اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-06

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 09 مارچ 2007 بطرز سوال وجواب

سوال: ترتیب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے صفت مالکیت کا ذکر کون سے نمبر پر فرمایا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ترتیب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کا بیان ہو گا۔ ترتیب کے لحاظ سے جیسا کہ ہم جانتے ہیں اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے چوتھے نمبر پر فرمایا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے احسان کی چوتھی قسم کیا بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے: چوتھا احسان خداتعالیٰ کا جو قسم چہارم کی خوبی ہے جس کو فیضان اخصّ سے موسوم کر سکتے ہیں، مالکیت یوم الدین ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں فقرہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور اس میں اور صفت رحیمیت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے۔ اور صفت مالکیت یوم الدین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔
سوال: رحمیت سے کس طرف توجہ پیدا ہوتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رحیمیت سے دعا اور عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے، انسان دعا اور عبادت کرتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور مالکیت سے اس کا پھل ملتا ہے۔
سوال: مفردات میں المالک کی کیا تشریح بیان ہوئی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ اَلْمَالِک اسے کہتے ہیں جو عوام الناس میں اپنے احکام ازقسم اوامرو نواہی اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہو۔ یہ پہلو صرف انسانوں کی سیاست یعنی ان کے معاملات کی تدبیر کرنے اور ان پر حکومت کرنے سے مختص ہے۔ اس بنا پر مَلِکُ النَّاس تو کہا جاتا ہے مگر مَلِکُ الْأَشْیَاء نہیں کہا جاتا۔ پھر کہتے ہیں کہ قولِ خداوندی مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کا معنی ہے کہ وہ جز اسز اکے دن میں ملک ہو گا۔
سوال: لسان العرب میں الملک کی کیا تشریح بیان فرمائی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: لسان العرب میں لکھا ہے۔ اَلْمَلِکُ ، اللہ بادشاہ ہے۔ مَلِکُ الْمُلُوْک بادشاہوں کا بادشاہ، پھر لَہُ الْمُلْکُ ، بادشاہت اسی کی ہے اور ھُوَ مَالِکُ یَوْمِ الدِّیْنِ وہ جزا سزا کے دن کا مالک ہے وَھُوَ مَلِیْکُ الْخَلْقِ، اس کے معنے لکھے ہیں رَبُّھُمْ وَمَالِکُھُمْ، وہ مخلوق کا ربّ اور مالک ہے۔
سوال:لسان العرب کے معنی سامنے رکھتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی کیا تشریح بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:لسان العرب کے معنی سامنے رکھتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کے معنی یوں بیان فرمائے ہیں لیکن آپؓ نے اس میں مالک کے ساتھ یوم اور دین کے بھی علیحدہ علیحدہ، معنی حل کرکے پھر مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کے مفصل معنی لکھے ہیں۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ اس کے معنی یہ بنیں گے کہ جزا سزا کے وقت کا مالک، شریعت کے وقت کا مالک، اور فیصلہ کرنے کے وقت کا مالک، مذہب کے وقت کا مالک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت مذہب یا شریعت کی بنیاد رکھی جاتی ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ صفت مالکیت کا اظہار فرماتا ہے۔ اور کمزوری کے بعد اپنے پیارے کی جماعت کو صفت مالکیت کے تحت غلبہ عطا فرماتا ہے۔ پھر نیکی کے زمانے کا مالک اور گناہ کے زمانے کا مالک، یعنی جب بدی اور گناہ بہت پھیل جاتا ہے تو زمانے کا مالک مصلح اور نبی مبعوث فرما کر دنیا کی اصلاح اپنی مالکیت کی صفت کے تحت کرتا ہے۔ محاسبہ کے وقت کا مالک، اطاعت کے وقت کا مالک یعنی اطاعت کرنے والوں کے لئے خاص قانون قدرت ظاہر فرماتا ہے۔ معجزات بھی رونما ہوتے ہیں۔ خاص اور اہم حالتوں کا مالک یعنی اس کے حکم کے مطابق اعمال بجا لانے والوں کے اجر اُن کو دیتا ہے جو آخر وقت تک وفا کے ساتھ اپنی حالتوں کو اس کے مطابق رکھیں، اس کے احکام کے مطابق رکھیں، وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مالک کی کیا تفسیر بیان فرمائی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لسان العرب اور تاج العروس کے حوالے سے جو مالک کی تفسیر بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ: مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہّ ہو، مکمل قبضہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہو اور بلااشتراک غیراس پر حق رکھتا ہو۔ اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خداتعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پا سکتا۔ کیونکہ قبضہ تامّہ، تصرف تامّ اور حقوق تامّہ بجز خداتعالیٰ کے اور کسی کے لئے مسلّم نہیں۔
سوال: مالک یوم الدین اپنے فیضان کیلئے کس چیز کو چاہتی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہےاور صرف اُن انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیّت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامنِ افلاس پھیلاتے ہیں اور سچ مچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خداتعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں یہ چار الٰہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دعا کی تحریک کرتی ہے۔ اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کرکے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ مالک جزا ہے۔ کسی کا حق نہیں جو دعویٰ سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔
سوال: مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی صفت سے فیض پانے کیلئے کیا ضروری ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی صفت سے فیض پانے کے لئے نیک اعمال بجا لانا، اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنا، اس کی عبادت کی طرف توجہ دینا انتہائی ضروری چیزیں ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن سکیں اور یوں مغفرت اور نجات حاصل کرنے والے ہوں۔
سوال: انسان کی صفات اور اس کی خوبیاں کس وقت سامنے آتی ہیں؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عام طور پہ بھی دیکھیں تو انسان کی صفات، اس کی خوبیاں اُس وقت ہی کھل کر سامنے آتی ہیں جب اُس کے پاس کوئی طاقت ہو، اختیار ہو، کوئی ملکیت ہو۔ اعلیٰ اخلاق کا اُسی وقت پتہ چلتا ہے جب طاقت ہو، جب ایک مقام ہو۔ کمزور اور بے بس نے کسی سے رحیمیت کا کیا سلوک کرنا ہے اور کیا رحمانیت کا سلوک کرنا ہے اور پھر اِسی طرح کسی سے ربوبیت کا کیا اظہار ہونا ہے۔ اپنے اپنے ماحول میں جو بھی ہے جتنا بھی ملکیت رکھتا ہے اس کو وہاں ان صفات کا اظہار کرنا چاہئے کیونکہ یہ کسی کی ملکیت کا زعم ہی ہے جو انسان کے دل میں تکبر اور نفرت بھی پیدا کرتا ہے۔