سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 128 کی تلاوت فرمائی:لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
سوال: اللہ تعالیٰ اپنی ہستی کو کس طرح ظاہر فرماتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنی ہستی کو اپنی صفات سے ہم پر ظاہر فرماتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات کا نقشہ کس طرح کھینچا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرتؐ کی ذات بابرکات کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے۔آپؑ فرماتے ہیں :’’ وہ انسان جس نے اپنی ذات سے، اپنی صفات سے، اپنے افعال سے، اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُرزور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً و عملاً و صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا…وہ انسان جوسب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور
کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالَم کا عالَم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخرالنّبیین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے توُ نے کسی پر نہ بھیجا ہو…… اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ‘‘
سوال: ایمان لانے والوں کو دیکھ کر رسول کریم ﷺ انکو کس طرح سے خدا تعالیٰ کا قرب دلوانے کی کوشش کیا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مومنوں کے لئے بھی آپؐ کتنے حریص رہتے ہیں اس کا اظہار بھی اس آیت میں ہے۔ ایمان لانے والوں کو دیکھ کر آپؐ کو بڑی خوشی ہوتی تھی اور ان کو مختلف طریقوں سے اللہ تعالیٰ کا پیار اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے آپ رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔ ہر وقت یہ فکر تھی کہ میرے ماننے والے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی چادر میں لپٹے رہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہؐ سے عرض کیا، آپ مجھے کوئی دعا سکھائیں جو میں نماز میں کیا کروں۔ آپؐ نے فرمایا تو کہہ اے اللہ! یقینا مَیں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔ تُواپنی جناب سے میری مغفرت فرما اور مجھے رحمت سے نواز۔ یقینا تُو ہی غفور اور رحیم ہے۔
سوال: مومنوں کیلئے رحمت بننے کے لئے آپؐکے حریص ہونے کی انتہا کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مومنوں کے لئے رحمت بننے کے لئے آپ کے حریص ہونے کی انتہا دیکھیں۔ ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! جس مومن کو مَیں نے سخت الفاظ کہے ہوں تو توُ اس بات کو قیامت کے دن اس شخص کے لئے اپنے قریب ہونے کا ایک ذریعہ بنا دے۔
سوال: تعلیم قرآنی ہمیں کیا سبق دیتی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ تعلیم قرآنی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ نیکوں اور ابرار اخیار سے محبت کرو اور فاسقوں اور کافروں پر شفقت کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ یعنی اے کافرو! یہ نبی ایسا مشفق ہے جو تمہارے رنج کو دیکھ نہیں سکتا اور نہایت درجہ خواہشمند ہے کہ تم ان بلاؤں سے نجات پاؤ‘‘۔
سوال: اگر اپنی بقا چاہتے ہو تو کیا کرو؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اپنی بقا چاہتے ہو تو اس محسن انسانیت اور اللہ تعالیٰ کے پیارے نبیؐ کی ذات پر حملے بند کرو، اس سے تعلق پیدا کرو۔ اگر تعلق نہیں بھی رکھنا تو کم از کم شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ خاموش رہو۔
سوال: حضور انور نے ان بڑبولوں کے بارے میں کیا فرمایا جو آنحضرتؐ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مَیں ان بڑبولوں تک جو آنحضرتؐ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ پہنچانا چاہتا ہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں :’’ مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کریمؐ کی عزّت کے لئے جان دیتے ہیں اور وہ اس بے عزتی سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے شخصوں سے دلی صفائی کریں اور ان کے دوست بن جائیں جن کا کام دن رات یہ ہے کہ وہ ان کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت توہین سے اس کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ سے ان کو یاد کرتے ہیں۔ آپ یاد رکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ اُن کی راہ میں کانٹے بوتے ہیں۔ اور مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کر لیں تو یہ ممکن ہے مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بدگوئی سے باز نہیں آتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بدزبانی میں ہی فتح ہے۔ مگر ہر ایک فتح آسمان سے آتی ہے۔‘‘
سوال: رسول کریم ﷺ نے خدا سے کس انتہا کی محبت کی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں :’’اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی‘‘
سوال: فرشتے اس شخص کے لئے جو نماز والی جگہ پر رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہواس کے لئے کیا دعا کرتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا فرشتے تم میں سے اس شخص کے لئے جو نماز والی اپنی اس جگہ پر رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہو، بشرطیکہ وہ کوئی ناگوار بات نہ کرے، یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ اس پر رحم فرما۔ ضض ضض