سوال:فتح مکہ کے فوراً بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتوں کے ٹھکانوں کو مسمار کرنے کا کیا مقصد بیان فرمایا تھا، اور اس فیصلہ کے کیا مثبت اور بابرکت نتائج ظاہر ہوئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:فتح مکہ کے فوراً بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتوں کے ٹھکانوں کو مسمار کرنے کا ارشاد فرمایا تا کہ لوگوں کے دلوں سے ان کے فرضی خوف اور عظمت کا خیال جاتا رہے اور یہ پُرحکمت فیصلہ بہت بابرکت ثابت ہوا کیونکہ ان کے انہدام سے لوگوں کے دلوں میں ان کا جھوٹا خوف اور رعب جاتا رہا اور ان کو یقین ہونے لگا کہ اس خدائے واحد و یگانہ کا تصور ہی صحیح ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ہے۔
سوال:سردارانِ قریش میں سے اسلام قبول کرنے والوں میں سُہیل بن عمرو کی کون سی نمایاں نیکیوں اور عبادات نے اُنہیں دوسروں سے ممتاز کر دیا تھا؟
جواب:سردارانِ قریش میں سے اسلام قبول کرنے والوں میں سب سے زیادہ نماز روزے کے پابند اور صدقہ دینے میں سُہیل سے بڑھ کر اَور کوئی نہ تھا۔ کثرت سے گریہ و بکا کرنے والے تھے۔ قرآن پڑھتے وقت اکثر رویا کرتے تھے۔
سوال:فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کرنے والے روسائے مکہ نے اپنی بعد کی زندگیوں میں کس طرح کا روحانی انقلاب پیدا کیا تھا؟
جواب: حضور انو نے فرمایا:فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کرنے والے رؤسائےمکہ کی اکثریت نے بعد میں اپنی زندگیوں میں ایک زبردست روحانی انقلاب پیدا کیا تھا۔
سوال:وحشی بن حرب نے غزوۂ احد کے بعد کہاں پناہ لی تھی، اور اس نے کس موقع پر واپس آ کر اسلام قبول کیا؟
جواب: حضو انور نے فرمایا: وحشی بن حرب نے غزوۂ احد میں حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا اور فتح مکہ کے بعد طائف بھاگ گیا۔ جب اہل طائف نے اسلام قبول کیا تو یہ بھی آیا اور اسلام قبول کر لیا۔
سوال:وحشی بن حرب نے اسلام قبول کیسے کیا اور بعد میں مسیلمہ کذاب کے قتل میں کیا کردار ادا کیا؟
جواب: حضو انور نے فرمایا:وحشی بن حرب نے بتایا کہ اسلام پھیلنے پر وہ طائف چلا گیا، پھر ایلچیوں کے ساتھ واپس آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔ آپؐ نے صرف اسے چہرہ نہ دکھانے کی ہدایت فرمائی۔ رسول اللہؐ کے وصال کے بعد، وحشی نے مسیلمہ کذاب کو قتل کر کے حضرت حمزہؓکی شہادت کا بدلہ چکانے کی کوشش کی اور جنگ میں اپنی برچھی سے اسے مار گرایا، جس پر ایک انصاری نے تلوار کا وار کر کے اسے ختم کر دیا۔
سوال:فتحِ مکہ سے قبل سارہ نامی لونڈی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیشی اور بعد ازاں اس کے طرزِ عمل کے بارے میں کیا واقعات بیان ہوئے ہیں، اور اس نے بعد میں کیا انجام پایا؟
جواب:حضور انو نے فرمایا:عمرو بن ہاشم کی لونڈی سارہ فتح مکہ سے قبل آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپؐ سے کچھ مانگا اور محتاجی کا شکوہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نغمہ سرائی کو کیا ہوا تم تو بڑی گانا گایا کرتی تھی، پیسے کماتی تھی؟ اس نے کہا جب سے مشرکین کے سردار غزوہ بدر میں مارے گئے ہیں انہوں نے گانے سننے بند کر دیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک اونٹ غلہ عطا فرمایا پھر وہ قریش کے پاس آ گئی۔ ابن خَطَل اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہجویہ شعر بتاتا تھا اور یہ ان ہجویہ شعروں کو گاتی تھی۔ یہ انعام لینے کے باوجود بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئی اوریہ وہی تھی جس کے پاس حضرت حاطب کا خط ملا تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا اور حضرت عمرؓکی خلافت تک زندہ رہی۔
سوال:فتحِ مکہ کے موقع پر حضرت حارث بن ہشامؓ اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کس طرح حضرت امِّ ہانیؓ کی پناہ میں آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پناہ کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت حارث بن ہشام ؓکے اسلام قبول کرنے کے بارے میںلکھا ہے۔ یہ مکہ کا ایک ہر دلعزیز رئیس تھا اور ابوجہل کا باپ کی طرف سے بھائی تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓکی بہن اس کی بیوی تھی۔ فتح مکہ کے موقع پر یہ اور عبداللہ بن ابی ربیعہ حضرت ام ہانیؓ کے گھر داخل ہو گئے کیونکہ حضرت علیؓ ان کے پیچھے ان کو قتل کرنے کے لیے آ رہے تھے۔ حضرت ام ہانیؓ نے ان دونوں کو اپنے گھر میں چھپاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے ان کو پناہ دی ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی سے فرمایا۔ جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے پناہ دی۔
سوال:فتحِ مکہ کے بعد حارث بن ہشام نے کس طرح اسلام قبول کیا اور انہیں ہدایت کیسے نصیب ہوئی؟
جواب:حضو انور نے فرمایا:فتح مکہ کے بعد حارث بن ہشام ابتدا میں خوفزدہ تھے اور حضرت عمرؓ سے ڈرتے تھے، لیکن جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد حرام میں ملاقات کی اور کلمہ شہادت پڑھا، تو انہیں ہدایت نصیب ہوئی اور وہ اسلام قبول کرنے میں کامیاب ہوئے۔
سوال:حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے سُہَیل بن عمرو کے کس طرزِ عمل کو دیکھ کر صلحِ حدیبیہ کا واقعہ یاد کیا، اور انہوں نے اللہ کا شکر کیوں ادا کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے دیکھا کہ سُہَیل بن عمرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانور کی خدمت کر رہے تھے اور آپؐ کے کٹوائے ہوئے بال عقیدت سے اپنی آنکھوں سے لگا رہے تھے۔ اس منظر نے انہیں صلحِ حدیبیہ کا وقت یاد دلایا جب سُہَیل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اور ’’رسول اللہ‘‘ لکھنے سے روکتا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے سُہَیل کو ہدایت دی اور اسے اخلاص و وفا میں بہت آگے بڑھا دیا۔
سوال:فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ اور معتب کے بارے میں کیا پوچھا، اور ان کے اسلام قبول کرنے پر کس طرح خوشی کا اظہار فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:فتحِ مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباسؓ سے اپنے چچا ابو لہب کے بیٹوں عتبہ اور معتب کے بارے میں پوچھا اور انہیں اپنے پاس لانے کا فرمایا۔ حضرت عباسؓ انہیں عُرنہ سے لائے۔ آپؐ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، انہوں نے بیعت کر لی۔ پھر آپؐ انہیں ملتزم پر لے گئے اور دعا کی۔ ان کے اسلام قبول کرنے پر آپؐ کے چہرے پر خوشی کے اثرات نمایاں تھے، اور آپؐ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنے چچا کے ان دونوں بیٹوں کی ہدایت مانگی تھی جو اللہ نے پوری فرما دی۔