سوال:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی کیا تفسیر بیان فرمائی؟
جواب :حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن(الفاتحۃ:4) خدا مالک ہے جزا سزا کے دن کا، ایک رنگ میں اسی دنیا میں بھی جزا سزا ملتی ہے۔ ہم ر وزمرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ چور چوری کرتا ہے۔ ایک روز نہ پکڑا جاوے گا، دو روز نہ پکڑا جاوے گا، آخر ایک روزپکڑا جائے گا اور زندان میں جائے گا‘‘۔ یعنی قید میں ڈالا جائے گا ’’اور اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔ یہی حال زانی، شراب خور اور طرح طرح کے فسق و فجور میں بے قید زندگی بسر کرنے والوں کا ہے کہ ایک خاص وقت تک خدا کی شان ستاری ان کی پردہ پوشی کرتی ہے۔ آخر وہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور دکھوں میں مبتلا ہو کر ان کی زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور یہ اس اُخروی دوزخ کی سزا کا نمونہ ہے۔ اسی طرح سے جو لوگ سرگرمی سے نیکی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اور فرمانبرداری ان کی زندگی کا اعلیٰ فرض ہوتا ہے تو خداتعالیٰ ان کی نیکی کو بھی ضائع نہیں
کرتااور مقررہ وقت پر ان کی نیکی بھی پھل لاتی اور بار آور ہو کر دنیا میں ہی ان کے واسطے ایک نمونہ کے طور پر مثالی جنت حاصل کر دیتی ہے۔ غرض جتنے بھی بدیوں کا ارتکاب کرنے والے فاسق، فاجر، شراب خور اور زانی ہیں ان کو خدا کا اور روز جزا کا خیال آناتو درکنار، اسی دنیا میں ہی اپنی صحت، تندرستی، عافیت اور اعلیٰ قویٰ کھو بیٹھتے ہیں اور پھر بڑی حسرت اور مایوسی سے ان کو زندگی کے دن پورے کرنے پڑتے ہیں۔ سِل، دق، سکتہ اور رعشہ اور اَورخطرناک امراض ان کے شامل حال ہوکر مرنے سے پہلے ہی مر رہتے اور آخر کار بے وقت اور قبل از وقت موت کا لقمہ بن جاتے ہیں ‘‘۔
سوال: عقلمند انسان کو اپنے ماحول کے نمونوں کو دیکھ کر کیا کرنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہر عقلمند انسان کو اپنے ماحول کے نمونوں کو دیکھ کر عبرت پکڑنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جو جزا سزا کے دن کا مالک ہے انسان کی غلطیوں کی وجہ سے بعض کو اس دنیا میں بھی سزا کے جو نمونے دکھاتا ہے تو یہ بات ہمیں خداتعالیٰ کے قریب کرنے والی اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نےلفظ مالک کے بارہ میں کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: یاد رہے کہ مالک ایک ایسا لفظ ہے جس کے مقابل پر تمام حقوق مسلوب ہو جاتے ہیں اور کامل طور پر اطلاق اس لفظ کا صرف خدا پرہی آتا ہے کیونکہ کامل مالک وہی ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کا غضب کن لوگوں پر ہوتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:تو اللہ تعالیٰ کایہ غضب ان لوگوں پر اس دنیا میں نازل ہو گیا اور جس نے نیکی کی تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی اجر عطا فرمایا۔
سوال: اگر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی نہ کی جائے تو کیا ہوگا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی نہ کی جائے اس کے حکموں پر عمل نہ کیا جائے تو وہ جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے جس کے سامنے نہ حکومتیں کوئی چیز ہیں، نہ دولتیں کوئی چیز ہیں وہ اگر کمزوروں کا بھی مدد گار بن جائے تو ان کو بھی عزت کے مقام پر کھڑا کر دیتا ہے اور طاقتوروں اور دولتمندوں کو رسوا اور ذلیل کر دیتا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے حکموں پر عمل کرو تاکہ اِس دنیا میں بھی میری خوشنودی حاصل کر سکو اور اگلے جہان میں بھی جب تمہارے متعلق آخری جزا سزا کا فیصلہ ہو گا، میری رضا کے حصول کے لئے کئے گئے اعمال کی وجہ سے میری جنتوں کے وارث ٹھہر سکو۔
سوال: کس طرح دنیا میں امن کی فضا قائم ہوگی؟
جواب:آج اگر دنیا اس حقیقت کو سمجھ لے کہ سوائے ایک خدا کے جو مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن ہے مکمل مالکیت اسی کی ہے، وہی مالک حقیقی ہے، اس کی زمین و آسمان پر بادشاہت قائم ہے تو دنیا کے یہ تمام فتنے اور فساد ختم ہو جائیں۔ پس اگر انسان خداتعالیٰ کی حقیقی مالکیت کو اپنے اوپر تسلیم کر لے تو پھر اس کا خوف بھی پیدا ہو گا۔ پھر یہ احساس ہو گا کہ ایک خدا ہے جس کی ہمیں عبادت بھی کرنی ہے، جس کے احکامات پر عمل بھی کرنا ہے کیونکہ جز اسزا کا ہمارے ساتھ سلوک ہونا ہے تو پھر ہی نیک اعمال بجا لانے کی طرف توجہ بھی ہو گی۔
سوال: اللہ تعالیٰ کو کیوں یاد کرنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا، اس کی عبادت کرنا، اس کا شکر گزار ہونا، اس کا خوف رکھنا، صرف اس لئے نہیں کہ اگلے جہان میں ہمارے ساتھ کیا سلوک ہونا ہے، وہیں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ جزا سزا کا سلوک کرتا ہے۔ نیک کام کرنے والوں کو نوازتا ہے۔برائیاں کرنے والوں کو سزا دیتا ہے۔ مختلف طریقوں سے اپنے بندوں کے امتحان لیتا ہے اور اس میں پورا اترنے والوں کو اس کی بہترین جزا دیتا ہے اور جو اس کی مالکیت کی بجائے اپنی مالکیت جتاتے اور اس کے ناشکر گزار بندے بنتے ہیں تو بعض وقت وہ اس دنیا میں ہی ان کو سزا بھی دیتا ہے۔
سوال: کیا خیال کبھی بھی دل میں نہیں آنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ جیسا کہ اکثر اللہ تعالیٰ کی ہستی کو نہ ماننے والے سمجھتے ہیں کہ اگلے جہان میں تو پتہ نہیں کیا ہونا ہے یا کچھ ہونا بھی ہے کہ نہیں، سوال جواب بھی ہونے ہیں کہ نہیں، جزا سزا بھی ملنی ہے کہ نہیں، کچھ ہے بھی کہ نہیں، اس لئے دنیا میں جو دل چاہتا ہے کئے جاؤ۔
سوال: حضرت مسح موعود علیہ السام نے شرابی وگوں کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :شرابی ہیں، شراب کی وجہ سے اپنی طاقتیں ضائع کر دیتے ہیں، دماغی صلاحیتیں کھو دیتے ہیں۔ یہ شراب پینے والے جب شراب پی رہے ہوتے ہیں ان کے دماغ کے ہزاروں لاکھوں خلیے اور سیل (Cell) ہیں جو ساتھ ساتھ ضائع ہو رہے ہوتے ہیں اور یہ سب اس لئے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والے ہیں۔
سوال: خطبہ کے آخر پر حضور انور نے کن کی نماز جنازہ پڑھانے کا اعلان فرمایا؟
جواب:خطبہ کے آخر پر حضور انور نے محترمہ امتہ الحفیظ صاحبہ کی نماز جنازہ پڑھانے کا اعلان فرمایا۔