اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-30

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 02 مارچ 2007 بطرز سوال وجواب

سوال:آنحضرت ﷺکا مخلوق خدا کے ساتھ کس طرح کا سلوک تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہما ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ حنین کے روز ایک مرتبہ میری وجہ سے نبی کریمؐ کا راستہ تنگ ہو گیا۔ اس وقت مَیں نے موٹے چمڑے کا جوتا پہنا ہوا تھا۔ میرا پاؤں رسول اللہؐ کے پاؤں پر آ گیا تو آپؐ نے اس کوڑے کے ساتھ جو آپؐنے پکڑا ہوا تھا مجھے جلدی سے پیچھے ہٹایا اور کہا بسم اللہ۔ تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ راوی کہتے ہیں مَیں نے وہ رات اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے گزار دی۔ مَیں اپنے دل میں بار بار سوچتا تھا کہ مَیں نے رسول اللہؐ کو تکلیف دی ہے۔ جب صبح ہوئی تو ایک شخص آیا اور پوچھا کہ فلاں کہاں ہے؟۔ مَیں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ مَیں یہاں ہوں اور ان کے ساتھ چل پڑا۔ آنحضرتؐکی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہ ؐ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا تم نے کل اپنی جوتی سے میرے پاؤں کو لتاڑ ہی دیا تھا اور تم نے مجھے تکلیف پہنچائی تھی لیکن مَیں نے تمہیں کوڑے کے ساتھ اپنے پاؤں سے پیچھے کیا تھا۔ تو یہ جو ہلکا سا کوڑا مَیں نے تمہیں مارا تھایہ، اسّی (80) دُنبیاں ہیں، بکریاں ہیں، بھیڑیں ہیں انہیں اس کے بدلہ میں لے لو۔
سوال:آندھی ،ہوا،بارش اور طوفان کے موقع پر کون سی دعا پڑھی جاتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول کریم ﷺایک دعا نے آندھی، ہوا، بارش اور طوفانوں کو دیکھ کر یہ دعا کو پڑھنے کا حکم دیا ہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَمَا فِیْہَا وَخَیْرَ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَ شَرِّمَا فِیْہَا وَ شَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہ۔کہ اے اللہ مَیں تجھ سے اس کی ظاہری و باطنی خیر و بھلائی چاہتا ہوں اور وہ خیر بھی چاہتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اور مَیں اس کے ظاہری و باطنی شر سے اور اس شر سے بھی پناہ مانگتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔
سوال: رسول کریم ﷺ کا غریبوں کے ساتھ حسن سلوک کس طرح کا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک روایت میں آتا ہے۔ ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ انہیں ابو امامہؓ نے بتایا کہ مدینہ کی بیرونی بستیوں کی غریب عورت بہت بیمار پڑ گئی۔ نبی کریمؐ اس کی صحت کے بارے میں صحابہ ؓ سے دریافت فرمایاکرتے تھے۔ آپؐنے فرمایا تھا کہ اگر یہ خاتون فوت ہو جائے تو اُس وقت تک اس کو دفن نہ کرنا جب تک مَیں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں۔ چنانچہ وہ فوت ہو گئی۔ رات کے وقت فوت ہوئی اور صحابہ اس کا جنازہ رات گئے مدینہ لائے تو انہوں نے رسول اللہؐ کو سویا ہوا پایا۔ انہوں نے آپؐکو جگانا پسند نہیں کیا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی نماز جنازہ خود ہی پڑھی اور جنت البقیع میں دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہؐ کے پاس حاضر ہوئے۔ اس پر رسول اللہؐ نے اس خاتون کے بارے میں دریافت فرمایا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ اسے تو دفن کر دیا، وہ رات فوت ہو گئی تھی۔ ہم آپؐکے پاس آئے تھے مگر آپؐکو سوئے ہوئے پایا تو ہم نے آپؐکو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ اس پر آپؐنے فرمایا مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔ چنانچہ آپؐ وہاں گئے اور قبرستان میں جا کر اس کی قبر جو آپؐکو دکھائی گئی تورسول اللہؐ وہاں کھڑے ہو گئے۔ صحابہ ؓآپؐ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور آپؐنے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اس نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں۔
سوال:جانوروں سے حسن و سلوک کے بارے میں رسول کریم ﷺنے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ایک آدمی راستے پر چلاجا رہا تھا اس کوشدید پیاس محسوس ہوئی اسے ایک کنواں نظر آیا۔ اس نے اُس میں اتر کر پانی پیا۔ جب وہ باہر نکلا تو اس نے ایک کتّے کو دیکھا جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی شدت کی وجہ سے مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے کہا کہ اس کتیّ کو بھی اسی طرح پیاس لگی ہے جس طرح مجھے لگی ہے۔ وہ دوبارہ کنویں میں اتر ااور اپنے موزے کو پانی سے بھر کر اپنے منہ کے ذریعہ سے اس کو پکڑا اور کتّے کو اس سے پانی بلایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کی قدر دانی کی اور اسے بخش دیا۔ صحابہ ؓنے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہمارے لئے جانوروں میں بھی اجر ہے؟ توآپؐنے فرمایا ہر جاندار میں اجر مقدر ہے۔
سوال:کس عمل کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ہر عمل جو نیک نیتی سے کیاجائے اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت کے صدقے ضروراس کا بدلہ دیتا ہے۔
سوال:کون سی چیز اللہ تعالیٰ کے رحم کے جذبے کے ماتحت ہونی چاہئے اس کے متلعق حضور انور نے کون سی حدیث بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بچوں کو پیار کرنا، ان کی تربیت کرنا یہ بھی ایک رحم کے جذبے کے تحت ہونا چاہئے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کے رحم کو سمیٹنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرنے والی ہے۔ عبد اللّٰہ بن بُسْرؓکہتے ہیں کہ رسول اللہؐ میرے والد کے ہاں بطور مہمان تشریف لائے ہم نے آپؐ کی خدمت میں کھانا پیش کیاجسے آپؐنے تناول فرمایا۔ پھر آپؐ کے پاس کھجوریں لائیں گئیں آپؐ انہیں کھاتے جاتے تھے اور اپنی دو انگلیوں سے(شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے) گٹھلیاں ایک طرف رکھتے جاتے تھے۔ پھر آپؐ کے پاس مشروب لایا گیا۔ جسے آپؐنے پینے کے بعد اپنے داہنے ہاتھ بیٹھے ہوئے شخص کو دیا۔ میرے والد نے آپؐکی سواری کی لگامیں پکڑ ے ہوئے عرض کیا کہ ہمارے لئے دعاکریں۔ آپؐنے یہ دعا کی: اے اللہ! جو تُو نے انہیں رزق عطا کیا ہے اس میں ان کے لئے برکت ڈال دے اور ان کو بخش دے اور ان پر رحم فرما۔
سوال:عورتوں سے حسن و سلوک کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: عورتوں کے حقوق قائم کرنے کے لئے، ان سے رحم کا سلوک کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے کے لئے ایک مثال د ی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓسے روایت ہے آپؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: عورتوں سے بھلائی سے پیش آیا کرو۔ عورت یقینا پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ پسلی کے اوپر کے حصہ میں زیاہ کجی ہوتی ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے۔ اور تم اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ پس تم عورتوں سے بھلائی سے ہی پیش آؤ۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لوگوں کی تکلیف کا کس قدر خیال تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مرزا بشیراحمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ باہر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیر کرکے تشریف لائے تو بہت سارے لوگ وہاں جمع تھے اُن لوگوں میں ایک سائل تھا، سوالی جو سوال کیا کرتا تھا۔ اس نے سوال کیا، آواز لگائی۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لوگوں کے رش کی وجہ سے صحیح طرح سے سن نہ سکے۔ تو جب اندر گئے تو احساس ہوا کہ سوالی نے ایک سوال کیا تھا تو آپؑ باہر آئے اور پوچھا تو لوگوں نے کہا وہ تو چلا گیا ہے۔ پھر آپؑ اندر چلے گئے اس وقت کہا کہ اسے تلاش کرو یا پھر تھوڑی دیر کے بعد سوالی پھر آگیا۔ آپؑ باہر آئے اس کی ضرورت پوری کی اور فرمایا میرا دل بڑا سخت بے چین تھا، مَیں دعا مانگ رہا تھا کہ وہ دوبارہ آئے اور مَیں اس کی ضرورت پوری کر سکوں۔