اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-11

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ13اپریل 2007 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ الانفال کی آیت نمبر 3 تا 4 کی تلاوت فرمائی:اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے مومن کی کیا نشانی بتائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے مومن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ جب بھی خداتعالیٰ کے حوالے سے ان کے سامنے کوئی بات رکھی جائے، کوئی نصیحت کی جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ اس نصیحت کا ان پر اثر ہوتا ہے اور یہ نصیحت ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے آیت قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سرًّا وَّ عَلَانِیَۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خِلٰلٌ کے مطابق، نماز اور مالی قربانی کی کیا اہمیت ہے اسی طرح اس آیت میں نماز اور صدقہ دینے کے بارے میں کس طرح کی ہدایات دی گئی ہیں؟
جواب: نمازوں اور مالی قربانی کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ ایک مومن روح اور نفس کی پاکیزگی کے سامان
پیدا کرے۔ ایک جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سرًّا وَّ عَلَانِیَۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خِلٰلٌ۔تو میرے ان بندوں سے کہہ دے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز کو قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطاکیا ہے اس میں سے مخفی طور پر بھی اور اعلانیہ طور پر بھی خرچ کریں، پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں کوئی خرید و فروخت نہیں ہو گی اور نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔
سوال: کفر اور صلوٰۃ کے درمیان فرق کرنے والی کیا چیز ہے؟
جواب: حضو انور نے فرمایا:آنحضرتﷺ سے ایک روایت ہے آپؐ نے فرمایا کہ بَیْنَ الْکُفْرِ وَالْاِیْمَانِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِکہ کفر اور صلوٰۃ کے درمیان فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔
سوال:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے سوال پر نبی کریم ﷺ نے کون کون سے اعمال کو افضل قرار دیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ سے پوچھا، کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے عرض کی اس کے بعد کون سا ؟ آپؐ نے فرمایا: ماں باپ سے نیک سلوک کرنا۔ پھر میں نے عرض کی کہ اس کے بعد کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے پوری پوری کوشش کرنا۔
سوال:قیامت کے دن بندوں سے سب سے پہلے کس عمل کا حساب لیا جائے گا، اور اگر فرض عبادات میں کمی پائی جائے تو اس کمی کو کس طرح پورا کیا جائے گا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور اس نے نجات پائی۔ اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔ اگر اس کے فرضوں میں کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں ؟ا گر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی نوافل کے ذریعہ پوری کر دی جائے گی۔ اسی طرح اس کے باقی اعمال کا معائنہ ہو گا اور ان کا جائزہ لیاجائے گا۔
سوال: حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نماز کی صفیں سیدھی کرنے پر کیوں زور دیتے تھے، اور صفوں کی درست ترتیب مسلمانوں کے باہمی تعلقات اور اتحاد پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں آنحضرتﷺ نمازوں کی صفوں کو سیدھا کرنے کے لئے ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اور فرماتے صفیں سیدھی بناؤ اور آگے پیچھے نہ ہو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف بھر جائے گا۔ میرے قریب زیادہ علم والے سمجھدار لوگ کھڑے ہوں پھر وہ لوگ جو رتبے میں ان سے قریب ہوں۔ پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہوں۔ تو صفیں سیدھی کرنے کی بڑی اہمیت ہے۔ آپس میں تعلقات کے لئے بھی اور ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے کے لئے بھی۔
سوال: ہر احمدی کس صورت میں خلافت کے انعام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
جواب: حضو انور نے فرمایا:ہر احمدی کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا، جو خلافت کی صورت میں جاری ہے، فائدہ تب اٹھا سکیں گے جب اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نماز کی اہمیت اور دیگر خود ساختہ وظائف کے مقابلے میں اس کی فضیلت کے بارے میں کیا تعلیم دیتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نمازوں کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے، استغفار ہے اور دردو شریف۔ تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے۔ اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے اَلَابِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب۔ اطمینان، سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر او رکوئی ذریعہ نہیں۔ لوگوں نے قسم قسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرتﷺ کی شریعت کے مقابل میں بنا دی ہوئی ہے۔ مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ مَیں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان وظائف اور اور اد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑبیٹھے ہیں۔ بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اور اد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے (حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح الاول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے سنا ہے) کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔ میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔ نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یاد الٰہی کا ذریعہ ہے اس لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ