اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-06

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ04؍جولائی 2025بطرز سوال وجواب

سوال: رسول کریم ﷺ کے صحابہ آپؐ سے کس طرح کی محبت کیا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھ کر مسلمانوں کے دل فتح مکّہ کے دن ایمان سے اتنے پُر ہو رہے تھےاورمحمد رسول اللہ ﷺکی شان پر ان کا یقین اِس طرح بڑھ رہا تھا کہ رسول کریم ﷺ نے جب زمزم کے چشمہ سے (جو اسمٰعیلؑ بن ابراہیمؑ کے لیے خدا تعالیٰ نے بطور نشان پھاڑا تھا) پانی پینے کے لیے منگوایا اور اس میں سے کچھ پانی پی کے باقی پانی سےآپؐنے وضو فرمایا تو آپؐکے جسم میں سے کوئی قطرہ زمین پر نہیں گر سکا۔ مسلمان فوراً اس کو اچک لے جاتے اور تبرک کے طور پر اپنے جسم پر مل لیتے تھے اور مشرک کہہ رہے تھے ہم نے کوئی بادشاہ دنیامیں ایسا نہیں دیکھا جس کے ساتھ اس کے لوگوں کو اتنی محبت ہو۔
سوال: فتح مکہ کے روز آپ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓسے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:فتح مکّہ کے روز آپ ﷺنے فرمایا: اَللّٰهُمَّ اِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ کہ اے اللہ! یقیناً اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
سوال:فتح مکّہ کے روز جب آنحضرت ﷺ جسی بت کے پاس سے گزرتے تو کیا فرماتے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:فتح مکّہ کے روز آپ ﷺکے ہاتھ میں کمان تھی۔ جب بھی آپؐکسی بت کے پاس سے گزرتے تو اس کے ساتھ بت کی آنکھ میں مارتے اور فرماتے: جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔ یقیناً باطل بھاگ جانے والا ہی ہے۔
سوال: جو علوّ خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ کس رنگ میں ہوتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: یہ علوّ جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے اور شیطان کا علوّ استکبار سے ملا ہوا تھا۔ دیکھو! ہمارے نبی کریم ﷺ نے جب مکّہ کو فتح کیا تو آپ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح پر اُن مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکّہ میں آپ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا۔ جب آپ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپ نے سجدہ کیا۔
سوال: فتح مکّہ کے روز آپؐ کا قیام کہاں ہوا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:فتح مکہ کے روز آپؐنے خَیْف بنی کِنَانہ میں قیام فرمایا؟
سوال: فتح مکّہ کے روز آپؐنے کہاں قیام فرمایا اس تعلق سے حضرت مصلح موعودؓ نے کیا بیان فرمایا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تاریخ کی کتب سے لے کر بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکّہ میں داخل ہوئے آپ سے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا آپ اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ نے فرمایا کیا عقیل نے (یہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے) ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا بھی ہے؟ یعنی میری ہجرت کے بعد میرے رشتہ داروں نے میری ساری جائیداد بیچ باچ کر کھالی ہے۔ اب مکّہ میں میرے لیے کوئی ٹھکانا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا ہم خَیف بنی کِنَانہ میں ٹھہریں گے۔
سوال:جب رسول اللہ ﷺ نے مکّہ کے بالائی حصہ میں پڑاؤ فرمایا تو کس کے سسرالی رشتہ دار بھاگ کر اس کے پاس چلے گئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ام ہانی بنت ابی طالبؓبیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکّہ کے بالائی حصہ میں پڑاؤ فرمایا تو بنو مَخْزُوم میں سے میرے دو سسرالی رشتہ دار بھاگ کر میرے پاس آ گئے۔
سوال: اگر کسی دن تہجد نہ پڑھ سکو تو کیا کرو؟
 جواب: حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں:رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اگر تم کسی دن تہجد نہ پڑھ سکو تو اشراق ہی پڑھ لو۔
سوال: جب رسول کریم ﷺ فتح مکہ داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے ارد گرد کتنے اونٹ تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت ابن عمر ؓاور ابن عباسؓسے روایت ہے کہ فتح مکّہ کے روز آپ ﷺ مکّہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے جنہیں سیسے کے ساتھ لگایا گیا تھا۔ ہُبَل سب سے بڑا بت تھا۔ یہ خانہ کعبہ کے سامنے تھا۔ اِسَاف اورنائلہ اس جگہ تھے جہاں لوگ اپنے جانور ذبح کرتے تھے۔ آپ ﷺکے ہاتھ میں کمان تھی۔ آپ نے کمان کو کنارے سے پکڑا۔
سوال: جسم کی اصلاح کس طرح ہوسکتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حدیث میں آیا ہے کہ اگر قلب کی اصلاح ہوجاوے تو کُل جسم کی اصلاح ہوجاتی ہے۔
سوال: رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ نے فتح مکّہ کے دن فرمایا: اب ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو تم جہاد کے لیے نکلو اور اس شہر مکّہ کو اللہ نے حَرم قرار دیا ہے اس دن سے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ تو یہ روز قیامت تک اللہ کی حرمت سے حرم ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس میں جنگ جائز نہیں ہوئی اور میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی کے لیے ہی جائز ہوئی ہے۔ تو یہ شہر قیامت کے روز تک اللہ تعالیٰ کی حرمت سے حرم ہے۔ اس کا کانٹا نہ توڑا جائے اور اس کا شکاری جانور نہ بدکایا جائے یعنی اس کو ڈرایا نہ جائے۔ کوئی اس کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے مگر وہی جو اسے شناخت کرائے اور اس کا گھاس نہ کاٹا جائے۔ حضرت عباسؓنے کہا یا رسول اللہ! اِذخر کو مستثنیٰ کریں۔ اِذخر بھی گھاس کی ایک قسم ہے۔ کیونکہ یہ ان کے کاریگروں کے کام آتی ہے اور وہ ان کے گھروں کے لیے درکار ہے۔ فرمایا سوائے اِذخر کے۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اِذخر کو کاٹ سکتے ہو اپنے مقاصد کیلئے۔
سوال: حضرت مصلح موعودؓ اہل مکّہ کو معاف کرنے کے حوالے سے کون ساواقعہ بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓاہل مکّہ کو معاف کرنے کے حوالے سے واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ’’جب آپ ان باتوں سے فارغ ہوئے اور مکّہ والے آپ کی خدمت میں حاضر کیے گئے تو آپ نے فرمایا اے مکّہ کے لوگو! تم نے دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کے نشانات کس طرح لفظ بلفظ پورے ہوئے ہیں۔ اب بتاؤ کہ تمہارے ان ظلموں اور ان شرارتوں کا کیا بدلہ دیا جائے جو تم نے خدائے واحد کی عبادت کرنے والے غریب بندوں پر کیے تھے؟ مکّہ کے لوگوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسفؑنے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ یہ خدا کی قدرت تھی کہ مکّہ والوں کے منہ سے وہی الفاظ نکلے جن کی پیشگوئی خدا تعالیٰ نے سورۂ یوسف میں پہلے سے کر رکھی تھی اور فتح مکّہ سے دس سال پہلے بتادیا تھا کہ تُو مکّہ والوں سے ویسا ہی سلوک کرے گا جیسا یوسفؑنے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ پس جب مکّہ والوں کے منہ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ یوسفؑکے مثیل تھے اور یوسفؑ کی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بھائیوں پر فتح دی تھی تو آپ نے بھی اعلان فرما دیا کہ تَاللّٰہِ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ خدا کی قسم! آج تمہیں کسی قسم کا عذاب نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کی سرزنش کی جائے گی۔