اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-20

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ18؍جولائی 2025بطرز سوال وجواب

سوال:آنحضرت ﷺ کی شان کے متعلق حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:نبی اکرم ﷺکی شان بہت بلند اور اعلیٰ اور ارفع ہے۔ …آپ ﷺ حدود کے قیام کے لیے چٹان کی طرح مضبوط تھے اور کسی کی کوئی پروا نہیں کیا کرتے تھے۔ البتہ عفو اور رحمت کے وقت ریشم کی طرح نرم و ملائم تھے۔ انہیں کسی قسم کا کوئی قلق اور خلش نہیں ہوا کرتی تھی۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی کون سی بات تعریف کے لائق ہے:
جواب: آرتھر گلمےفرماتے ہیں : آپ (ﷺ)کی یہ بات بےحد تعریف کے لائق ہے کہ جس موقع پر ماضی کے مکہ کے مکینوں کے مظالم کی یاد آپ کو انتقام لینے پر اکسا سکتی تھی آپ نے اپنی فوج کو کسی بھی قسم کی خونریزی سے منع فرمایا اور عاجزی اور خدا تعالیٰ کے شکر کا ہر ممکن اظہار کیا۔
سوال: فتح مکہ کے ذریعہ محمد ﷺ نے کون سے دعوے کی سچائی کو ثابت کر دیا؟
جواب:کیرن آرم سٹرانگ فرماتے ہیں: مکہ کی فتح کے ذریعہ محمد ﷺنے نبوت کے اپنے دعوے کی سچائی کو ثابت کر دیا۔ یہ فتح بغیر کسی قسم کی خونریزی کے حاصل ہوئی اور محمد ﷺکی پُرامن پالیسی کامیاب رہی۔ چند ہی سالوں میں مکہ میں بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا اور عِکرمہ اورسَُہیل جیسے سخت ترین مخالفین مخلص اور پُرجوش مسلمان بن گئے۔
سوال: آنحضرت ﷺکے مکہ میں قیام کی مدت کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ کے مکہ میں قیام کی مدت کے بارے میں تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺکے مکہ تشریف لانے اور فتح مکہ کے بعد مکہ میں چند دن ٹھہرے تھے لیکن جو قیام ہے اس کی مدت میں اختلاف ہے۔ بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺمکہ میں انیس دن ٹھہرے۔ آپؐ دو رکعت نماز پڑھتے یعنی قصر کرتے تھے اور بعض روایات میں اٹھارہ یا سترہ اور پندرہ روز کا تذکرہ بھی ہے۔ علامہ ابن حجرنے انیس دن والی روایت کو راجح قرار دیا ہے کیونکہ اکثر روایات میں انیس دن کا ذکر ہے اور باقی
روایات کو اس طرح سے جمع کیا گیا ہے کہ انیس دن والی روایت میں مکہ میں داخل ہونے اور روانہ ہونے کے دن بھی شامل ہیں اور جنہوں نے سترہ دن بیان کیے ہیں انہوں نے آمد و رفت کے دونوں دن شامل نہیں کیے۔ جن راویوں نے اٹھارہ دن کی روایت بیان کی ہے انہوں نے ان میں سے کوئی ایک دن شمار کیا ہے جبکہ پندرہ دن والی روایت کے راویوں نے سترہ دن والی روایت کو مدنظر رکھ کر لکھا ہے کہ یہ اصل ہے اور پھر اس میں سے داخلے اور کوچ کا دن نکال کر پندرہ دن کا ذکر کیا ہے۔
سوال:ولیم میور نے فتح مکہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی کتاب The Life of Muhammad میں کیا لکھا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بعض مستشرقین نے بھی آنحضرت ﷺکے فتح مکہ پہ اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ ولیم میور ایک بڑا مشہور مستشرق ہے۔ اس کا تعلق سکاٹ لینڈ سے تھا۔ فتح مکہ کا ذکر کرتے ہوئے اس نے اپنی کتاب The Life of Muhammad میں رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمد ﷺ کا ماضی کے تمام پرانے قصوروں کو معاف کرنا یعنی لوگوں کے تمام قصوروں کو معاف کرنا اور ان کی تمام چھوٹی بڑی تکلیفوں کو فراموش کر دینا دراصل آپ ﷺ کے اپنے فائدے کے لیے تھا۔ یہ لکھنے کے بعد مجبور ہے کہ بہرحال حقیقت کو تسلیم بھی کرے۔ کہتا ہے لیکن اس
کے لیے ایک بڑے اور گداز دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا فائدہ گو آپ ہی کو پہنچا کہ آپ کے آبائی شہر کے سب لوگ آپ سے وابستہ ہونے لگے اور آپ کے مقصد کو پوری خوش دلی اور نمایاں عقیدت کے ساتھ اپنا لیا اور چند ہفتوں کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان میں سے دو ہزار افراد آپ کے پہلو میں کھڑے بڑی وفا داری کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔
سوال: حضور انور نے عبد اللہ بن ابی سرح کی توبہ کا کون سا واقعہ بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: عبداللہ بن سعد بن ابی سَرَح نے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور کاتب وحی بھی تھا۔ پھر مرتد ہو کر واپس چلا گیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس کو بھی قتل کی سزا دی گئی تھی۔ جب مکہ فتح ہو گیا تو یہ حضرت عثمان بن عفانؓکے ہاں چھپ گیا۔ یہ ان کا رضاعی بھائی تھا۔ حضرت عثمانؓاسے نبی ﷺ کے سامنے لائے اور عرض کی: یا رسول اللہ! عبداللہ کی بیعت قبول فرمائیں۔ آپؐ نے دیر تک خاموشی اختیار فرمائی اور پھر اس کی بیعت لے لی۔ جب عبداللہ بن ابی سَرَح واپس چلا گیا تو لکھنے والے راوی یہاں لکھتے ہیں کہ آپ نے صحابہؓ سے فرمایا۔ میں اس لیے کچھ دیر تک خاموش رہا کہ تم میں سے کوئی اٹھے اور اس کو جلدی سے قتل کر دے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں اشارہ کیوں نہ کر دیا۔ اس پر آپ ﷺنے فرمایا کہ نبی قتل کے لیے اشارے نہیں کیا کرتا۔ بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ آنکھوں کی خیانت کا مرتکب ہو۔
سوال: کس وجہ سے عبداللہ بن ابی سَرَح اسلام سے مرتد ہو گیا اور کب وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃ المؤمنین کی آیت نمبر پندرہ کی تفسیر کرتے ہوئے اس واقعہ کا تذکرہ یوں کرتے ہیں کہ ’’اس آیت کے ساتھ ایک تاریخی واقعہ بھی وابستہ ہے جس کا یہاں بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔‘‘ لکھتے ہیں کہ ’’رسول کریم ﷺکا ایک کاتب وحی تھا جس کا نام عبداللہ بن ابی سَرَح تھا۔ آپ پر جب کوئی وحی نازل ہوتی تو اسے بلوا کر لکھوا دیتے۔ ایک دن آپ یہی آیتیں اسے لکھوا رہے تھے۔ جب آپ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ پر پہنچے تو اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔ کہ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہی وحی ہے اس کو لکھ لو۔ اس بدبخت کو یہ خیال نہ آیا کہ پچھلی آیتوں کے نتیجہ میں یہ آیت طبعی طور پر آپ ہی بن جاتی ہے۔ اس نے سمجھا کہ جس طرح میرے منہ سے یہ آیت نکلی اور رسول اللہ ﷺنے اس کو وحی قرار دے دیا ہے اسی طرح آپ نعوذباللہ خود سارا قرآن بنا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ مرتد ہوگیا اور مکہ چلا گیا۔ فتح مکہ کے موقعہ پر جن لوگوں کو قتل کرنے کا رسول کریم ﷺ نے حکم دیا تھا ان میں ایک عبداللہ بن ابی سرح بھی تھا مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے پناہ دے دی اور وہ آپ کے گھر میں تین دن چھپا رہا۔ ایک دن جبکہ رسول کریم ﷺ مکہ کے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ عبداللہ بن ابی سرح کو بھی آپ کی خدمت میں لے گئے اور اس کی بیعت قبول کرنے کی درخواست کی۔ رسول کریم ﷺ نے پہلے توکچھ دیرتامل فرمایا مگر پھر آپ نے اس کی بیعت لے لی۔اور اس طرح دوبارہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ ‘‘