اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-16

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ20؍جون 2025بطرز سوال وجواب

سوال: جب نبی کریم ﷺ کا لشکر فاران کے جنگل میں داخل ہوا تو اس کی کتنی تعداد تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب نبی اکرمﷺ کا لشکر فاران کے جنگل میں داخل ہوا تو اِس کی تعداد سلیمان نبی کی پیشگوئی کے مطابق دس ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
سوال: غزوۂ مکہ سے پہلے کون سا واقعہ پیش آیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:غزوۂ مکہ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے ایک واقعہ کا ذکرملتا ہے جس میں ذکر ہے کہ ایک صحابی نے اپنی ناسمجھی میں آنحضرت ﷺ کے سفر کی اطلاع مکہ والوں کو دینے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؐکو اس کی اطلاع دے دی اور یوں آنحضرت ﷺکے اس منصوبے کی کافروں کو خبر نہ پہنچ سکی۔
سوال: اس کی تفصیل حضور انور نے کیا بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس کی تفصیل میں لکھا ہے: مدینہ میں جب مکہ جانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں تو ایک بدری صحابی جو کہ مدینہ میں موجود تھے۔ حضرت حاطِب بن ابی بَلْتَعہؓ ان کا نام تھا۔ انہوں نے قریش کی طرف ایک خط لکھا جس میں انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺنے تمہاری طرف روانگی کا پروگرام بنایا ہے۔ انہوں نے وہ خط ایک عورت کے سپرد کیا جس کا تعلق مُزَیْنَہ سے تھا۔ اس عورت کا نام کَنُود یا سارہ تھا۔ یہ بنو عبدالمُطَّلِب میں سے ایک شخص کی لونڈی تھی۔ انہوں نے اس کے لیے اجرت مقرر کی کہ وہ یہ خط اہل مکہ تک پہنچا دے اور کہا کہ جہاں تک ممکن ہو اس خط کو مخفی رکھے اور عام راستےپر جانے سے منع کیا کیونکہ وہاں پہرہ تھا۔ اس عورت نے خط کو سر کی چوٹی میں رکھا اور مینڈھیاں بنا دیں۔ پھر خط کو لے کر نکلی۔ اس خط میں یہ درج تھا کہ نبی ﷺتمہاری طرف ایک ایسا لشکر لے کر آرہے ہیں جو رات کی مانند ہے۔ یعنی بہت بڑا لشکر ہے اور تند سیلاب کی طرح تیزی سے چلا آ رہا ہے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر وہ اکیلے بھی تمہاری طرف نکل پڑے تو تمہارے خلاف اللہ ان کی ضرور مدد کرے گا اور وہ خدا اپنا وعدہ پورا کر کے چھوڑے گا جو اس نے آپ ﷺسے کیا ہوا ہے اس لیے تم اپنا انتظام کر لو۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خط کے واقعہ کی تفصیل میں کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس واقعہ کا ذکر حضرت مصلح موعودؓنے بھی تاریخوں کی مختلف کتابوں کے حوالوں سے کیا ہے۔ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺکے زمانہ میں ایک صحابی نے اپنے رشتہ داروں کو مکہ پر مسلمانوں کے حملہ کرنے کی خبر پوشیدہ طور پر پہنچانی چاہی تاکہ اس ہمدردی کے اظہار کی وجہ سے وہ اس کے رشتہ داروں سے نیک سلوک کریں لیکن آنحضرت ﷺکو
الہام کے ذریعہ یہ بات بتا دی گئی۔ آپ نے حضرت علیؓ اور چند ایک اور صحابہ کو بھیجا کہ فلاں جگہ ایک عورت ہے اس سے جا کر کاغذ لے آؤ۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر اس عورت سے کاغذ مانگا تو اس نے انکار کر دیا۔ بعض صحابہ نے کہا کہ شاید رسول کریم ﷺکو غلطی لگی ہے۔ حضرت علیؓنے کہا نہیں آپؐکی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔یہ ایمان تھا۔ جب تک اس سے وہ کاغذ نہ ملے میں یہاں سے نہ ہٹوں گا۔ انہوں نے اس عورت کو ڈانٹا تو اس نے وہ کاغذ نکال کر دے دیا۔
سوال:نبی کریم ﷺ کی مدینہ سے روانگی کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:نبی اکرم ﷺکی مدینہ سے روانگی کے بارے میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابو رُھْم بن حُصَین غِفَارِی کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔ ابن اسحاق کے مطابق آپ مہاجرین، انصار اور عرب کے گروہوں کے ساتھ روانہ ہوئے جبکہ رمضان کے دس روز گزر چکے تھے لیکن مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق آپؐ2 رمضان کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ شارح بخاری علامہ ابن حجر نے 2 رمضان والی روایت کو ترجیح دی ہے۔ بہرحال اس سفر میں کچھ لوگ گھوڑوں پہ اور کچھ اونٹوں پر سوار تھے۔
سوال: رسول کریم ﷺ کی سرکردگی میں کتنی فوج شامل تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب مدینہ سے رسول اللہ ﷺکی سرکردگی میں فوج روانہ ہوئی تو اس میں تقریباً سات ہزار چار سو جانباز شامل تھے۔ اس تعداد میں مختلف قبائل بنو اسد اور سُلَیم وغیرہ کے شامل ہونے سے اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ مکہ کے راستے پر چلتے چلتے اس کی تعداد دس ہزار تک ہو گئی۔ آپؐصُلْصُل مقام پر پہنچے جو ذوالحلیفہ سے آگے چڑھائی پر مقام بَیْدَاءکے پاس ایک پہاڑ تھا تو آپؐنے حضرت زبیر بن عَوَّامؓکو دو سو سواروں کے ساتھ آگے بھیج دیا۔
سوال:اس سفر کے دوران آنحضرتﷺ کے ہمراہ کون سی زوجہ تھیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اس سفر میں آپ ﷺ کے ہمراہ ازواج مطہرات میں سے حضرت ام سلمہؓ تھیں۔ بعض روایات کے مطابق ام المومنین حضرت میمونہ ؓبھی ساتھ تھیں۔بخاری کی ایک روایت میں آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓکا بھی ذکر ملتا ہے کہ وہ بھی ساتھ تھیں۔
سوال: یہ سفر کون سے مہینہ میں ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یہ سفر رمضان کے مہینے میں ہوا تھا۔
سوال:آنحضرت ﷺنے صحابہ کے ساتھ مل کر روزہ کس مقام پر افطار کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس بارے میں روایات میں متعدد مقامات کا تذکرہ ملتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قُدَیْد میں افطار کیا۔ اس کی مزید تفصیل کہ آنحضرت ﷺنے اس سفر کے دوران روزہ کہاں افطار کیا تھا؟ اس کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے۔ علامہ عینی کے نزدیک بعض نے کَدِیدکی جگہ عُسْفَان لکھا ہے۔ بعض نے کُراع الغَمِیم کا ذکر کیا ہے۔ بعض نے قُدَیْد لکھا ہے۔ قاضی عیاض اس حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ روایات میں اس جگہ کے بارے میں اختلاف ہے جہاں نبی کریم ﷺنے روزہ افطار کیا تھا تاہم ان تمام روایات میں ایک ہی واقعہ بیان ہوا ہے اور وہ تمام جگہیں ایک دوسرے کے قریب ہیں اور یہ سب جگہیں عُسفان کے علاقے میں ہیں۔
سوال:اس سفر میں جانوروں سے ہمدردی کا کون سا واقعہ بیان ہوا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جانوروں سے ہمدردی کا واقعہ بھی اس میں آ جاتا ہے۔آپ ﷺ عَرج سے روانہ ہوئے تو راستے میں آپؐنے ایک کتیا دیکھی۔ اس کے بچے اس کا دودھ پی رہے تھے۔ آپ ﷺنے حضرت جُعَیْل بن سُرَاقَہ ؓکو حکم دیا کہ وہ اس کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔ جہاں یہ بیٹھی ہے وہاں کھڑے ہو جائیں تا کہ لشکر میں سے کوئی اس کے ساتھ یا اس کے بچوں کے ساتھ کوئی تعرض نہ کرے۔ ان کو ڈسٹرب نہ کرے۔
سوال:حضور انور نےحضرت عباس بن عبدالمطَّلِبؓ کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عباس بن عبدالمطَّلِبؓکا مختصر تعارف یہ ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلبؓرسول اللہ ﷺ کے چچا تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے دو یا تین سال بڑے تھے۔ اپنے بیٹے فضل بن عباس کی وجہ سے ابوالفضل کی کنیت سے مشہور تھے۔ حضرت ابوطالب کے بعد ’سِقَایَا‘ یعنی حاجیوں کو پانی پلانا ان کے ذمہ تھا۔ عَقَبَہ کے مقام پر جب انصار کی بیعت ہوئی تو حضرت عباسؓآپؐکے ہمراہ تھے اور جنگِ حنین میں آپؐکے ساتھ ثابت قدم رہے۔ بتیس یا تینتیس ہجری کو ان کی وفات ہوئی۔