سوال: اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لیے کیا قرار دیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں اور ہر معاملے میں اسوۂ حسنہ ہیں۔
سوال: محبتِ الٰہی اور عبادت کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
جواب: دونوں لازم و ملزوم ہیں، عبادت محبت الٰہی کے بغیر نہیں ہے اور محبت الٰہی عبادت کے بغیر نہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی محبت نہ ہو تو حقیقی عبادت ہو ہی نہیں سکتی۔
سوال: سورۃ الانعام کی آیت 163 میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی عبادت اور قربانی کے متعلق کیا بیان فرمایا ہے؟
جواب: قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔کہ تُو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔
سوال: سورۃ آل عمران کی آیت 32 کے مطابق اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ، یعنی لوگوں کو بتا دے کہ اگر میری اتباع کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکو گے۔
سوال: سورۃ الذاریات کی آیت 57 میں انسانی پیدائش کا کیا مقصد بیان کیا گیا ہے؟
جواب: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ، یعنی اور میں نے جنّ و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔
سوال: سورۃ البقرۃ کی آیت 22 میں تقویٰ حاصل کرنے کے لیے کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟
جواب: یٰۤاَیُّہَاالنَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ،کہ اے لوگو !تم اپنے ربّ کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
سوال: سورۃ الحج کی آیت 78 میں کامیابی حاصل کرنے کا کیا ذریعہ بتایا گیا ہے؟
جواب: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارۡکَعُوۡا وَاسۡجُدُوۡا وَاعۡبُدُوۡا رَبَّکُمۡ وَافۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ، کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو !رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے ربّ کی عبادت کرو اور اچھے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
سوال: آپؐ نے سوتے ہوئے بھی اپنے دل کی حالت کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: میری آنکھ تو سوتی ہے لیکن میرا دل اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت سے غافل نہیں ہوتا۔
سوال: آپؐ نے نقش و نگار والی چادر ابوجہم کو واپس کیوں بھجوائی؟
جواب: آپؐ نے فرمایا کہ اس کے نقش و نگار نے مجھے میری نماز سے بے توجہ کر دیا ہے اور ڈرا کہ وہ مجھے آزمائش میں نہ ڈال دے۔
سوال: حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ نے شرح میں نماز کی کیفیت کے متعلق کیا لکھا؟
جواب: نماز تبھی حقیقی نماز ہو سکتی ہے جب انسان اس میں پوری طرح غرق ہو اور ڈوب کر نماز پڑھے۔
سوال: حضرت حفصہؓ کے گھر آپؐ کے بستر کی چار تہیں بچھانے پر آپؐ نے کیا فرمایا؟
جواب: اسے پہلے جیسا ہی رہنے دو کیونکہ اس کی زیادہ نرمی میرے لیے رات کی نماز میں روک بن رہی تھی۔
سوال: حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپؐ کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کیا محسوس کیا؟
جواب: آپؐ نے اتنا لمبا رکوع کیا کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں ناک سے خون نہ بہنے لگ جائے۔
سوال: نماز کے دوران آپؐ کے رونے سے کیسی آواز آتی تھی؟
جواب: رونے کی وجہ سے آپؐ کے سینے سے چکّی چلنے یا ہنڈیا ابلنے جیسی آواز آرہی تھی۔
سوال: حضرت معاذ بن جبلؓ کی روایت کے مطابق بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟
جواب: اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں۔
سوال: جو بندے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور شرک نہیں کرتے، ان کا اللہ پر کیا حق ہے؟
جواب: بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔
سوال: : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس مقصد کے لیے مامور تھے؟
جواب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کی اشاعت کے لیے مامور تھے ایسا ہی سنت کی اقامت کے لیے بھی مامور تھے۔
سوال: سنت سے کیا مراد ہے؟
جواب: عملی نمونہ جو اب تک امّت میں تعامل کے رنگ میں مشہود و محسوس ہے اسی کا نام سنت ہے۔
سوال: آپؐ نے میاں بیوی کے لیے تہجد کے وقت ایک دوسرے کو جگانے کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: اللہ تعالیٰ اس میاں اور بیوی پر رحم کرے کہ اگر رات کو میاں کی آنکھ کھلے تو اٹھ کر تہجد پڑھے اور بیوی کو بھی جگائے... اور اگر وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا مارے اور جگائے، اسی طرح اگر بیوی کی آنکھ کھلے تو وہ خود تہجد پڑھے اور میاں کو جگائے اور اگر وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر چھینٹا مارے۔
سوال: آپؐ سوتے وقت کون سی سورتیں اور آیات پڑھ کر اپنے جسم پر پھیرا کرتے تھے؟
جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت آیت الکرسی، سورہ اخلاص، سورۃالفلق اور سورۃ الناس تین دفعہ پڑھ کر ہاتھوں پر پھونکتے اور پھر ہاتھ اپنے جسم پر پھیرا کرتے تھے۔
سوال: جب ایک نابینا صحابی نے کچے راستوں اور تکلیف کی وجہ سے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت چاہی تو آپؐ نے کیا ارشاد فرمایا؟
جواب: اگر اذان کی آواز تمہارے گھر پہنچ جاتی ہے تو مسجد میں آتے وقت چاہے ٹھوکریں لگیں یا زخمی ہو جاؤ مسجد میں تمہیں ضرور آنا چاہیے۔