صفات بھی بیان ہوئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہمیشہ حکمت، رحمت، مغفرت اور کرم کے ساتھ وابستہ ہے۔
سوال: کیا اللہ تعالیٰ سزا دینے میں جلدی کرتا ہے؟
جواب: نہیں۔ اللہ تعالیٰ باوجود عزیز اور کامل قدرت رکھنے کے سزا دینے میں جلد باز نہیں۔ اس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ وہ اپنے بندوں کی اصلاح کے مواقع فراہم کرتا ہے اور جب انسان حد سے تجاوز کرتا ہے، ظلم اور بغاوت پر اصرار کرتا ہے تب سزا یا گرفت کا معاملہ آتا ہے۔
***