سوال: حضور انور نے صفت مالکیت کے لحاظ سے کون سی احادیث بیان فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے سنا تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے۔ امام نگران ہے اور وہ اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے۔ آدمی اپنے گھروالوں پر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ خادم اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
سوال:اس حدیث میں کن چار لوگوں کو توجہ دلائی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس حدیث میں چار لوگوں کو توجہ دلائی گئی ہے۔ ایک امام کوکہ وہ اپنی رعیت کا خیال رکھے۔ ایک گھر کے سربراہ کو کہ وہ اپنے بیوی بچوں یا اگر اپنے خاندان کا سربراہ ہے تو اس کا خیال رکھے۔ ایک عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے ان کا خیال رکھے۔ ایک خاد م جو اپنے مالک کے مال کا نگران ہے۔ پھر آخر میں فرمایا کہ یہ سب لوگ جن کے سپرد یہ ذمہ داری کی گئی ہے، یہ سب یاد رکھیں کہ جو مالک کُل ہے، جو زمین و آسمان کا مالک ہے جس نے یہ ذمہ داریاں تمہارے سپرد کی ہیں وہ تم سے ان ذمہ
داریوں کے بارے میں پوچھے گا کہ صحیح طرح ادا کی گئی ہیں یا نہیں کی گئیں۔ جس دن وہ مالک یوم الدین جزا اور سزا کے فیصلے کرے گا اس دن یہ سب لوگ جوابدہ ہوں گے۔ اس لئے کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ دل دہل جاتا ہے ہر اس شخص کا جو جزا سزا پر یقین رکھتا ہے۔
سوال:کس نکتہ کو ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس نکتہ کو ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے کہ جہاں امام کی ذمہ داری ہے کہ انصاف قائم کرے اور اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق جماعت کی تربیت کی طرف توجہ دے، ان کی تکلیفوں کو دور کرنے کی کوشش کرے، ان کے لئے دعائیں کرے وہاں افراد جماعت کو بھی اس احساس کو اپنے اندر قائم کرنا ہو گا کہ اگر ہمیں خلافت سے محبت ہے تو ہم بھی اپنی حالتوں کو دیکھیں اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس نہج پر چلانے کی کوشش کریں جس پر خدا اور رسول کے حکموں کے مطابق ہماری زندگی چلنی چاہئے یا جس طرف ہمیں خلیفۂ وقت چلانا چاہتا ہے۔
سوال:جماعت کو کیسے عہدیداروں منتخب کرنے چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جماعت کا کام ہے کہ ایسے عہدیداروں کو منتخب کریں جو اس کے اہل ہوں اور ذاتی رشتوں اور تعلقات اور برادریوں کے چکر میں نہ پڑیں۔ اور اسی طرح خلیفۂ وقت کی نمائندگی میں عہدیداروں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ان
افراد جماعت کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے (جیسا کہ میں نے پہلے کہا) جن پر اعتماد کرتے ہوئے بہترین عہدیدار منتخب کرنے کا کام سپرد کیا گیا ہے اور مالک کے مال کی نگرانی یہی ہے جو ہر فرد جماعت نے، جس کو رائے دینے کا حق دیا گیا ہے کرنی ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے بیوی کو کس طرف توجہ دلائی ہے اس تعلق سے حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے بیوی کو توجہ دلائی کہ خاوند کے گھر کی، اس کی عزت کی، اس کے مال کی اور اس کی اولاد کی صحیح نگرانی کرے۔ اس کا رہن سہن، رکھ رکھاؤ ایسا ہو کہ کسی کو اس کی طرف انگلی اٹھانے کی جرأت نہ ہو۔ خاوند کا مال صحیح خرچ ہو۔ بعضوں کو عادت ہوتی ہے بلا وجہ مال لوٹاتی رہتی ہیں یا اپنے فیشنوں یا غیر ضروری اشیاء پر خرچ کرتی ہیں ان سے پرہیز کریں۔ بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں ہو کہ انہیں جماعت سے وابستگی اور خلافت سے وابستگی کا احساس ہو۔ اپنی ذمہ داری کا احسا س ہو۔ پڑھائی کا احساس ہو۔ اعلیٰ اخلاق کے اظہار کا احساس ہو تاکہ خاوند کبھی یہ شکوہ نہ کرے کہ میری بیوی میری غیر حاضری میں اپنی ذمہ داریاں صحیح اد انہیں کر رہی۔
سوال:اللہ تعالیٰ کے حساب سے بچنے کے لئے ایک خوفزدہ شخص کی مثال حدیث میں کیا بیان کی گئی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے حساب سے بچنے کے لئے ایک خوفزدہ شخص کی مثال حدیث میں یوں دی گئی ہے کہ ایک روایت میں آتا ہے :۔حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ایک شخص کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے ایک شخص تھا جسے اللہ نے مال اور اولاد عطا کی تھی۔ جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا میں تمہارے لئے کیسا باپ رہا ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ سب سے بہتر باپ۔ اس نے کہا لیکن میں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں چھوڑی اور جب میں اللہ کے حضور پیش ہوں گا تو مجھے عذاب دے گا۔ اس لئے دھیان سے سنو کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور جب میں کوئلہ بن جاؤں مجھے پیس دینا اور پھر اس طرح پیسنا کہ راکھ اتنی باریک ہو کہ جو ہلکی سی ہوا سے بھی اڑنے والی ہوتی ہے اور پھر کہا کہ جب شدید آندھی چلے تو میری راکھ کو اس میں اڑا دینا اور اس نے اس بات کا پختہ عہد لیا۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ میرے رب کی قسم انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ نے اس راکھ کو، اس کو جو ہوا میں اڑائی گئی تھی کہا کہ تو ہو جا تو وہ مجسم شخص کی صورت میں کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس راکھ کو اکٹھا کیا اور مجسم بنا دیا۔ پھر اللہ نے پوچھا اے میرے بندے! کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر اکسایا تھا۔ اس نے کہا تیرے خوف نے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کی تلافی اس پر رحم کرتے ہوئے کی۔
سوال:مالک کے مال کی نگرانی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مالک کے مال کی نگرانی کے بارے میں بھی ہر شخص پوچھا جائے گا۔ اس کی کچھ مثال تو میں نے پہلے دے دی ہے، ایک تو ظاہری طور پر جو کسی کی ذمہ داریاں ہیں اگر وہ ادا نہیں کر رہا تو مال کی نگرانی نہیں کر رہا۔ ہر پیشہ کا آدمی اگر اپنے پیشہ سے انصاف نہیں کر رہا تو اس کے سپرد حکومت کی طرف سے یا جماعت کی طرف سے یا معاشرے کی طرف سے جو ذمہ داری کی گئی ہے اس نے اس کی ادائیگی نہیں کی اور وہ جہاں دنیاوی قانون اور قواعد کے لحاظ سے اس دنیا میں محکمانہ طور پر اس کا جوابدہ ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جوابدہ ہے۔ یا پھر روحانی نظام میں، جماعت کے نظام میں عہدیداران اور بڑے پیمانے پر امام تک بات پہنچتی ہے کہ جماعت کے افراد جو اللہ کامال ہیں ان کی تربیت کی طرف توجہ نہ دے کر صحیح طرح نگرانی نہیں کی گئی۔ اگر دنیاوی حکومتیں بھی یہ سمجھیں، دنیا کی نظر سے اگر دیکھیں تو ان کو بھی یہ احساس دلایا گیا ہے کہ جس مال کا بہترین مصرف بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رعایا کو، ملک کی آبادی کو تمہارے سپرد کیا تھا، ان کی ذمہ داریاں نہ نبھا کر، ان کے حقوق ادا نہ کرکے، ان کے تعلیمی اور دوسرے ترقیاتی مسائل پر توجہ نہ دے کر جو مالک کُل ہے اس کی طرف سے ودیعت کردہ ذمہ داری کا حق ادا نہیں کیا۔ اس لحاظ سے وہ بھی جوابدہ ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے احساس ذمہ داری کے ساتھ دعاؤں کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ سب کو، ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔