سوال:جلسہ سالانہ کی وجہ سے ایم ٹی اے نے کتنی تشہیر کی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایم ٹی اے نے اس دفعہ دنیا کے تقریباً چھپن ممالک میں ایک سو انیس مراکز کے ساتھ جلسہ کو جوڑا… یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے جو اس نے جماعت احمدیہ پر فرمایا ہےکہ ان نئی ایجادات کے ذریعہ تمام دنیا کے احمدیوں کو اکٹھا کر دیا ہے۔ اُمّت واحدہ بننے کا یہ نظارہ دنیا میں اَور کہیں نظر نہیں آتا۔
سوال:حضور انور نےشاملین جلسہ کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:یہاں یہ بات بھی سب شامل ہونے والوں کو یاد رکھنی چاہیے کہ جہاں وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں وہاں کام کرنے والے کارکنان کا بھی شکریہ ادا کریں۔ اس بات کا شکر کریں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے کام کرنے والوں کے کاموں میں آسانیاں پیدا کیں۔ ان کی مشکلات کو دُور کیا، ان کے ہر کام میں بہتری پیدا کرنے کی اور انہیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خدمت کرنے کی توفیق دی اور اس طرح شاملین کے لیے سہولت کے زیادہ سامان میسر ہوئے، بہتر سامان میسر ہوئے۔
سوال:اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارس بننے کیلئے کیا ضروری ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس کے شکرگزار بندے بنو اور جب تم شکر گزاری کرو گے تو میں تمہیں اپنے فضلوں سے اور زیادہ نوازوں گا اور زیادہ فضل تم پر برساؤں گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ (ابراہیم:8) کہ اگر تم شکر ادا کرو گے، شکرگزار بنو گے تو میں تمہیں اَور بھی زیادہ دوں گا۔ پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کامزید وارث بننے کے لیے شکرگزاری کی ضرورت ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ کیلئے شکر کا لفظ کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کے لیے شکر کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو وہ قدردانی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ شکرگزاروں کی قدر کرتا ہے اور اس قدر کے نتیجہ میں پھر اللہ تعالیٰ ان کو اَور نوازتا چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو مالک ہے اس نے بندوں کا شکریہ تو ادا نہیں کرنا بلکہ اس کا قدر کرنا ہی اس شکرگزاری کی قدر کرنا ہے جو بندے کر رہے ہیں۔ پس وہ علم بھی رکھتا ہے اور اسے پتہ ہے کہ کون حقیقی شکرگزار ہے۔ اگر شکرگزاری حقیقی ہو گی تو وہ مزید نوازتا چلا جائے گا۔ یہ صرف باتیں نہیں ہونی چاہئیں بلکہ شکرگزاری کا ایک جذبہ ہونا چاہیے اور یہ جذبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت میں بہت پیدا کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے بڑھاتا چلا جائے۔
سوال:اس سال جلسہ سالانہ کی کتنی حاضری تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سےچھیالیس ہزار سے اوپر حاضری تھی بلکہ لجنہ کی بعد کی جو رپورٹ ہے اس کے اندازے کےمطابق ان کی گنتی صحیح طرح شمار نہیں ہوئی اور انہوں نے بعد میں اپنی گنتی کی جو رپورٹ بھیجی ہے اس کو شامل کیا جائے تو مردوں اور عورتوں کو ملا کر کل تعداد پچاس ہزار بن جاتی ہے کیونکہ وہ کہتی ہیں ہم پچیس ہزار تھیں۔
سوال:اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے کاموں کی قدر کس طرح کرتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ان کاموں کی جو اس کی خاطر کیے جارہے ہوں اس قدر قدر کرتا ہے کہ فرماتا ہے ان کا شکریہ ادا کرو اور ہم سے بھی یہی چاہتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے شکرگزار بنیں تا کہ پھر ایک ایسا ماحول پیدا ہو جو مکمل طور پر شکرگزاری کا ماحول ہو جس میں ہر طرف سے شکرگزاری ہو رہی ہو اور یہی چیز ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔ یہ سب کام کرنے والے لوگ جیسا کہ میں نے کہا شکرگزاری کے مستحق ہیں۔ غیروں پر بھی اس کا بہت اثر ہے۔ ان کے جذبے کو دیکھ کر ان پر اثر ہوتا ہے۔
سوال:بیلجیم کے ایک مہمان نے اپنے کیا تاثرات بیان فرمائے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بیلجیم کے ایک مہمان HansNoot صاحب جو کہ انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر ڈبلیو ایف (HRWF) کے نمائندے ہیں جلسہ میں
شامل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ غیر معمولی اجتماع کا حصہ بننا میرے لیےحقیقی خوشی تھی۔ یہ محض ایک یادگار تجربہ ہی نہیں بلکہ آپ کی گرمجوشی اور عمدہ مہمان نوازی کے باعث یہ گہرے اثرات چھوڑنے والا تجربہ بن گیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ایک اجتماع کا انتظام جس میں ہزاروں افراد کئی دنوں تک شریک رہے یقیناً ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ رضا کاروں سے گفتگو کے دوران مجھے معلوم ہوا کس طرح ہر شعبہ کئی مہینے قبل سے تیاری کا آغاز کرتا ہے۔ ذمہ داریاں تفویض کی جاتی ہیں اور افراد کو نہایت واضح طریقے سے تربیت دی جاتی ہے۔ مجھے صرف انتظامی مہارت نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود اخلاقی بنیاد بھی متاثر کن لگی۔ تربیت دینے والے صرف ضوابط کی وضاحت نہیں کرتے بلکہ اللہ اور انسانیت کی خدمت عاجزی اور ہر مہمان کی عزت و تکریم جیسی اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ اقدار ہر ذمہ داری میں نمایاں تھیں۔ کارپارک میں راہنمائی کرنے والے، ٹائلٹس صاف کرنے والے، کھانا پیش کرنے والے، رجسٹریشن کرنے والے یا سیکیورٹی پر بیگز چیک کرنے والے ہر فرد نے اپنی ذمہ داری کو وقار اور شفقت سے ادا کیا۔ ایک غیر جماعتی مہمان کے طور پر میں نے انتہائی مربوط نظام دیکھا اور نہ ہی کسی بڑے مسئلے یا تصادم کا مشاہدہ یا ذکر سنا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی جماعت نے امن اور عدم تشدد کی عملی تربیت کو گہرائی سے اپنا لیا ہے۔ اور پھر یہ کہتے ہیں کہ جو نمایاں پہلو میں نے دیکھا وہ تعلیم اور فکری ترقی کے لیے آپ کی جماعت کی سنجیدگی ہے۔ جلسے کے دوران نمایاں کارکردگی کرنے والے طلبہ کے اعلان ہوئے اور یہ اقدام ذاتی ترقی اور علم کے احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ اور پھر یہ کہتے ہیں کہ جلسہ کے دوران میں نے بارہا حقیقی ہمدردی کے مظاہرے دیکھے۔ والدین کی اپنے بچوں سے شفقت، گروپ لیڈروں کا اپنی ٹیم کی خبرگیری، رضا کاروں کا ازخود مدد کے لیے آگے بڑھنا، مہمانوں سے چاہے اجنبی ہی کیوں نہ ہوں پوچھنا کہ آپ کی کیا خدمت کر سکتے ہیں؟ اور عمومی طور پر لوگ اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر خدمت کرتے نظر آئے اور پھر یہ کہتا ہے کہ یہ دیکھ کر میں خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوا کہ آپ کی جماعت روحانی تجدید اور فکری وسعت کے ساتھ وابستہ ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ آج بھی انسانوں سے کلام فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت کو چھوڑنہیںدیا بلکہ صالح قیادت اور الہام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔
سوال: کارکنوں کو کس بات پر شکرگزار ہونا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: کارکنوں کو بھی اس بات پر شکرگزار ہونا چاہیے کہ اگرچہ سارا سال انہیں تبلیغ یا جماعت کا پیغام پہنچانے کا اس طرح موقع نہیں ملتا جو اس کا حق ہے لیکن یہاں جلسے پر ڈیوٹیاں دیتے ہوئے ان کی ملاقات مختلف لوگوں سے ہوتی ہے۔ یہاں غیر بھی آتے ہیں۔ مختلف ممالک سے ایسے لوگ آتے ہیں جن کا جماعت سے ابتدائی تعارف ہوتا ہے اور وہ یہ دیکھنے آ رہے ہو تے ہیں کہ کیا واقعی یہ لوگ وہی ہیں جو یہ کہتے ہیں اور جب وہ ان کارکنوں کو جو مختلف پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں اس طرح کام کرتے دیکھتے ہیں اور ہر ایک عام مزدوروں والا کام کر رہا ہوتا ہے تو ان کو دیکھ کر ان پر اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ ایک خاموش تبلیغ ہے جس کا وہ اظہار بھی کر دیتے ہیں۔ اس اظہار کے چند نمونے پیش کروں گا کیونکہ بےشمار نمونے ہیں۔ بےشمار لوگ مجھے اپنی رائے بھیج رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح لوگوں کے دلوں پر اثر ڈالتا ہے۔ جہاں وہ جلسے کی تقریروں سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں وہاں ہمارے کارکنوں کے کاموں اور بچوں کے رویوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پس یہ خاموش تبلیغ اور اسلام کا حقیقی پیغام ہے جو جماعت احمدیہ کے ذریعہ لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔