سوال: غزوہ فتح مکہ کے دوران جب رسول کریم ﷺکو خُزاعہ کے واقعہ کی خبر ملی تو آپؐنے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپؐکو خُزاعہ کے واقعہ کی خبر ملی تو فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مَیں ان کی ہر اس چیز سے حفاظت کروں گا جس سے میں اپنے اہل اور گھر والوں کی حفاظت کرتا ہوں۔
سوال:ساری تدابیر اختیار کرنے کے بعد آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ساری تدابیر اختیار کرنے کے بعد آپ ﷺنے اپنے خدا کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائےاور عرض کیا: اَللّٰهُمَّ خُذْ عَلٰى أَسْمَاعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ فَلَا يَرَوْنَا اِلَّا بَغْتَةً، وَلَا يَسْمَعُوْنَ بِنَا اِلَّا فَجْأَةً
سوال: آنحضرت ﷺنے ابوسفیان کے مدینہ آنے سے پہلے صحابہؓ سے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺنے ابوسفیان کے مدینہ آنے سے پہلے صحابہؓ سے فرمایا: ابوسفیان تمہارے پاس آ رہا ہے وہ کہہ رہا ہے معاہدہ کی تجدید کر دو اور صلح میں اضافہ کر دو لیکن وہ ناراضگی لے کر واپس جائے گا۔ اس کی کوئی بات نہیں مانی جائے گی۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے قریش کے عہد کو توڑنے کی کیا وجہ بیان فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آپ ﷺنے فرمایا: قریش نے وہ عہد اس امر کے لیے توڑا ہے جس کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا کہ اللہ کے رسولؐ! کیا اس میں بھلائی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں اس میں بھلائی ہے۔
سوال:رسول کریم ﷺ نے حضرت ضمرہؓکو قریش کی طرف جب بھیجا تو ساتھ ہی ان کو کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایاـ:آپؐنے حضرت ضمرہؓ کو قریش کے پاس بھیجا اور تین امور میں سے ایک کو اختیار کرنے کے لیے کہا کہ یا تو وہ بنوخُزاعہ کے مقتولوں کی دیت ادا کر دیں یا بنونُفَاثَہ سے لاتعلقی کا اظہار کر دیں یا حدیبیہ کا معاہدہ ختم کر دیں۔
سوال: غزوہ فتح مکہ کا کیا سبب ہو ا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس غزوہ کے سبب کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ اس غزوہ کا فوری سبب یہ ہوا کہ قریش نے اس معاہدہ کو توڑ دیا جو حدیبیہ میں ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺکے قاصد کو بڑے تکبرانہ انداز میں کہہ دیا کہ ہم معاہدہ ختم کرتے ہیں اور ہم محمد ﷺ سے جنگ کریں گے۔ جب رسول اللہ ﷺکو یہ خبر پہنچی تو آپؐنے مکہ کا رخ کیا۔ ان کی عہد شکنی کی تفصیل یوں ہے کہ جب صلح حدیبیہ ہوئی تو اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ قبائلِ عرب میں سے جو چاہے وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاہدہ کر لے اور جو چاہے وہ قریش کے ساتھ معاہدہ کر لے۔ چنانچہ بنوبکر اور بنوخُزاعہ جو حرم کے ارد گرد آباد تھے ان میں سے بنوخُزاعہ نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ معاہدہ کر لیا اور ان کے حریف قبیلے بنوبکر نے قریش کے ساتھ معاہدہ کر لیا اور دونوں قبائل آپسی لڑائی سے محفوظ ہو گئے۔
سوال: رسول کریم ﷺکو بنو خزاعہ کے واقعہ کا کس طرح معلوم ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺکو اس واقعہ کا جو بنوخُزاعہ پر حملہ ہوا تھا کشفی طور پر علم اللہ تعالیٰ نے دیا۔
سوال: حضرت مصلح موعود ؓ نے اس غزوہ کی کیا تفصیل بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں: آٹھویں سنہ ہجری کے رمضان کے مہینہ … میں رسول کریم ﷺ اس آخری جنگ کے لیے روانہ ہوئے جس نے عرب میں اسلام کو قائم کر دیا۔ یہ واقعہ یوں ہوا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ عرب قبائل میں سے جو چاہیں مکہ والوں سے مل جائیں اور جو چاہیں محمد رسول اللہ ﷺکے ساتھ مل جائیں اور یہ کہ دس سال تک دونوں فریق کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں ہو گی سوائے اس کے کہ ایک دوسرے پر حملہ کر کے معاہدہ کو توڑ دے۔ اس معاہدہ کے ماتحت عرب کا قبیلہ بنوبکر مکہ والوں کے ساتھ ملا تھا اور خُزاعہ قبیلہ محمد رسول اللہ ﷺکے ساتھ کفار عرب معاہدہ کی پابندی کا خیال کم ہی رکھتے تھے خصوصاً مسلمانوں کے مقابلہ میں۔ چنانچہ بنوبکر کو چونکہ قبیلہ خُزاعہ کے ساتھ پرانا اختلاف تھا، صلح حدیبیہ پر کچھ عرصہ گزرنے
کے بعد انہوں نے مکہ والوں سے مشورہ کیا کہ خُزاعہ تو معاہدہ کی وجہ سے بالکل مطمئن ہیں۔ اب موقع ہے کہ ہم لوگ ان سے بدلہ لیں۔ چنانچہ مکہ کے قریش اور بنوبکر نے مل کر رات کو بنی خُزاعہ پر چھاپا مارا اور ان کے بہت سے آدمی مار دیے۔ خُزاعہ کو جب معلوم ہوا کہ قریش نے بنوبکر سے مل کر یہ حملہ کیا ہے تو انہوں نے اس عہد شکنی کی اطلاع دینے کے لیے چالیس آدمی تیز اونٹوں پر فوراً مدینہ کو روانہ کیے اور رسول اللہ ﷺسے مطالبہ کیا کہ باہمی معاہدہ کی رو سے اب آپؐکا فرض ہے کہ ہمارا بدلہ لیں اور مکہ پر چڑھائی کریں۔ جب یہ قافلہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپؐنے فرمایا: تمہارا دکھ میرا دکھ ہے۔ میں اپنے معاہدہ پر قائم ہوںیہ بادل جو سامنے برس رہا ہے۔ (اس وقت بارش ہو رہی تھی) جس طرح اس میں سے بارش ہو رہی ہے اسی طرح جلدی ہی تمہاری مدد کے لیے اسلامی فوجیں پہنچ جائیں گی۔
سوال: ابو سفیان نے مدینہ پہنچ کر کس بات پر زور دینا شروع کر دیا؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابوسفیان کو مدینہ روانہ کیا تا کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو حملے سے باز رکھے۔ ابوسفیان نے مدینہ پہنچ کر رسول ﷺپر زور دینا شروع کیا کہ چونکہ صلح حدیبیہ کے وقت مَیں موجود نہ تھا اس لیے نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے لیکن رسول اللہ ﷺنے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا کیونکہ جواب دینے سے راز ظاہر ہو جاتا تھا۔ ابوسفیان نے مایوسی کی حالت میں گھبرا کر مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا اے لوگو! میں مکہ والوں کی طرف سے نئے سرے سے آپ لوگوں کے لیے امن کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ بات سن کر مسلمان اس کی بیوقوفی پر ہنس پڑے اور رسول اللہ ﷺنے فرمایا ابوسفیان! یہ بات تم یکطرفہ کہہ رہے ہو ہم نے کوئی ایسا معاہدہ تم سے نہیں کیا۔
سوال: حدیبیہ کے وقت کیا واقعی ابو سفیان موجود نہ تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہمارے ریسرچ سیل والے اس بارے میں ایک نوٹ لکھتے ہیں کہ ابوسفیان کا یہ کہنا کہ میں صلح حدیبیہ کے وقت موجود نہ تھا۔ ان کے نزدیک یہ محل نظر ہے یا بعض لوگوں نے لکھا بھی ہو اس لیے انہوں نے اس نکتہ کو اٹھا لیا۔ عام سمجھنے والے کے لیے تو یہ ضروری نہیں ہے لیکن جو لوگ تاریخی معاملات میں گہرائی میں جانا چاہتے ہیں وہ شاید یہ سوال اٹھائیں کہ یہ کہنا کہ میں موجود نہیں تھا محل نظر ہے کیونکہ تاریخ و سیرت کی کچھ کتب میں اس موقع پر یعنی مدینہ آمد پر ابوسفیان کا یہ کہنا موجود ہے کہ میں صلح حدیبیہ کے وقت موجود نہ تھا لیکن اکثر کتب خاموش ہیں۔ اور مؤرخین کی اکثریت نے ابوسفیان کی اس بات کا ذکر نہیں کیا۔
سوال: آپ ﷺنے اس سفر کو پوشیدہ رکھنے کے لئے کیا تدابیر اختیار کیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپ ﷺنے اس سفر کو پوشیدہ رکھنے کے لیے مختلف تدابیر اختیار فرمائیں۔ چنانچہ آپؐنے سفر سے پہلے آٹھ آدمیوں پر مشتمل ایک پارٹی کو حضرت اَبُوقَتَادہ بن رِبْعِیؓ کی قیادت میں وادی اِضَم کی طرف، مکہ کی مخالف سمت بھیجا تا کہ گمان کرنے والا گمان کرے کہ آپؐاس سمت جانے کا عزم کر رہے ہیں اور خبر نہ پھیل سکے۔ اِضم مدینہ سے چھتیس میل کے فاصلے پر مشرق کی طرف نجد میں ایک وادی ہے۔
سوال: قریش کے جاسوسوں اور انکے مخبروں کے متعلق کون سی دعا فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آپ ﷺکی ایک اَور دعا بھی ملتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اَللّٰهُمَّ خُذِ الْعُيُوْنَ وَالْاَخْبَارَ عَنْ قُرَيْشٍ حَتّٰى نَبْغَتَهَا فِيْ بِلَادِهَا۔ اے اللہ! قریش کے جاسوسوں کو اور ان کے مخبروں کو روکے رکھ یہاں تک کہ ہم لوگوں کو ان کے علاقوں میں اچانک پا لیں۔