اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-09

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 16 فروری 2007 بطرز سوال وجواب

سوال:اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے پر اپنی رحمیت کے جلوے دکھانے کے کیا طریقے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے پر اپنی رحیمیت کے جلوے دکھانے کے مختلف طریقے ہیں۔ کبھی بخشش طلب کرنے والوں کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھولتے ہوئے ان کی بخشش کے سامان قائم فرماتا ہے، انہیں نیکیوں کی توفیق دیتا ہے۔ کبھی اپنے بندے کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تمہارا میرے سے، میری رحمت کی طلب بھی، میری مہربانی سے ہے۔ اگر میرا فضل نہ ہوتا تو میری رحمت کی طلب کا تمہیں خیال نہ آتا۔ میری صفت رحمانیت کا تمہارے دل میں احساس بڑھنے سے تم میری طرف جھکے ہو اور کیونکہ یہ ایمان والوں کا شیوہ ہے کہ انہیں یہ احساس کرتے ہوئے جھکنا چاہئے کہ کتنے انعامات اور احسانات سے اللہ تعالی ہمیں نواز رہا ہے۔ اس احساس کے زیر اثر تم جھکے ہو اور میری رحیمیت سے حصہ پایا ہے۔
سوال: ایک مومن کی کیا نشانی ہوتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایک مومن کی نشانی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت سے زیادہ سے زیادہ حصہ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ہی ہے جو مومن اور غیر مومن میں فرق کرنے والی ہے۔ ایک مومن ہی کی یہ شان ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے تو اس سے روحانی اور مادی انعاموں اور اس کی رضا کا طلب گار ہوتا ہے اور پھر وہ اس کو ملتے ہیں۔
سوال:رحمت کی دوسری قسم کیا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جو انسان کے اعمال حسنہ پر مترتب ہوتی ہے کہ جب وہ تضرّع سے دعا کرتا ہے تو قبول کی جاتی ہے اور جب وہ محنت سے تخمریزی کرتا ہے تو رحمت الٰہی اس تخم کو بڑھاتی ہے یہاں تک کہ ایک بڑا ذخیرہ اناج کا اس سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح
اگر غور سے دیکھو تو ہمارے ہر یک عمل صالح کے ساتھ خواہ وہ دین سے متعلق ہے یا دنیا سے، رحمت الٰہی لگی ہوئی ہے اور جب ہم ان قوانین کے لحاظ سے جو الٰہی سنتوں میں داخل ہیں کوئی محنت دنیا یا دین کے متعلق کرتے ہیں تو فی الفور رحمت الٰہی ہمارے شامل حال ہوجاتی ہے اور ہماری محنتوں کو سرسبز کر دیتی ہے۔
سوال: ایک حقیقی مومن کی کیا نشانی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مومن دین اور دنیا کے انعامات کے لئے اللہ تعالیٰ کو اس کی رحیمیت کا واسطہ دیتے ہوئے اس کے آگے جھکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ قوانین الٰہی کے مطابق انعاموں کو حاصل کرنے کے لئے اور رحیمیت سے حصہ پانے کے لئے دعا کے ساتھ اُن اسباب اور قویٰ کو بھی کام میں لانا ہو گا جو کسی کام کے لئے ضروری ہیں۔ پھر نماز، روزہ، زکوٰۃ صدقہ وغیرہ ہیں۔ یہ اُس وقت اللہ کے حضور قبولیت کا درجہ رکھنے والے اور اس کی رحیمیت کے معجزات دکھانے والے ہوں گے جب دوسرے اعمال صالحہ کی بجا آوری کی طرف بھی توجہ ہو گی۔ اور یہی ایک مومن کا خاصہ ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والا ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کے صدقہ اس کے انعاموں کا طلبگار ہوتا ہے۔
سوال: فیض رحیمیت کس شخص پر نازل ہوتا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:فیض رحیمیت اُسی شخص پر نازل ہوتا ہے جو فیوض مترقبہ کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے۔ اسی لئے یہ ان لوگوں سے خاص ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ربّ کریم کی اطاعت کی۔ جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا (الاحزاب:44) میں تصریح کی گئی ہے۔ یعنی وہ مومنوں کے حق میں بار بار رحم کرنے والا ہے۔
سوال: حقیقی اطاعت کب ہوگی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ایمان کے ساتھ اطاعت شرط ہے، اور اطاعت اس وقت حقیقی اطاعت ہو گی جب یہ مومن ہر قسم کے اعمال صالحہ بجا لانے والا ہو گا اور پھر ایمان میں مضبوط ہوتا چلاجائے گا۔
سوال:اللہ تعالیٰ کی خاطر جہاد کرنے والے،اسکی خاطر قربانیاں کرنے والے اوراسکی خاطر ہجرت کرنے والے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایاـ:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے راستے میں جہاد کرنے والے، میری خاطر قربانیاں کرنے والے اور میری خاطر ہجرت کرنے والے، یہ بھی ایسے لوگ ہیں جو میرے قریبیوں میں سے ہیں جو میری رحمت سے وافر حصہ پانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
سوال: ہجرت سے کیا مراد ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: یہاں ہجرت سے مراد صرف ایک جگہ کو چھوڑنا ہی نہیں ہے کہ ہمیں اس لئے اسے چھوڑنا پڑا کیونکہ ان نیکیوں کو بجالانے میں کسی خاص جگہ پر، یا کسی شہر میں یا ملکوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نفس کی خواہشوں کو چھوڑنے والے لوگ بھی اس زمرہ میں شامل ہیں جو اپنے نفس کو قربان کرنے والے ہیں، اپنی برائیوں کو ختم کرکے نیکیوں پر قائم ہونے والے ہیں۔ پس ان مغربی ممالک میں آنے والے افراد کو بھی اس طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ اگر حالات کی وجہ سے اپنے ملکوں کو چھوڑنا پڑا ہے تو صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ باہر آ کر ہمارے حالات اچھے ہو گئے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ لینے کے لئے اپنی حالتوں کوبھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ اپنے نفس کی بدیوں کو باہر نکال کر ان میں نیکیوں کو داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ تب یہ ہجرت مکمل ہوتی ہے۔
سوال: ایمان کے ساتھ کس کی شرط منسلک ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایمان کے ساتھ ہجرت کی اور جہاد کی شرط رکھی ہے اور یہ چیزپھر ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید دلاتی ہے۔