سوال: خطبہ کے آغاز میں تلاوت کردہ سورۃ الانفال کی آیت (25) میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنے کا کیا مقصد بیان کیا گیا ہے؟
جواب: اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنے کا مقصد یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ انسان روحانی حیات و زندگی حاصل کر سکے۔یہ پکار انسان کے مردہ دل کو زندہ کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو کر اسے سچی ہدایت دیتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہو کر ایک احمدی دراصل کیا اعلان اور عہد کر رہا ہوتا ہے؟
جواب: ایک احمدی بیعت کے ذریعہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قرآن کے تمام احکام کو تسلیم کرتا ہے۔
وہ حضرت مسیح موعودؑ کو مسیح و مہدی مان کر اللہ اور اس کے رسولؐ کی مکمل اطاعت کے ذریعہ نئی روحانی زندگی پانے کا عہد کرتا ہے۔
سوال: احکاماتِ خدا و رسولؐ پر پابندی کے بارے میں شرائطِ بیعت (تیسری، پانچویں اور چھٹی شرط) میں کیا ہدایت بیان ہوئی ہے؟
جواب: بیعت کی شرائط میں پنجوقتہ نماز کی پابندی، مداومت سے درود شریف پڑھنے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل وفاداری کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیز قرآن کریم کی حکومت کو قبول کرنے اور 'قال اللہ و قال الرسول' کو اپنے تمام اعمال کے لیے دستور العمل بنانے کی تاکید ہے۔
سوال: احمدیوں پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ آنحضرتﷺ کا درجہ کم کرتے ہیں، اس کا کیا جواب دیا گیا ہے؟
جواب: یہ الزام سراسر باطل ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرتﷺ کو ہی تمام روحانی زندگی کا اصل سرچشمہ اور آفتابِ صداقت قرار دیا۔
آپؑ نے خود کو آنحضرتﷺ کا عاشقِ صادق اور ادنیٰ غلام ثابت کر کے ہمیشہ آپؐ کے مقام کو دنیا میں بلند تر کر کے پیش فرمایا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور انسانوں کو زندہ کرنے کی کیفیت کو کن الفاظ میں بیان فرمایا؟
جواب: آپؑ کے مطابق آنحضرتﷺ وہ آفتابِ صداقت ہیں جنہوں نے وحشیوں کو بااخلاق انسان اور پھر بااخلاق انسانوں کو باخدا بنایا۔
آپؐ کے قدموں پر صدہا سال کے روحانی مردے اور دہریت و فسق و فجور میں ڈوبے ہوئے لوگ نئے سرے سے جی اٹھے۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روح القدس کے ذریعہ تائید سے کیا مراد ہے؟
جواب: صحابیوں کو روح القدس سے تائید ملنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو زندہ کر کے ایمان میں بے پناہ ترقی عطا فرمائی۔
اس تائید کے ذریعہ ان کو روحانی موت سے نجات ملی اور پاکیزہ علوم و حواس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا مقامِ قرب حاصل ہوا اور دل روشن ہوئے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک حیاتِ روحانی سے کیا مراد ہے اور یہ کس کی متابعت سے حاصل ہوتی ہے؟
جواب: حیاتِ روحانی سے مراد انسان کے وہ علمی اور عملی قویٰ ہیں جو روح القدس کی تائید اور تائیدِ الٰہی سے مکمل طور پر زندہ ہو جاتے ہیں۔قرآن کا دعویٰ ہے کہ یہ حیاتِ روحانی صرف اور صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل متابعت سے ملتی ہے۔
سوال: مسلمانوں کا یہ کہنا کہ "ہم نے آنحضرتﷺ کو مان لیا ہے اس لیے کسی اور کو ماننے کی ضرورت نہیں" کیوں غلط ہے؟
جواب: آنحضرتﷺ نے خود آخری زمانے میں آنے والے امام مہدی و مسیح کو ماننے اور اس پر سلام بھیجنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا۔
اس امام پر ایمان لائے بغیر انسان کا ایمان مکمل نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ روح القدس کی تائید و کامل روحانی حیات پا سکتا ہے۔
سوال: قرآن کریم کی آیت ’’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ‘‘سے حیاتِ روحانی کے حوالے سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ محض زبان سے ایمان کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ دلوں کو حقیقی ایمان اور عمل سے بھرنا ضروری ہے۔
موجودہ زمانے میں سچا مومن بننے کے لیے آنحضرتﷺ کے فرستادے اور عاشقِ صادق پر بھی کامل ایمان لانا لازمی و ضروری ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عقیدہ، توحید اور ختمِ نبوت پر ایمان کے حوالے سے کن الفاظ میں قسم کھائی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ مَیں کافر نہیں بلکہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور خاتم النبیین پر کامل ایمان رکھتا ہوں۔
آپؑ نے خدا کے پاک ناموں اور قرآن کے حروف کے برابر قسم کھا کر فرمایا کہ میرا کوئی عقیدہ خدا و رسول کے خلاف نہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا اور رسولؐ پر اپنے ایمان کی مضبوطی کو کس مثال سے واضح فرمایا؟
جواب: آپؑ نے قسم کھا کر فرمایا کہ میرا خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا کامل اور پختہ یقین و ایمان قائم ہے۔
کہ اگر اس زمانے کے تمام لوگوں کے ایمان ایک پلڑے میں اور میرا ایمان دوسرے میں رکھا جائے تو میرا پلڑا بھاری رہے گا۔
سوال: امتِ مسلمہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہونے والوں کی ہدایت کے لیے ایک احمدی کو کیا دعا کرنی چاہیے؟
جواب: احمدی کو دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ! آنحضرتﷺ سے منسوب اس امت کے دلوں کو پاک کر اور ان کے سینوں کو حق کے لیے کھول دے۔
ان کو زمانے کے امام کی مخالفت کرنے کے بجائے اسے پہچاننے کی توفیق دے تاکہ وہ زنگ اتار کر حقیقی روحانی زندگی پا سکیں۔
سوال: مخالفت اور مظالم کا سامنا کرنے والے پرانے و نئے احمدیوں کے ایمان اور ردِعمل کی کیا کیفیت ہونی چاہیے؟
جواب: احمدیوں کو ظالموں کے مقابلے میں فرعون کے جادوگروں کا قول ’تم صرف اس دنیاوی زندگی کو ختم کر سکتے ہو‘یاد رکھتے ہوئے ثبات دکھانا چاہیے۔
ان کو تمام سختیوں اور مظالم کے باوجود دعاؤں سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ یہی کہنا چاہیے کہ 'فَاللّٰہُ خَیْرٌ حٰفِظًا' (اللہ سب سے بہتر محافظ ہے)۔
سوال: قرب ملک کے ایک صوفی منش دوست کو اللہ تعالیٰ نے رویا (خواب) کے ذریعہ حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کس طرح دکھائی؟
جواب: اُس دوست نے خواب میں دیکھا کہ شریر لوگ ان کا پیچھا کر رہے ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ تشریف لا کر ان کے سینے میں داخل ہو گئے۔
پھر حضورؑ کو آنحضرتﷺ کی شکل مبارک کے مطابق دیکھ کر ان کا دل مان گیا اور بولے کہ ایمان دل میں گڑ چکا، اب دلیل کی حاجت نہیں۔
سوال: بیروت یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور سعودی ایئر فورس کے سابق آفیسر کی بیعت کا کیا واقعہ بیان ہوا؟
جواب: انہوں نے ایم ٹی اے پر حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا عرفان دیکھا تو پچھلی غلط فہمیوں سے تائب ہو کر جماعت کی سچائی کو قبول کر لیا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسی معرفت اور حکمت بھرے نکات کسی جھوٹے کے منہ سے نہیں نکل سکتے بلکہ یہ صرف عارفِ حقیقی کا کلام ہے۔
سوال: خطبے کے اختتام پر حضور انور نے کن مقاصد اور دعاؤں پر خصوصی زور دیا؟
جواب: حضور انور نے غلبۂ اسلام، مسلم امت کی روحانی حیات، اپنے اندر اعلیٰ روحانیت کی بیداری اور مقاصد کے حصول کے لیے دعا پر زور دیا۔
فرمایا دعائیں کریں تاکہ ہم دنیا میں ایک عظیم روحانی انقلاب برپا ہوتا دیکھ سکیں۔