سوال : اللہ تعالیٰ کی صفت قدوس کے لغوی معنی کیا ہیں؟
جواب:حضور انو رنے فرمایا: قدوس کا مطلب ہے پاک اور ہر قسم کے عیب سے منزہ، تمام خوبیاں اور برکات کا مجموعہ، ہر لحاظ سے بے عیب ہستی۔
سوال :تاج العروس، مفردات امام راغب،اور اقرب الموارد میں قدوس کے معنی کیا بیان کیے گئے ہیں؟
جواب:حضور انو رنے فرمایا: تاج العروس: الطاہر (تمام عیوب سے پاک)، المبارک (ہر قسم کی برکت والا)، التقدیس (پاک اور بے عیب قرار دینا)۔
مفردات امام راغب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی پاکیزگی، نفس انسانی کی تطہیر۔
اقرب الموارد: ہر لحاظ سے پاک اور عیب سے منزہ، ہر قسم کی پاکیزگی اور برکت۔
سوال : حضرت مصلح موعودؓ نے صفت قدوس کے کیا معنی بیان کیے؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا: قدوس تمام پاکیزگیوں کا جامع ہے؛ اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر عیب سے پاک ہے بلکہ تمام خوبیاں بھی اس میں موجود ہیں، اور انسانی عقل ان سب کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتی۔
سوال : وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ کا معنی کیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ کے معنی ہیں: اے اللہ! ہم تجھے ہر عیب اور نقص سے پاک قرار دیتے ہیں اور تجھ میں موجود ہر عظمت و پاکیزگی کا اقرار کرتے ہیں، اور اپنی عبادت کے ذریعے تیری رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوال : علامہ فخرالدین رازی نے اس آیت کے متعلق کیا وضاحت دی؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا:فرشتوں نے فساد کو انسانوں کی طرف منسوب کیا، اللہ تعالیٰ کو نہیں۔ تسبیح اور تقدیس سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات اور افعال کو ہر عیب سے پاک اور بلند قرار دینا ہے۔
سوال : حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓنے قدوسیت کے بارے میں کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا: قرآن کی صحیح تفسیر کے لیے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کو مدنظر رکھیں؛ کوئی معنی ایسے نہ کئے جائیں جو اللہ کی بے عیبی پر حرف لائیں۔
سوال : اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کا مومن کے لیے کیا اثر ہے؟
جواب:حضور انو رنے فرمایا: مومن اس وقت قدوس ذات سے فیض پاتا ہے جب وہ اپنے قول و فعل میں پاکیزگی پیدا کرے، نفس کی اصلاح کرے اور عبادات میں ترقی کرے۔
سوال : فرشتوں اور آدم علیہ السلام کے تعلق سے قدوسیت کی وضاحت کیا ہے؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا:فرشتوں نے فساد دیکھ کر خوف ظاہر کیا، مگر اللہ تعالیٰ نے انسان کو شریعت کے تابع کر کے اسے نیکیوں میں بڑھنے والا بنایا تاکہ وہ قدوس ذات کے فیض سے مستفید ہو۔
سوال: رسول اللہ ﷺ کی قوت قدسیہ اور قدوسیت کا تعلق کیا ہے؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا:رسول اللہ ﷺ کی تاثیرات انسانوں کو پاک کرتی ہیں، ان کے ہاتھ میں آ کر انسان عالم اور نیک عمل بن جاتا ہے، اور قدوس خدا کی صفات کا فیض حاصل کرتا ہے۔
سوال : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قدوسیت اور قرآن کی تاثیرات کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضور انو رنے فرمایا: قرآن کی تعلیم اور رسول ﷺ کی تاثیرات آج بھی جاری ہیں؛ جو اس طرف بڑھتا ہے وہ پاک اور نیک عمل بن جاتا ہے اور قدوس ذات کے فیض سے مستفید ہوتا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفت قدوس کی بنیادی تعریف کیا ہے؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا:ہر عیب سے پاک، ہر خوبی کا حامل، تمام پاکیزگیوں کا جامع، ہر لحاظ سے بے عیب ہستی۔
سوال:قدوسیت میں کونسی خصوصیات شامل ہیں؟
جواب :حضور انو رنے فرمایا: قدوسیت میںالطاہر (عیوب سے پاک)، المبارک (ہر قسم کی برکت والا)، التقدیس (پاک و بے عیب قرار دینا)، ہر خوبی اور ہر صفا جمع ہونا شامل ہیں۔
سوال: وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ کا مفہوم کیا ہے؟
جواب:حضور انو رنے فرمایا:ہم اللہ تعالیٰ کی ہر عظمت کا اقرار کرتے ہیں اور ہر عیب سے پاک قرار دیتے ہیں، اپنی عبادت کے ذریعے تیری رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوال: قدوسیت کا مومن پر کیا اثر ہے؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا:مومن اپنی نفس کی اصلاح کرے، عبادات اور اعمال میں پاکیزگی پیدا کرے، تب ہی وہ قدوس ذات کے فیض سے مستفید ہو سکتا ہے۔
سوال: فرشتوں نے انسان کی تخلیق پر اعتراض کیوں کیا؟
جواب:حضور انو رنے فرمایا: فرشتوں نے فساد اور گناہوں کا خوف ظاہر کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ انسان شریعت کے تابع ہوگا اور نیک عمل کے ذریعے قدوس ذات کے فیض کا حصہ بنے گا۔
سوال: رسول اللہ ﷺ کی قوت قدسیہ قدوسیت سے کیسے مربوط ہے؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا:رسول ﷺ کی تاثیر انسانوں کو پاک کرتی ہے، ان کے ہاتھ میں آ کر انسان عالم اور نیک عمل بن جاتا ہے، اور قدوس خدا کے فیض سے مستفید ہوتا ہے۔
سوال: قرآن اور رسول ﷺ کی تاثیرات آج بھی کیوں موجود ہیں؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا:قرآن کی تعلیم اور رسول ﷺ کی تاثیرات ہمیشہ جاری ہیں؛ جو اس کی طرف بڑھتا ہے، وہ پاک، نیک اور قدوس ذات کے فیض سے مالا مال ہوتا ہے۔
سوال: قدوسیت کے اثرات کی عملی علامت کیا ہے؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا:انسان کے قول و فعل، کردار، عبادات اور نیکیوں میں صفائی اور پاکیزگی پیدا ہونا۔
سوال: قدوسیت اور اسلامی تعلیمات کی پیروی کا کیا تعلق ہے؟
جواب: حضور انو رنے فرمایا:جو شخص قدوس خدا کی صفت پر یقین رکھتا ہے، وہ قرآن و سنت اور خلفائے معصومین کی تعلیمات کے مطابق عمل کرتا ہے اور اپنے اعمال کو پاکیزہ بناتا ہے۔
سوال: حضرت مصلح موعودؓ کا مومن کے لیے نصیحت کیا ہے؟
جواب:حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا: اپنی اندرونی اصلاح اور پاکیزگی پیدا کرو، اپنے قول و فعل میں قدوس ذات کی صفات کا عکس دکھاؤ تاکہ عبادت اور قرب الٰہی حاصل ہو۔