سوال: گذشتہ جمعہ جس ’’تین بڑے بتوں‘‘ کا ذکر کیا گیا تھا، انکے کیا نام ہیں اور ان کو کب مسمار کیا گیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یہ تین بت مَنَاة ، عُزّٰی اور سُوَاع تھے جنہیں رمضان 8 ہجری میں مختلف صحابہ کے ذریعہ مسمار کیا گیا۔
سوال: بت ’’مَنَاة‘‘ کو توڑنے کے لیے کس صحابی کو بھیجا گیا؟
جواب: حضرت سعد بن زید اَشھلیؓ کو بیس سواروں کے ساتھمَنَاة کے انہدام کے لیے بھیجا گیا۔
سوال: کیا مَنَاة کے مجاور کے قتل کی روایت درست ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا کہ اس روایت میں کمزوریاں ہیں۔ ممکن ہے مجاور مقابلہ کے دوران مارا گیا ہو، کیونکہ صرف بددعا دینے پر قتل کرنا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔
سوال: حضرت خالد بن ولیدؓ کو کس بت کے خاتمے کے لیے بھیجا گیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپؓ کو نخلہ کے مقام پر موجود قریش کے بڑے بت عُزّٰی کو گرانے کے لیے بھیجا گیا۔
سوال: حضرت خالدؓ پہلی بار عُزّٰی کو گرا کر واپس آئے تو نبی کریمؐ نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جب حضرت خالدؓ پہلی بار عُزّٰی کو گرا کر واپس آئے تو نبی کریمؐ نے فرمایا :’’کیا تم نے کوئی خاص چیز دیکھی؟‘‘جب نفی میں جواب ملا تو فرمایا:’’تم نے عُزّٰی کو ختم نہیں کیا، دوبارہ جاؤ۔‘‘
سوال: بت ’’سُوَاع‘‘ کا انہدام کس نے کیا؟
جواب: حضرت عمرو بن عاصؓ نے۔انہوں نے مجاور سے کہا کہ یہ بت نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے، پھر اسے توڑ دیا۔
سوال: سُوَاع کے مجاور کا ردّعمل کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: بت کے ٹوٹنے کے بعد وہ فوراً بول اٹھا’’میں اللہ کی اطاعت کرتا ہوں اور اسلام قبول کرتا ہوں‘‘۔
سوال: بنو جَذِیمہ کے واقعہ میں حضرت خالدؓ کو کس کام کے لیے بھیجا گیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بنو جَذِیمہ کے واقعہ میں حضرت خالدؓ کو صرف دعوتِ اسلام کے لیے بھیجا تھا نہ کہ جنگ کیلئے۔ یہ آنحضرتؐ کی واضح ہدایت تھی۔
سوال: بنو جَذِیمہ نے ہتھیار کیوں اٹھائے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: انہیں ظن ہوا کہ کوئی دشمن قبیلہ آ گیا ہے، اس لیے حفاظتی طور پر ہتھیار اٹھائے تھے۔
سوال: ’’صَبَأْنَا صَبَأْنَا‘‘ کے الفاظ کا کیا مطلب ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اس کا مطلب ہے: ’’ہم نے اپنا دین بدل لیا‘‘۔یہ الفاظ حضرت خالدؓ کے لیے غلط فہمی کا باعث بنے۔
سوال:کیا فتحِ مکّہ کے بعد تمام بت ایک ہی وقت میں توڑے گئے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:نہیں، مختلف علاقوں میں موجود بتوں کے لیے مختلف صحابہؓ کو الگ الگ اوقات میں بھیجا گیا۔ کچھ بت فوراً توڑ دیے گئے، جبکہ بعض مقامات پر حالات کے مطابق بعد میں کارروائی ہوئی۔
سوال:بت شکنی کا اصل مقصد کیا تھا؟
جواب:حضو انور نے فرمایا:بت شکنی کا مقصد لوگوں کے دلوں سے باطل کا خوف ختم کرنا، توحید کا غلبہ قائم کرنا اور معاشرے کو شرک سے پاک کرنا تھا—نہ کہ لوگوں کی تذلیل یا طاقت کا ناجائز اظہار۔
سوال:بنو ملیح کے قبیلے کے واقعہ سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب:اگر لوگوں کے دل ابھی آمادہ نہ ہوں، تو اسلامی دعوت زبردستی نہیں ہو سکتی۔ اسلام اصلاح چاہتا ہے، جلد بازی نہیں۔
سوال:رسول اللہ ﷺ کا مختلف قبائل کے ساتھ معاملہ کس اصول پر مبنی تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ کا مختلف قبائل کے ساتھ عدل، حکمت، امن اور تدریج کا معاملہ تھا۔ آپ ﷺ ہر قبیلے کے مزاج اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ فرماتے۔
سوال:کیا ان مہمات میں عام جنگ یا خونریزی ہوتی تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا ان مہمات میں عام جنگ یا خونریزی نہیں ہوتی تھی، یہ چھوٹی چھوٹی اصلاحی کارروائیاں تھیں، جن میں تقریباً کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سوال:اسلام نے جس ’’بت پرستی‘‘ کا خاتمہ کیا، وہ کس قسم کی تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:پتھر، درخت، جنات، ستارے اور قبر پرستی سمیت ہر اس عقیدے کا جو اللہ کی وحدانیت کے خلاف ہو اور انسان کو خوف یا جھوٹے سہاروں میں مبتلا کرے۔
سوال:رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بتوں کے انہدام سے لوگوں کے دلوں میں کیا تبدیلی آئی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:لوگوں کے دلوں سے جھوٹے خداؤں اور خود ساختہ خدائی نظاموں کا خوف دور ہوگیا، جرأت، حوصلہ اور حقیقی توکل پیدا ہوا، اور وہ اللہ کے قریب ہوگئے۔
سوال:حضور انور نے صحابہؓ کے واقعات بیان کرتے وقت کس چیز پر زور دیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا : اصل معیار ’’سیرت النبی ﷺ کی روش‘‘ ہے۔ ہر روایت صرف اسی وقت قبول ہوگی جب وہ قرآن، صحیح سیرت اور حضور ﷺ کے بلند اخلاق کے مطابق ہو۔
سوال:بعض روایات میں آتا ہے کہ بت توڑتے وقت عجیب آوازیں یا چیزیں ظاہر ہوئیں—ان کی حقیقت کیا ہے؟
جواب:حضور انور نے وضاحت فرمائی کہ اکثر ایسی روایات غیر معتبر یا اضافہ شدہ ہیں۔ اسلام خرافات اور غیر حقیقی قصے بیان نہیں کرتا۔