اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-30

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ27؍جون 2025بطرز سوال وجواب

سوال: جب ابوسفیان نے صحابہ کو نبی اکرمﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو کیا فرماتا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ابوسفیان نے صحابہ کو نبی اکرم ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اور کہا: مَیں نے کسریٰ کا دربار بھی دیکھا ہے اور قیصر کا دربار بھی دیکھا ہے لیکن ان کی قوموں کو ان کا اتنا فدائی نہیں دیکھا جتنا محمد رسول اللہ ﷺکی جماعت اس کی فدائی ہے۔
سوال: غزوہ فتح مکہ میں آنحضرت ﷺ نے کتنی جگہ آگ روشن فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوہ فتح مکہ میں آنحضرت ﷺ نے دس ہزار جگہ آگ روشن کروائی۔
سوال: ابوسفیان کیوں مبہوت ہو چکا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ابوسفیان نے دیکھا کہ چند ہی سال پہلے ہم نے رسول اللہ ﷺکو صرف ایک ساتھی کے ساتھ مکّہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن ابھی سات ہی سال گزرے ہیں کہ وہ دس ہزار قدوسیوں سمیت مکّہ پر بِلا ظلم اور بِلا تعدّی کے جائز طور پر حملہ آور ہوا ہے اور مکّہ والوں میں طاقت نہیں کہ اِس کو روک سکیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺکی مجلس تک پہنچتے پہنچتے کچھ ان خیالات کی وجہ سے اور کچھ دہشت اور خوف کی وجہ سے ابوسفیان مبہوت سا ہو چکا تھا۔
سوال: جب رسول کریم ﷺ نے ابوسفیان کی یہ حالت دیکھی تو حضرت عباسؓسےکیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول کریم ﷺنے اس کی یہ حالت دیکھی تو حضرت عباسؓسے فرمایا کہ ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور رات اپنے پاس رکھو۔ صبح اِسے میرے پاس لانا۔
سوال: جب لشکر گزرچکا تو عباسؓنے ابوسفیان سے کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب لشکر گزر چکا تو عباسؓنے ابوسفیان سے کہا کہ ’’اب اپنی سواری دوڑا کر مکّہ پہنچو اور ان لوگوں کو اطلاع دے دو کہ محمد رسول اللہ ﷺآگئے ہیں اور انہوں نے اِس اِس شکل میں مکّہ کے لوگوں کو امان دی ہے۔ جبکہ ابوسفیان اپنے دل میں خوش تھا کہ مَیں نے مکّہ کے لوگوں کی نجات کا رستہ نکال لیا ہے۔ اس کی بیوی ہندہ نے جو ابتدائے اسلام سے مسلمانوں سے بغض اور کینہ رکھنے کی لوگوں کو تعلیم دیتی چلی آئی تھی اور باوجود کافر ہونے کے فی الحقیقت ایک بہادر عورت تھی آگے بڑھ کر اپنے خاوند کی داڑھی پکڑی اور مکّہ والوں کو آوازیں دینی شروع کیں کہ آؤ اور اِس بڈھے احمق کو قتل کر دو کہ بجائے اِس کے کہ تم کو یہ نصیحت کرتا کہ جاؤ اور اپنی جانوں اور اپنے شہر کی عزت کے لیے لڑتے ہوئے مارے جاؤ یہ تم
میں امن کا اعلان کر رہا ہے۔ ابوسفیان نے اس کی حرکت کو دیکھ کر کہا کہ بے وقوف یہ اِن باتوں کا وقت نہیں جا اور اپنے گھر میں چھپ جا۔ میں اس لشکر کو دیکھ کر آیا ہوں جس لشکر کے مقابلہ کی طاقت سارے عرب میں نہیں ہے۔‘‘
سوال:ابوسفیان نے آنحضرت ﷺ مدح میں کیا فرمایا اور کس طرح اسلام قبول کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب ابوسفیان کو حضرت عباسؓنے رسول کریم ﷺ کے پاس لایا تو آپؐنے فرمایا:ابوسفیان! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تجھ پر یہ حقیقت روشن ہو جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ نہایت ہی حلیم، نہایت ہی شریف اور نہایت ہی صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں۔ میں اب یہ بات تو سمجھ چکا ہوں کہ اگر خدا کے سوا کوئی اَور معبود ہوتا تو کچھ تو ہماری مدد کرتا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوسفیان! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم سمجھ لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ابوسفیان نے کہامیرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اِس بارہ میں ابھی میرے دل میں کچھ شبہات ہیں۔ مگرابوسفیان کے تردّد کے باوجود اس کے دونوں ساتھی جو اس کے ساتھ ہی مکّہ سے باہر مسلمانوں کے لشکر کی خبر لینے کے لیے آئے تھے اور جن
میں سے ایک حکیم بن حزام تھے وہ مسلمان ہو گئے۔اس کے بعد ابوسفیان بھی اسلام لے آیا، مگر اس کا دل غالباً فتح مکّہ کے بعد پوری طرح کھلا۔
سوال: جب ابوسفیان نے رسول کریم ﷺ سے فرمایا یا رسول اللہ! اگر مکّہ کے لوگ تلوار نہ اٹھائیں تو کیا وہ امن میں ہوں گے اس پر رسول کریم ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ابوسفیان نے کہا۔یا رسول اللہ! اگر مکّہ کے لوگ تلوار نہ اٹھائیں تو کیا وہ امن میں ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں ! ہر شخص جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امن دیا جائے گا۔
سوال: رسول کریم ﷺ نے ابوسفیان کی عزت کا سامان کس طرح فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول کریم ﷺ نے ابوسفیان کی عزت کا سامان کس طرح فرمایا کہ آپ ﷺنے فرمایا:جو شخص ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے اس کو بھی امن دیا جائے گا۔ جو مسجد کعبہ میں گھس جائے اس کو بھی امن دیا جائے گا۔ جو اپنے ہتھیار پھینک دے اس کو بھی امن دیا جائے گا۔ جو اپنا دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے اس کو بھی امن دیا جائے گا۔ جو حکیم بن حزام کے گھر میں چلا جائے اس کو بھی امن دیا جائے گا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بارے میں کیافرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : آنحضرت ﷺکے زمانہ میں ابو سفیان ایک بڑا ضعیف القلب اور کم فراست والا آدمی تھا جب آنحضرت ﷺنے مکّہ پر فتح پائی تو اسے کہا کہ کیا تُو اب بھی نہیں سمجھتا؟ تجھے اب تک پتہ نہیں لگا کہ یہ انسانی ہاتھ کا کام نہیں ہے۔ اس نے جواب میں کہا کہ اب سمجھ آگئی ہے کہ تیرا خدا سچا ہے اگر ان بتوں میں کچھ ہوتا تو یہ ہماری اس وقت مدد کرتے۔ پھر جب اسے کہا گیا کہ تُو میری نبوت پر ایمان لاتا ہے؟ آنحضرت ﷺنے اس سے فرمایا، اس سے سوال کیا توا س نے تردّد ظاہر کیا اور اس کی سمجھ میں توحید آئی اور نبوت نہ آئی۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ بعض مادےہی ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں فراست کم ہوتی ہے جو توحید کی دلیل تھی وہی نبوت کی دلیل تھی مگر ابو سفیان اس میں تفریق کرتا رہا۔ اس نے توحید اور نبوت کو علیحدہ کر دیا تو آپ فرماتے ہیں کہ سب ایک طبقہ کے انسان نہیں ہوتے۔ کوئی اول جیسے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ان جیسے ہوتے ہیں کوئی اوسط درجہ کے اورکوئی آخر درجہ کے۔
سوال: حضور انور نے اسلامی لشکر کے مکّہ میں داخل ہونے کا واقعہ کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اسلامی لشکر کے مکّہ میں داخل ہونے کا واقعہ لکھا ہے۔ بخاری میں حضرت عروہؓسے روایت ہے کہ آپؐنے حضرت زبیر کو حکم دیا کہ مکّہ کے بالائی حصہ کَدَاءسے داخل ہوں۔ وہ اپنا جھنڈا حَجُون میں گاڑ دیں اور آپ کے آنے تک جگہ نہ چھوڑیں۔ حجون وادی مُحَصَّب کی طرف ایک پہاڑ ہے جو بیت اللہ سے ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ہے۔