اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-27

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 30 مارچ 2007 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر 190 کی تلاوت فرمائی وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ ۔
سوال: اللہ تعالیٰ کا فضل کیوں ضروری ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: یہ حدیث ہم کئی بار سن چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ ’’مَیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر جنت میں نہیں جا سکتا۔ صحابہ کے پوچھنے پر فرمایا کہ مجھ پر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہو گا تو مَیں جنت میں جاؤں گا۔
سوال: حضرت عائشہ ؓ نے رسول کریم ﷺ کے بارے میں کیا گواہی دی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرتﷺ کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ گواہی دیتی ہیں کہ آپؐ کے رات اور دن قرآن کریم کی عملی تصویر تھے۔
سوال:رسول کریم ﷺ کے اخلاق فاضلہ کے بارے میں قرآن کریم کیا گواہی دیتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول کریم ﷺ کے اخلاق فاضلہ کےبارے میں اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے کہ وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم:5) کہ تو نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر قائم ہے۔ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ تو اپنے عمل اور تعلیم میں انتہائی درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ سے کیا اعلان کرواتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپؐ سے یہ اعلان کرواتا ہے کہ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (الانعام:163)۔ تواُن سے کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میر ی موت اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔
سوال: رسول کریم ﷺ ہر نماز میں کون سی دعا کیا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عائشہؓ نے آپؐکی ایک د عا کے بارے میں بیان کیا کہ آپؐ ہر نماز میں پڑھتے تھے۔ کہ سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ کہ اے اللہ تو پاک ہے، اے ہمارے رب اپنی حمد کے ساتھ اے اللہ مجھے بخش دے۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کیوں کہا اور عَادِلِ یَوْمِ الدِّیْن (کیوں ) نہیں کہا اس تعلق سےآپؑ نے کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کیوں کہا اور عَادِلِ یَوْمِ الدِّیْن (کیوں ) نہیں کہا تو واضح ہو کہ اس میں بھید یہ ہے کہ عدل کا تصور اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک حقوق کو تسلیم نہ کر لیا جائے اور جہانوں کے پروردگار خدا پر تو کسی کا کوئی حق نہیں اور آخرت کی نجات خداتعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کے لئے محض ایک عطیہ ہے جو اس پر ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی اطاعت کرنے اور اس کے احکام کوقبول کرنے، اس کی عبادت کو بجا لانے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کے لئے حیران کن تیزی سے قدم بڑھایا۔
سوال:فتح مکہ کے موقع پر آنحضور ﷺ سے کیا خطاب فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: فتح مکہ کے موقع پر ہی تاریخ میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے قریش کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری زمانہ جاہلیت والی نفرت کو ختم کر دیا ہے اور اسے آباء و اجداد کے ذکر کے ساتھ عظمت دی ہے اور تمام لوگ آدمؑ کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔ پھر آنحضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا(سورۃ الحجرات: 14) اے لوگویقینا ہم نے تمہیں نر اور مادہ پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ لیکن اللہ دائمی علم رکھنے والا اور ہمیشہ باخبر ہے۔ پھر فرمایا :اے قریش !تم مجھ سے کس قسم کے سلوک کی توقع رکھتے ہو؟ قریش نے کہا کہ ہم آپؐسے بھلائی کی ہی امید رکھتے ہیں کیونکہ آپؐ ہمارے معزز بھائی اور ہمارے معز زبھائی کے بیٹے ہیں۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سہیل بن عمرو نے اس سوال پر کہا کہ ہم اچھی بات کرتے ہیں اور آپؐسے اچھی امید وابستہ کرتے ہیں۔ کیونکہ آپؐ ایک معزز بھائی اور معزز بھائی کے بیٹے ہیں اور آپؐہم پر قدرت بھی رکھتے ہیں۔ قریش کا یہ جواب سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں ویسا ہی کہتا ہوں جیسا کہ میرے بھائی یوسفؑ نے کہا تھا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن (یوسف:93) آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے گا۔ وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو۔ کہتے ہیں کہ آنحضورﷺ کا یہ فرمانا تھا کہ وہ لوگ ایسے نکلے جیسے قبروں سے نکلے ہوں اور بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
سوال: اگر اللہ تعالیٰ صرف عدل کرنے والا ہوتا تو کیا ہوتا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ صرف عدل کرنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہ لوگ حصہ نہ پا سکتے جو صرف کوشش کرنے والے ہیں۔ کیونکہ ایسے لوگوں نے وہ مرتبہ حاصل نہیں کیا جس کے حصول کی وہ کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بدی کرنے والوں کے متعلق آپؑنے فرمایاکہ جو بُرے عمل کرتے رہے اور بدی کرنے پر اپنی جرأت میں ترقی کرتے گئے۔ اور وہ (بدی کے کاموں سے) رکنے والے نہ تھے۔
سوال: اللہ تعالیٰ اپنی صفت مالکیّت کے تحت اپنے بندے کے اچھے اور برے اعمال کے لحاظ سے اس سے کیا سلوک کرتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں اور بدیوں کو لکھ رہا ہے پھران کو بیان بھی کر دیا ہے۔ پس جس نے نیکی کرنے کا ارادہ کیا لیکن اسے نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے ہاں ایک نیکی شمار کرے گا۔ نیکی کا ارادہ کیا اور عمل نہ کیا تو نیکی شمار ہو گی۔ اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور پھر اس پر عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے پاس سے دس سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ اور جو کوئی بدی کا ارادہ کرلے اور پھر اس پر عمل نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے پاس ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔اور وہ اگر اس کا ارادہ کرکے اس پر عمل بھی کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی ایک بدی کو شمار کرے گا۔