اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-20

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 13؍ فروری 2026ءبطر زسوال و جواب

سوال: مرزا محمد دین صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا رات کی عبادت اور صبح کا کیا معمول بیان کیا ہے؟
جواب: آپؑ کی عادت تھی کہ رات کو عشاء کے بعد جلد سو جاتے تھے اور پھر ایک بجے کے قریب تہجد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔اور تہجد پڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت فرماتے رہتے تھے۔ پھر جب صبح کی اذان ہوتی تو سنتیں گھر میں پڑھ کر نماز کے لیے مسجد میں جاتے اور باجماعت نماز پڑھتے۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے صوفیوں کی طرح شدید مجاہدات اور ریاضتوں کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: آپؑ نے فرمایا: "میں نے کبھی ریاضاتِ شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلافِ سنت کوئی ایسا عملِ رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو۔"
سوال: خواب میں آنے والے بزرگ نے حضرت مسیح موعودؑ کو کس سنت پر عمل کرنے کا اشارہ فرمایا؟
جواب: خواب میں بزرگ نے فرمایا کہ "کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لیے رکھنا سنتِ خاندانِ نبوت ہے" اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنتِ اہلِ بیتِ رسالت کو بجا لاؤں۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے روزے رکھنے کا پوشیدہ طریقہ کس طرح اختیار فرمایا؟
جواب: آپؑ نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں اپنا کھانا منگواتے اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو دے دیتےاور اس طرح تمام دن روزہ میں گزرتا اور بجز خدا تعالیٰ کے ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی۔
سوال: روزوں کے دوران غذا کم کرتے کرتے حضرت مسیح موعودؑ کا روزانہ کا کھانا کتنا رہ گیا تھا؟
جواب: آپؑ فرماتے ہیں کہ "یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی۔"
سوال: ان روزوں کے نتیجے میں روحانی طور پر حضرت مسیح موعودؑ پر کیا مکاشفات ظاہر ہوئے؟
جواب: آپؑ فرماتے ہیں: "بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معہ حسنین و علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا۔"
سوال: نورانی ستونوں کی حقیقت کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ نے کیا وضاحت فرمائی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا: "میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کیے گئے تھے یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔"
سوال: شدّت کے ساتھ مجاہدات کرنے والے درویشوں کا انجام حضرت مسیح موعودؑ نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ کئی شدید ریاضتیں اختیار کرنے والے "آخر یُبُوستِ دماغ سے وہ مجنون ہو گئے اور بقیہ عمر اُن کی دیوانہ پن میں گزری یا دوسرے امراض سل اور دق وغیرہ میں مبتلا ہو گئے۔"
سوال: بچپن میں کوٹھے سے گرنے پر جب حضرت مسیح موعودؑ کو ہوش آیا تو آپؑ نے سب سے پہلے کیا پوچھا؟
جواب: جس وقت آپؑ کو ہوش آئی تو پوچھتے ہیں کہ "نماز کا وقت ہوا ہے یا نہیں؟"
سوال: رمضان المبارک میں تہجد اور وتر کے وقت آپؑ کے نوافل اور قراءت کا کیا طریقہ تھا؟
جواب: آپؑ وتر اوّل شب میں پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دو دو رکعت کر کے آخر شب میں ادا فرماتے تھے جس میں آپ ہمیشہ پہلی رکعت میں آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص کی قراءت فرماتے تھے۔
سوال: رکوع اور سجود میں حضرت مسیح موعودؑ کون سی دعا اکثر پڑھا کرتے تھے؟
جواب: آپؑ رکوع اورسجود میں "یَا حیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْث" اکثر پڑھتے تھے۔
سوال: سحری کھانے کے وقت کے معاملے میں حضرت مسیح موعودؑ کا کیا طریقہ عمل تھا؟
جواب: آپؑ ہمیشہ سحری نماز تہجد کے بعد کھاتے تھے اور اس میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ بعض دفعہ کھاتے کھاتے اذان ہو جاتی تھی اور آپؑ بعض اوقات اذان کے ختم ہونے تک کھانا کھاتے رہتے تھے۔
سوال: جب حضرت مسیح موعودؑ گھر میں مغرب کی نماز پڑھاتے تھے تو اکثر قرآن کریم کی کون سی آیت پڑھتے تھے؟
جواب: آپؑ اکثر سورہ یوسف کی یہ آیت پڑھتے تھے: "اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ" (مَیں تو اپنے رنج و غم کی صرف اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کرتا ہوں)۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے نماز میں حضوریِ قلب حاصل کرنے کے لیے بار بار نماز پڑھنے کا نسخہ کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضورؑ نے فرمایا کہ بار بار نماز پڑھنی چاہیئے یہاں تک کہ روحانی نشہ ہو جائے۔
سوال: شدید زلزلے کے وقت حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے خاندان اور خدام کے ساتھ کیا طرزِ عمل دکھایا؟
جواب: آپؑ بمع اہل بیت اور بال بچہ کے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنے میں مصروف ہو گئے اور اپنے ربّ کے آگے سر بسجود ہوئے اور بہت دیر تک قیام رکوع اور سجدہ میں سارا کنبہ بمع خدام کے گرا رہا۔
سوال: سیالکوٹ میں قیام کے دوران مائی حیات بی بی نے والد کے مکان پر آپؑ کی تلاوت اور سجدوں کی کیا حالت بیان کی؟
جواب: ان کے والد بتاتے تھے کہ "مرزا صاحب قرآن مجید پڑھتے پڑھتے بعض وقت سجدے میں گر جاتے ہیں اور لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں اور یہاں تک روتے ہیں کہ زمین تر ہو جاتی ہے۔"
سوال: نہایت بچپن کی عمر میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی ہم سن لڑکی سے دعاؤں کے متعلق کیا فرمایا تھا؟
جواب: آپؑ بچپن میں کہا کرتے تھے کہ "نا مرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے۔"
سوال: عید الاضحی 1900ء (حج کے دن) حضرت مسیح موعودؑ نے قادیان میں دن کس طرح گزارنے کا ارشاد فرمایا؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ "میں یہ حج کا دن خاص دعاؤں میں گزارنا چاہتا ہوں" اور حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ کے ذریعے لوگوں سے دعا کی درخواستیں لکھوا کر خاص دعاؤں اور تضرعات میں دن گزارا۔
سوال: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے کن دو مرحومین کا ذکر خیر فرمایا ؟
جواب:1) مکرمہ امۃ الشریف صاحبہ (اہلیہ محمود احمد بٹ صاحب، ڈیریاں والا۔ نارووال)
2)مکرم شیخ بشیر احمد صاحب (لاہور)
سوال: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے کن کے بارہ میں فرمایا کہ ’’میں نے بھی دیکھا ہے، بڑے عاجز انسان تھے اور بڑی عاجزی سے ہر ایک سے ملنے والے تھے۔‘‘
جواب:حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزيز نے یہ الفاظ مکرم شیخ بشیر احمد صاحب (لاہور) مرحوم کے بارہ میں فرمائے ہیں۔