اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-20

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 23 مارچ 2007 بطرز سوال وجواب

سوال: 23 مارچ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں کیوں احمدیت رکھتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جماعتِ احمدیہ کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ آج سے 118سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے اِذن سے بیعت کا آغازفرمایا تھا اور یوں جماعت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ یہ دن اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
سوال:جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے بیعت کا آغاز فرمایا تو اس وقت مسلمانوں کی کیا تعداد تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ـاُس وقت جو مسلمانوں کی حالت تھی، اُس سے ہر وہ مسلمان جس کے دل میں اسلام کا درد تھا، بے چین تھا۔ برصغیر میں آریوں اور عیسائی پادریوں اور ان کے مبلغین نے اسلام پر بے انتہا تابڑ توڑ حملے شروع کئے ہوئے تھے۔ انتہائی شدید
حملے تھے کہ مسلمان علماء بھی اُس وقت سہمے رہتے تھے اور ان کے پاس ان حملوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کچھ تو لاجواب ہونے کی وجہ سے اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت کی جھولی میں گرتے جا رہے تھے اور کچھ بالکل اسلام سے لا تعلق ہو رہے تھے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے 1888ء کو کیا اعلان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک اعلان یکم دسمبر 1888ء کو تبلیغ کے نام سے شائع فرمایا جس میں آپؑنے فرمایا کہ:
’’مَیں اس جگہ ایک اور پیغام بھی خلق اللہ کو عموماً اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصاً پہنچاتا ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدّارانہ زندگی کے چھوڑنے کیلئے مجھ سے بیعت کریں۔ پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ مَیں ان کا غم خوار ہوں گا اور ان کا بار ہلکا کرنے کیلئے کوشش کروں گااور خدا تعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں ان کیلئے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربانی شرائط پر چلنے کیلئے بدل و جان تیار ہوں گے۔ یہ ربّانی حکم ہے جوآج مَیں نے پہنچا دیا ہے۔ اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے اِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا۔ اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ۔ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ‘‘
سوال:ـ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1889ء میں کون سا اعلان شائع فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 12؍ جنوری 1889ء کو ایک اعلان ’’تکمیلِ تبلیغ‘‘ کے نام سے شائع فرمایا۔
سوال: دس شرائط بیعت کون سی ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلی شرط بیعت یہ فرمائی :بیعت کنندہ سچے دل سے عہداس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔
دوم یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔
سوم یہ کہ بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیارکرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یادکر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ وِرد بنائے گا۔
چہارم یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا، نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔
پنجم یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عُسر اور یُسراور نعمت او ربلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہو گا اور ہر ایک ذلّت اور دکھ کے قبول کرنے کیلئے اس کی راہ میں تیار رہے گااور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔
ششم یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کوبکلّی اپنے سر پر قبول کر لے گا۔ اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔
ہفتم یہ کہ تکبّر اور نخوت کو بکلّی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خُلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔
آٹھویں شرط یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہریک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔
نویں شرط یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔
دسویں شرط یہ کہ اس عاجز سے (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے) عقدِ اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کے مقام کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے مقام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزارہزار درُود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی، وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اُس کی جان گداز ہوئی۔ اس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذرّیّت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے۔