اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-20

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍ اکتوبر 2007ءبطر زسوال و جواب

سوال:خطبہ کے آغاز میں حضور انور نے سورۃ الجمعہ کی کن آیات کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے سورۃ الجمعہ کی آیات 10 تا 12 کی تلاوت فرمائی۔
سوال: عامۃ المسلمین میں رمضان کے آخری جمعہ کے حوالے سے کیا غلط تصور پایا جاتا ہے؟
جواب: میڈیا کے اس غلط انداز نے رمضان کے اس آخری جمعہ کے بارہ میں یہ غلط تصورپیدا کر دیا ہے کہ چاہے سارا سال نماز یں بھی نہ پڑھو، جمعہ بھی نہ پڑھو، صرف جمعۃ الوداع پر جاکر جمعہ پڑھ لو تو تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
سوال: حدیث میں پانچ نمازوں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ اور رمضان سے اگلے رمضان کے کفارہ بننے کی کیا شرط بیان کی گئی ہے؟
جواب: حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اگر انسان کبائر گناہ سے بچے تو پانچ نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اور رمضان سے اگلا رمضان ان دونوں کے درمیان ہونے وا لی لغزشوں کا کفارہ بن جاتاہے۔
سوال: خطبہ میں کبائر گناہ (بڑے گناہوں) کی کیا مثالیں بیان کی گئی ہیں؟
جواب: دوسرے کے مال میں ناجائز تصرف، یتیموں کا مال کھانا، جو کام انسان خودنہیں کرتا دوسروں کو کہنا کہ یہ کرو، آپس میں دوگروہوں کو لڑا دینا، دو آ دمیوں کے تعلقات خراب کرکے فتنہ پیدا کرنا، اور دھوکے سے کسی کا مال کھانا کبائر گناہ میں شامل ہیں۔
سوال: سورۃ الجمعہ کی تلاوت کردہ آیات میں نمازِ جمعہ کے لیے بلائے جانے پر کیا حکم دیا گیا ہے؟
جواب: حکم دیا گیا ہے کہ جب جمعہ کے دن نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔
سوال: نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد انسان کو کیا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے؟
جواب: ہدایت دی گئی ہے کہ جب نماز ادا کی جاچکی ہو تو زمین میں منتشر ہو جاؤ اور اللہ کے فضل میں سے کچھ تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
سوال: جمعہ کے دن کی اس خاص گھڑی کے بارے میں حدیث میں کیا بیان ہوا ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے؟
جواب: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں ایک مسلمان اللہ تعالیٰ سے نماز پڑھتے ہوئے جو بھی بھلائی مانگتاہے، اللہ تعالیٰ اس کو وہ عطا کر دیتاہے اور وہ گھڑی اور وقت بہت مختصر ہے۔
سوال: باجماعت جمعہ ادا کرنا کن لوگوں پر واجب نہیں ہے؟
جواب: ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ جمعہ ادا کرنا ایسا حق ہے جو واجب ہے، سوائے غلام، عورت، بچے اور مریض کے۔
سوال: بغیر کسی وجہ کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں حدیث میں کیا انذار فرمایا گیا ہے؟
جواب: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایاکہ جس کسی نے بلا وجہ جمعہ چھوڑا وہ اعمال نامے میں منافق لکھاجائے گا جسے نہ تو مٹایا جاسکے گا اور نہ ہی تبدیل کیا جاسکے گا۔
سوال: جو شخص لہو ولعب اور تجارت کی وجہ سے جمعہ سے لاپرواہی برتتا ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کیا سلوک ہوتا ہے؟
جواب: حدیث کے مطابق جس شخص نے لہو ولعب اور تجارت کی وجہ سے جمعہ سے لاپرواہی برتی، اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے پرواہی کا سلوک کر ے گا۔
سوال: جمعہ کی نماز سے پیچھے رہنے والے کے بارے میں جنت کے حوالے سے کیا روایت آئی ہے؟
جواب: روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتاہے حالانکہ وہ جنت کا اہل ہوتاہے۔
سوال: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی حدیث میں آنحضرتﷺ نے جمعہ چھوڑنے والوں کے متعلق اپنی کس کیفیت کا اظہار فرمایا؟
جواب: آپؐ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو جمعہ چھوڑتے ہیں ان کے متعلق میرا دل چاہتاہے کہ مَیں کسی اور شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور مَیں جمعہ سے پیچھے رہنے والوں کے گھروں کوآگ لگا دوں۔
سوال: اس زمانے میں احمدی کے لیے سورۃ الجمعہ میںحضرت مسیح موعودؑ کے حوالے سے کیا پیغام ہے؟
جواب: یہ زمانہ آنحضرتﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اور اللہ تعالیٰ کی اس سورۃ یعنی سورۃ الجمعہ میں اترے ہوئے احکامات کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ ہے، جنہوں نے ایک جماعت بنانے کے لئے، مسلمانوں کو جمع کر نے کے لئے، انہیں جمعہ کی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے آواز دینی تھی۔
سوال: بیعت کا دعویٰ کب بے فائدہ ہو جاتا ہے؟
جواب: اگر ہمارے جمعوں میں باقاعدگی نہیں، اگر ہمارے جمعوں میں ایک خاص توجہ نہیں تو ہماری بیعت کا دعویٰ بھی بے فائدہ ہے۔
سوال: بیویوں اور عورتوں کی اپنے خاوندوں اور بچوں کے لیے لکھے جانے والے خطوط کا خطبہ میں کیا ذکر ہے؟
جواب: بعض بیویاں، بعض عورتیں اپنے خاوندوں کے بارہ میں دعا کے لئے لکھتی ہیں کہ دعا کریں کہ انہیں نمازوں میں باقاعدگی کی طرف توجہ پیدا ہوجائے، انہیں جمعوں میں باقاعدگی کی طرف توجہ پیدا ہوجائے، جس سے خوشی بھی ہوتی ہے لیکن ان خاوندوں کی، ان باپوں کی اصلاح نہ ہونے کی صورت میں ان کے بچوں کی تربیت کی فکر بھی ہوتی ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق اتمامِ نعمت کی دو صورتیں کون سی ہیں؟
جواب: اتمام نعمت کی صورتیں دراصل دو ہیں۔ اوّل تکمیل ہدایت، دو م تکمیل اشاعت ہدایت۔
سوال: تکمیلِ اشاعتِ ہدایت کا زمانہ کون سا ہے؟
جواب: تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ دوسرا زمانہ ہےجبکہ آنحضرتﷺ برو زی رنگ میں ظہور فرماویں گے اور وہ زمانہ مسیح موعود اور مہدی کا زمانہ ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے زمانے میں اشاعتِ ہدایت کے کون سے ذرائع کا ذکر فرمایا ہے؟
جواب: آپؑ نے پریس کی طاقت سے کتابوں کی اشاعت اور طبع، ڈاکخانوں، اخباروں، اور ریلوں کے ذریعہ سے سفر آسان ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔
سوال: موجودہ دور میں تبلیغ اور اشاعت کے کام میں کن جدید وسائل نے مزید وسعت پیدا کی ہے؟
جواب: سیٹلائٹ، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نے اس میں مزید وسعت پیدا کردی ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام کی تائیدات کے طورپر ایم ٹی اے اور انٹرنیٹ بھی آپ کو مہیا فرما دیاہے جس کے ذریعہ سے تبلیغ کا کام ہو رہاہے۔
سوال: خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے کس فدائی کارکن کی وفات کا ذکر فرمایا اور ان کی کیا خدمات بیان فرمائیں؟
جواب: حضور انور نے مکرم ملک خلیل الرحمن صاحب کا ذکر فرمایا، جو ایم ٹی اے پر خلفاء کے خطبات کا انگریزی ترجمہ کرتے رہے، اور قائد خدام الاحمدیہ، نیشنل سیکرٹری سمعی بصری، سیکرٹری تعلیم، ریجنل ناظم انصار اللہ، صدر جماعت ریڈنگ اور پریس سیکرٹری یوکے کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔