اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-13

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ11؍جولائی 2025بطرز سوال وجواب

سوال: مکہ کو کس روز سے حرم بنایا گیا؟
جواب: آنحضرت ﷺ نے فرمایا:اے لوگو !اللہ تعالیٰ نے مکہ کو اس روز سے حرم بنایا ہے جس روز اس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی اور جس روز اس نے سورج اور چاند کو بنایا اور یہ دو پہاڑ صفا اور مروہ نصب کیے۔ پس جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس میں خونریزی کرے اور نہ اس کا درخت کاٹے۔ یہ نہ مجھ سے قبل کسی کے لیے حلال ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ میرے لیے یہ گھڑی بھر کے لیے حلال ہوا تھا پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل تھی۔ تم میں سے حاضر غائب تک پہنچا دے۔ جو تمہیں کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں قتال کیا تھا تو اسے کہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے رسول کے لیے حلال کیا تھا اور اس نے تمہارے لیے حلال نہیں کیا۔ اےلوگو!لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ پر سب سے زیادہ جرأت کرنے والا وہ شخص ہے جس نے حرم میں قتل کیا یا اپنے قاتل کے علاوہ کسی اَور کو قتل کیا یا زمانہ جاہلیت کے خون کے بدلے کی وجہ سے قتل کیا۔
سوال: فتح مکہ کے روز کن لوگوں کو سزا دی گئی؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:فتح مکہ کے روز صرف انہیں چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لیے حضرت احدیت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہو چکا تھا اور بجز اِن ازلی ملعونوں کے ہر یک دشمن کا گناہ بخش دیا۔
سوال: فتح مکہ سے پہلے کعبہ کی کنجی کس کے پاس تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: فتح مکہ سے پہلے کعبہ کی کنجی عثمان بن طلحہ کے پاس تھی۔
سوال: جب فتح مکہ ہوئی تو اس روز کعبہ کی کنجی رسول کریم ﷺ نے کس کو دی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب فتح مکہ ہوئی تو اس وقت حضرت علیؓنے سقایہ یعنی پانی پلانے کے اعزاز کے ساتھ کلید برداری کا اعزاز بھی حاصل کرنے کی درخواست کی یعنی کہ اب چابی ان کو دے دی جائے لیکن رسول اللہ ﷺنے کعبہ سے نکلتے ہوئے عثمان بن طلحہ کو بلایا اور اس کو چابی واپس کر دی اور فرمایا: اَلْيَوْمُ يَوْمُ بِرٍّ وَ وَفَاءٍکہ آج نیکی اور ایفائے عہد کا دن ہے۔
سوال: فَضَالَہ بن عُمَیر کا آپ ﷺکو قتل کرنے کا ناپاک منصوبہ کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:فَضَالَہ بن عُمَیر کا آپ ﷺکو قتل کرنے کا ناپاک منصوبہ بھی ظاہر ہوا۔ اس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ فتح مکہ کے دن بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جو اندر ہی اندر پیچ وتاب کھا رہے تھے لیکن وہ بے بس تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ کے کچھ دلیر نوجوانوں جیسے عکرمہ وغیرہ نے باقاعدہ ایک پلٹن بنا کر ایک جگہ کھڑے ہو کر مسلح مزاحمت بھی کی تھی۔ اسی طرح کی سوچ رکھنے والوں میں سے ایک شخص فَضَالَہ بن عُمیر بھی تھا۔ یہ کہتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺخانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے تو میں بھی اس بھیڑ میں شامل ہو گیا اور سوچا کہ جونہی میں رسول اللہ ﷺکے قریب ہوں گا تو چپکے سے اپنے خنجر سے وار کر کے آپ ﷺکو نعوذ باللہ قتل کر دوں گا۔ وہ اس ارادے سے آپ کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ جونہی وہ آپ کے قریب ہوا تو آپ ﷺنے اسے دیکھ کے فرمایا کہ تم فَضَالہ ہو؟ اس نے کہا کہ جی ہاں۔ فرمایا دل میں کیا سوچ رہے ہو؟ کہنے لگا کہ میں اللہ کا ذکر کر رہا ہوں۔ اس نے جھوٹ بولا۔ اس پر آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا اللہ سے استغفار کرو۔ تم جو کہہ رہے ہو وہ تم نہیں کر رہے اور آپ ﷺاس کے قریب آئے اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھا۔فَضَالہ بیان کرتے ہیں کہ بخدا آپ ﷺ نے میرے سینے سے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ محبوب مجھے محمد ﷺہی لگنے لگے اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹ آیا۔
سوال: حضرت ابوبکرؓ کے والد ماجد کے قبول اسلام کے واقعہ کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابوبکرؓ کے والد ماجد کے قبول اسلام کے واقعے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ حضرت ابوبکر کے والد فتح مکہ تک ایمان نہیں لائے تھے۔ اس وقت ان کی بینائی جا چکی تھی۔ فتح مکہ کے وقت جب رسول کریم ﷺحرم میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ اپنے والد کو لے کر رسول کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب نبی کریم ﷺنے ان کو دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! تم اس عمر رسیدہ شخص کو گھر ہی میں رہنے دیتے۔ اتنی بڑی عمر کے آدمی کو میرے پاس لے آئے ہو۔ میں خود ان کے پاس آ جاتا۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! یہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے نہ یہ کہ آپؐ ان کے پاس تشریف لاتے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انہیں رسول کریم ﷺکے سامنے بٹھایا تھاتو آپ ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اسلام لے آئیں۔ آپ سلامتی میں آ جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے (حضرت ابوبکرؓ کے والد نے) اسلام قبول کر لیا۔
سوال:حضرت ہندنے اسلام لانے کے بعد آنحضرت ﷺ سے اپنی محبت و اخلاص کا اظہار کس طرح کیا؟
جوابـ:حضور انور نے فرمایا:حضرت ہندنے اسلام لانے کے بعد آنحضرت ﷺ سے اپنی محبت و اخلاص کا اظہار اس طرح کیا کہ دو کم عمر بکرے بھون کر آپ کی خدمت میں لونڈی کے ہاتھ بھجوائے۔ لونڈی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ میری مالکن نے یہ آپ کی خدمت میں بھیجے ہیں۔ گوشت بھون کے بھیجا ہے اور وہ عذر کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں، معذرت کر رہی ہیں کہ آجکل ہماری بکریوں کے بچے کم ہیں۔ اس لیے میں صرف دو بھیج رہی ہوں۔ آپؐنے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری بکریوں اور ان کی اولاد میں برکت ڈالے۔ بعد میں یہ لونڈی کہتی تھی کہ بخدا کہ میں نے بکریوں اور ان کے بچوں کی اتنی کثیر تعداد دیکھی جو پہلے نہیں دیکھی تھی۔ حضرت ہِند کہتی تھیں کہ یہ رسول اللہ ﷺکی دعا کے طفیل ہے۔
سوال:حضرت مصلح موعودؓ ابوسفیان کی بیوی ہِند کی بیعت کا واقعہ کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓ ابوسفیان کی بیوی ہِند کی بیعت کا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ’’یہ وہی عورت ہے جس نے حضرت حمزہؓکا مُثْلہ کروایاتھا۔آپؐنے مناسب سمجھا کہ اسے اس ظالمانہ فعل اورخلافِ انسانیت حرکت کی سزادی جائے۔ اس وقت پردہ کاحکم نازل ہوچکا تھا۔ جب عورتیں بیعت کے لیے آئیں توہندہ بھی چادر اوڑھ کر ساتھ آگئی اور اس نے بیعت کرلی۔ جب وہ اس فقرہ پر پہنچی کہ ہم شرک نہیں کریں گی توچونکہ وہ بڑی تیز طبیعت تھی۔ اس نے کہا یارسول اللہ! ہم اب بھی شرک کریں گی؟ آپؐاکیلے تھے اور ہم نے پوری طاقت اور قوت کے ساتھ آپ کامقابلہ کیا۔ اگر ہمارے خدا سچے ہوتے توآپ کیوں کامیاب ہوتے۔ وہ بالکل بیکارثابت ہوئے اور ہم ہار گئے۔ رسول کریم ﷺنے فرمایا ہندہ ہے؟ آپؐاس کی آواز کوپہچانتے تھے، آخر رشتہ دار ہی تھی۔ہندہ نے کہا یارسول اللہ! اب میں مسلمان ہو چکی ہوں۔ اب آ پ کو مجھے قتل کرنے کا اختیار نہیں۔ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا ہاں اب تم پر کوئی گرفت نہیں ہو سکتی۔غرض وہ قوم جو سمجھتی تھی کہ آپ نے سب خداؤں کو کُوٹ کر ایک خدا بنا لیا ہے ان میں اتنا تغیر پیدا ہو گیا کہ ہندہ جیسی عورت نے کہا کہ کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ خدا ایک نہیں۔‘‘
سوال: وہ مجرم جن کے قتل کا حکم صادر ہوا،ان کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:وہ مجرم جن کے قتل کا حکم صادر ہوا،ان کے بارے میں لکھا ہے۔ تفصیل بیان کرتا ہوں گو کہ اس بارے میں بعض لوگوں کے تحفظات بھی ہیں اور واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کیونکہ جن وجوہات کی بناپر قتل کے حکم کے بارے میں بیان کیا گیا ہے یہ صاف طور پر آنحضرت ﷺکے عمل اور طبیعت کے خلاف ہے۔ بہرحال پہلے یہ بیان کر دیتا ہوں کہ کون لوگ تھے۔ تاریخ میں بعض جگہ ذکر ہوا ہے اور بعد میں اس کے ردّ میں بھی بیان کر دوں گا۔ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ وہ افراد جن کے جرائم کی بابت آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ جہاں بھی نظر آئیں ان کو قتل کر دیا جائے وہ آٹھ مرد اور چھ عورتیں تھیں۔ یہ فتح الباری میں لکھا ہے۔ سیرت حلبیہ میں لکھا ہے کہ یہ کل گیارہ افراد تھے۔ واقدی نے لکھا ہے کہ یہ کل دس افراد تھے جن میں چھ مرد تھے اور چار عورتیں تھیں۔
سوال: رسول اللہ ﷺنے فتح مکہ کے روز کتنے مردوں اور عورتوں کو امان دی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فتح مکہ کے روزچار مردوں اور دو عورتوں کے علاوہ سب کو امان دے دی۔ آپ نے فرمایا انہیں قتل کر دو، چاہے وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکے ہوئے ہوں۔