سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے مہمانوں کا کس قدر خیال تھا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس لیے ہمیشہ تاکید کرتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے۔ مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے دل ٹوٹ جاتا ہے۔
سوال: کارکنان کو مہمانوں کی مہمان نوازی کس طرح کرنی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جو مہمان جلسہ سننے آرہے ہیں ان کی ہر طرح سے خدمت اور مہمان نوازی کرنا ہر کارکن، ہر ڈیوٹی دینے والےاور ہر اس افسر کا فرض ہے جو کسی بھی محکمے یا شعبہ میں کام کر رہا ہے۔
سوال: مہمانوں کو جلسہ میں کس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپ لوگ یہاں جلسہ سننے کے لیے آئے ہیں اس لیے اس بات کو اہمیت نہ دیں کہ آپ کے لیے انتظام صحیح ہوا ہے یا نہیں ہوا۔ آپ کی مہمان نوازی صحیح ہوئی ہے یا نہیں ہوئی یا کسی کارکن نے کیسا رویہ اختیار کیا ہے۔اصل مقصد تو روحانی مائدے کو حاصل کرنا ہے اور آپ لوگوں کو اسی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
سوال: مہمانوں کو کس طرح کا مہمان بننا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایسا مہمان بنیں جو برکتیں لانے والا ہو اور ایسے مہمان نہ ہوں جو گھر والوں کے لیے پریشانی کا باعث ہوں بلکہ ان کو پریشانی سے نکالنے والے ہوں۔
سوال: شامل ہونے والے اور کام کرنے والوں کا کیا مقصد ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:شامل ہونے والے اور کام کرنے والے سب احمدی ہیں اور ہم سب کا مقصد ایک ہے کہ ہم نے یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم اور اسلام کی تعلیم کے مطابق اپنی اخلاقی، روحانی اور علمی اصلاح کرنی ہے
سوال:جلسہ کا کیا مقصد ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس بات کو خاص طور پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا مقصد اپنی اصلاح کرنا ہے۔ اپنے دینی علم کو بڑھانا ہے۔ اپنی روحانی حالت کو بہتر کرنا ہے اور اس کے لیے ہم نے بھرپور کوشش کرنی ہے۔ اخلاقی طور پر اپنی حالت کو بہتر کرنا ہے۔
سوال: اسلام نے مہمانوں کی عزت و تکریم کے متعلق کیا فرمایا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اسلام میں مہمانوں کی عزت و تکریم کی بہت تاکید ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اس کی بہت تاکید فرمائی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا مہمان کو جائز حق دو۔
سوال: صحابہ رسول ﷺ کس طرح مہمان نوازی کیا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:صحابہؓ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر، اپنا حق چھوڑ کر مہمان نوازی کیا کرتے تھےاور اس حوالے سے صحابہ کی مہمان نوازی کی ایک مشہور روایت ہے کہ ایک صحابی کے گھر مہمان آیا جس کو آنحضرت ﷺنے ان صحابی کے ساتھ بھیجا تھا اور انہوں نے جب پتہ کیا تو ان کی بیوی نے بتایا کہ گھر میں صرف بچوں کے لیے تھوڑا سا ہی کھانا ہے لیکن انہوں نے مہمانوں کی خاطر بچوں کو بہلا پھسلا کر سلا دیا اور مہمان گھر لے آئے۔ خود بھی چراغ بجھا کر کھانا نہیں کھایا بلکہ مہمان کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ جیسے خود بھی کھا رہے ہیں۔ خود بھی بھوکے سو گئے اور بچے بھی بھوکے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر اس فعل کو اس قدر سراہا کہ آنحضرت ﷺ کو بھی اس کی اطلاع دی۔ جب اگلے دن صبح وہ صحابی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے تو آپ نے فرمایا۔ تم نے جو رات کو مہمان کو کھانا کھلایا اور اس کے کھلانے کی جو تدبیر تم نے اختیار کی تھی اس سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا اور بڑا ہنسا تو یہ مہمان نوازی کا مقام ہے۔
سوال: مہمانوں کی طرف سے اگر کبھی کوئی سخت بات بھی سنیں تو کیا کریں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مہمانوں کی طرف سے اگر کبھی کوئی سخت بات بھی سنیں تو اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے صَرفِ نظر کریں۔
سوال: حضور انور نےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کا کون سا واقعہ بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایک دفعہ آسام سے کچھ مہمان آئے اور جب لنگر خانے میں اپنی سواری سے اترے اور ان کو کہا کہ سامان اتارو تو لنگر خانہ کا جو عملہ تھا ان کا رویہ کوئی مناسب نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے وہ ناراض ہو گئے اوراسی ٹانگے پر بیٹھ کر واپس روانہ ہو گئے جس پر وہ آئے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس کا علم ہوا تو آپؑبہت ناراض ہوئے کہ ایسی صورت کیوں پیداہوئی کہ مہمان ناراض ہو کر چلا گیا۔ آپ فوری طور پر اس طرح گھر سے نکلے کہ جلدی میں ٹھیک طرح سے جوتے پہننا بھی مشکل تھا اور ان کے پیچھے تیز تیز قدموں سے چل پڑے۔ حالانکہ مہمان ٹانگے پر سوار تھے گھوڑا گاڑی جسے کہتے ہیں اور کافی دور نکل چکے تھے لیکن آپ پیدل ہی بڑی تیز رفتاری سے ان کے پیچھے گئے۔ روایت میں آتا ہے کہ قادیان کے قریب سے گزرنے والی نہر پر پہنچ کر آپ ان تک پہنچ گئے اور انہیں روک لیا۔ پھر آپ انہیں واپس لے کر آئے۔ آپ جس انداز سے انہیں واپس لائے اس میں بھی مہمان کی عزت اور تکریم کا ایک عجیب اظہار تھا۔ آپ نے مہمانوں سے فرمایا کہ آپ اپنی سواری پر بیٹھے رہیں، ٹانگے پر بیٹھے رہیں اور میں پیدل آپ کے ساتھ چلوں گا۔ بہرحال آپؑکے اس خلق کو دیکھ کر مہمان بھی شرمندہ ہو گئے اور عرض کیا کہ ہم ٹانگے پر بیٹھ کر سفر نہیں کر سکتے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ پیدل چلتے ہیں۔ بار بار یہی کہتے رہے کہ حضور ہم نہیں بیٹھیں گے۔ ہم آپ کے ساتھ ہی چلیں گے۔ بہرحال قادیان واپس آ گئے۔ لنگر میں آ کے آپ نے خود مہمانوں کا سامان اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن چونکہ کارکنان کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا اور وہ بہت زیادہ شرمندہ تھے انہوں نے فوری طور پر آگے بڑھ کر سامان اتارنا شروع کر دیا۔ پھر ان لوگوں کی خوراک کے بارے میں بھی کیونکہ وہ آسام کے لوگ تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے لیے خاص خوراک کا انتظام فرمایا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام رزق کاکس قدر خیال رکھتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مثال یہ تھی کہ ایک دفعہ آپ کے کھانے کا انتظام نہ ہو سکا اور انتظام کرنے والے بھول گئے اور آپ بھی مصروف تھے۔ آپ نے جب اپنے کھانے کے بارے میں پوچھا تو سب پریشان تھے۔ کھانا ختم ہو چکا تھا۔ آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں۔ دستر خوان پر جہاں لوگوں نے کھانا کھایا ہے وہاں اگر روٹی کے بچے ہوئے ٹکڑے اور سالن ہے تو وہی لے آؤ میں وہی کھا لوں گا۔ چنانچہ آپ نے وہ ٹوٹے ہوئے ٹکڑے جو لوگ چھوڑ کر گئے تھے وہی کھا لیے۔ یہ آپؑکا اسوہ حسنہ ہے جو آپ نے ہمارے لیے قائم فرمایا۔ پس ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم نے رزق کو ضائع ہونے سے بچانا ہے اور اس طرح کام سمیٹنے والوں کے لیے بھی آسانی پیدا کرنی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ کھانے کو ضائع مت کرو۔