سوال: خطبہ جمعہ ’’اللہ تعالیٰ کی صفت العزیز‘‘ کب ارشاد فرمایا گیا؟
جواب: یہ خطبہ جمعہ حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 19؍ اکتوبر 2007ء کو ارشاد فرمایا۔
سوال: خطبہ کے آغاز میں کون سی قرآنی آیت تلاوت فرمائی گئی؟
جواب: سورۃ فاطر کی آیت 11 تلاوت فرمائی گئی:
مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا...
سوال: اس آیت کا بنیادی مضمون کیا ہے؟
جواب: جو شخص عزت چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ سے عزت حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ تمام عزت اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ پاکیزہ کلام اور نیک عمل انسان کو بلندی عطا کرتے ہیں، جبکہ برے منصوبے کرنے والوں کا مکر ناکام ہو جاتا ہے۔
سوال: ’’العزیز‘‘ کے کیا معنی ہیں؟
جواب: ’’العزیز‘‘ کے معنی غالب، طاقتور اور ایسا وجود جس پر کوئی غالب نہ آسکے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دوسروں پر غالب ہے اور کوئی اسے مغلوب نہیں کرسکتا۔
سوال: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی صفت ’’عزیز‘‘ تقریباً کتنی مرتبہ بیان ہوئی ہے؟
جواب: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی یہ صفت تقریباً سو مرتبہ مختلف مضامین اور حوالوں کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
سوال: ’’وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
جواب: اس کا مطلب ہے کہ عزت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور مومنوں کو حاصل ہے۔
سوال: حقیقی اور دائمی عزت کس کو حاصل ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور مومنوں کو حاصل ہونے والی عزت ہی حقیقی، دائمی اور باقی رہنے والی عزت ہے۔
سوال: انسان اللہ تعالیٰ سے عزت کیسے حاصل کرسکتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرکے، اس پر ایمان لاکر اور اس کی اطاعت و نیک اعمال اختیار کرکے انسان حقیقی عزت حاصل کرسکتا ہے۔
سوال: ’’اَلْمُعِزُّ‘‘ سے کیا مراد ہے؟
جواب: ’اَلْمُعِزُّ‘بھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے، یعنی وہ ذات جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عزت عطا فرماتی ہے۔
سوال: ’اَلْعِزُّ‘ کے کیا معنی ہیں؟
جواب: ’اَلْعِزُّ‘ کے معنی قوت، شدت، غلبہ اور بلندی کے ہیں؛ ایسی بلندی جس تک آسانی سے رسائی نہ ہوسکے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفت ’’العزیز‘‘ کا خلاصہ کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ ’’العزیز‘‘ ہے، یعنی کامل اور جامع معنوں میں غالب، طاقتوں کا مالک اور بے مثال ہے۔ تمام عزتیں اسی کی طرف منسوب ہیں اور وہ اپنے مومن بندوں اور اپنے رسولوں کو طاقت و قوت عطا فرماتا ہے۔
سوال: نبوت کا منصب عطا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی صفات العزیز اور الوہاب بیان ہوئی ہیں؛ یعنی وہ کامل قدرت رکھنے والا اور بہت زیادہ بخشش کرنے والا ہے۔
سوال: کافروں نے حضرت محمد ﷺ کے متعلق کیا اعتراض کیا تھا؟
جواب: انہوں نے اعتراض کیا کہ ہماری قوم میں سے صرف انہی پر ذکر کیوں نازل ہوا؟ یعنی انہوں نے نبوت کے لیے آپ ﷺ کے انتخاب پر اعتراض کیا۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کا کیا جواب دیا؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رحمت کے خزانے انسانوں کے قبضہ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ جسے مناسب سمجھتا ہے اپنی رحمت اور نبوت کا انعام عطا فرماتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مخالفین کا بنیادی اعتراض کیا تھا؟
جواب: مخالفین یہ اعتراض کرتے تھے کہ ایک عام آدمی، حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود اور مہدی کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
سوال: ’’کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے۔
سوال: رسولوں کے غلبہ سے کیا مراد ہے؟
جواب: رسولوں کا غلبہ بنیادی طور پر حجت، دلائل اور حق کی سچائی کے ظاہر ہونے سے متعلق ہے۔ بعض انبیاء کے زمانہ میں دلائل کے ساتھ ظاہری غلبہ بھی عطا ہوا۔
سوال: جہاد کے سلسلہ میں کون سی بنیادی شرط بیان ہوئی ہے؟
جواب: جہاد خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ ملک، سلطنت یا دنیاوی اغراض کے حصول کے لیے۔
سوال: آج کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کا جہاد کس نوعیت کا ہے؟
جواب: یہ دلائل اور براہین کا جہاد ہے، جس کے ذریعے اسلام کی خوبصورت تعلیمات اور حقانیت دنیا کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ’’ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ‘‘ کے متعلق کیا الہام ہوا؟
جواب: آپؑ کو الہام ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قدیم سے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے ارادوں پر غالب ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ’’اِنَّہٗ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ‘‘ کا الہام کہاں بیان ہوا؟
جواب: یہ الہام تذکرہ، صفحہ 406، ایڈیشن چہارم میں بیان ہوا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف مخالفین نے کیا کیا کوششیں کیں؟
جواب: مخالفین نے تکذیب، بدزبانی، جھوٹی مخبریاں، جھوٹے مقدمات، کفر و قتل کے فتوے، اشتہارات و رسائل اور مختلف مخالفانہ منصوبوں کے ذریعے سلسلہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
سوال: ان مخالفتوں کا نتیجہ کیا نکلا؟
جواب: مخالفین کی تمام کوششوں کے باوجود سلسلہ احمدیہ تباہ ہونے کی بجائے مزید ترقی کرتا گیا اور اس کے پیروکاروں کی تعداد بڑھتی گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید اور غلبہ کی نشانی قرار دیا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک حقیقی یقین اور محض ظن میں کیا فرق ہے؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ آپ کا دعویٰ علیٰ وجہ البصیرت اور وحی الٰہی کی روشنی پر مبنی ہے، جبکہ مخالفین کے بعض اعتراضات محض ظن، شکوک اور توہمات پر مبنی ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں اپنے یقین کا اظہار کس طرح فرمایا؟
جواب: آپؑ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے روشن نشانوں، وحی، مکالمہ و مخاطبہ، دعاؤں کی قبولیت اور قرآنی معارف کے ذریعے اپنے وجود اور قدرت کا یقین عطا فرمایا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین آپؑ کو نقصان کیوں نہ پہنچا سکے؟
جواب: کیونکہ اللہ تعالیٰ کا آپؑ سے وعدہ تھا اور وہ قوی و عزیز خدا ہے۔ مخالفین کی متعدد کوششوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپؑ کی حفاظت فرمائی۔
سوال: آج احمدیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے بارے میں کیا تعلیم دی گئی ہے؟
جواب: مومنوں کو ثابت قدم رہنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا چاہیے اور قوی و عزیز خدا سے مدد اور فتح طلب کرنی چاہیے۔دشمن کے ظلم ایمان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مومن اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں۔
سوال: جماعت احمدیہ کی کامیابی کس چیز سے وابستہ ہے؟
جواب: جماعت احمدیہ کی کامیابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ حقیقی تعلق، آنحضرت ﷺ کے غلامِ صادق سے وابستگی اور اعمال کی بلندی سے وابستہ ہے۔
سوال: اس خطبہ کا مرکزی سبق کیا ہے؟
جواب: حقیقی عزت، قوت اور غلبہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے مومن کو دنیاوی سہاروں کے بجائے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا، تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرنا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے حقیقی وفا پیدا کرنا اور دلائل و حسنِ اخلاق کے ذریعے اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچانا چاہیے۔