اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-02

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 09 فروری 2007 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ النحل کی آیت نمبر 19 کی تلاوت فرمائی: وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
سوال: سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالیٰ کی تیسری صفت کون سی بیان ہوئی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سب جانتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ جو قرآن کریم کی پہلی سورۃ ہے اور جسے ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کی جو تیسری صفت بیان ہوئی ہے وہ اَلرَّحِیْم ہے۔
سوال: تیسری خوبی جو خدا تعالیٰ کی سورۃ الفاتحہ میں بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:تیسری خوبی خداتعالیٰ کی جو تیسرے درجہ کا احسان ہے رحیمیت ہے۔ جس کو سورۂ فاتحہ میں اَلرَّحِیْم کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اور قرآن شریف کی اصطلاح کے رو سے خداتعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییعِ اعمال سے ان کو محفوظ رکھتاہے۔
سوال: مفردات امام راغب میں اَلرَّحِیْم کی کیا تشریح بیان ہوئی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ اَلرَّحِیْم اُسے کہتے ہیں جسکی رحمت بہت زیادہ ہو۔
سوال: علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ نے الرحمٰن کی کیا تشریح فرمائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلرَّحْمٰن کا نام اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے۔ جبکہ اَلرَّحِیْم اللہ تعالیٰ کے لئے بھی اور اس کے سوا بھی بولا جاتا ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ پھر اس طرح اَلرَّحْمٰن برتر اور اعلیٰ ہے۔ تو پھر ادنیٰ کا ذکر اعلیٰ کے بعد کیوں کیا گیا۔ یعنی پہلے رحمن اور پھر رحیم۔ تو کہتے ہیں کہ اس کا جواب یہ ہے کہ سب سے بڑا عظیم جو ہوتا ہے اس سے معمولی اور سہل الحصول چیز طلب نہیں کی جاتی۔ حکایت ہے کہ کوئی شخص کسی بڑے آدمی کے پاس گیا اور کہا کہ میں ایک معمولی سے کام کے لئے حاضر ہوا
ہوں۔ جس پر اس بڑے آدمی نے کہا کہ معمولی کام کے لئے کسی معمولی شخص کے پاس جاؤ۔ تو گویا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تم رحمن کے ذکر پر رک جاؤ تو مجھ سے مانگنے سے جھجھکتے اور شرماتے رہو گے۔ اور معمولی معمولی ضروریات مجھ سے مانگنے سے رک جاؤ گے لیکن جیسا کہ تم مجھے جانتے ہو کہ مَیں رحمن ہوں اور اس حوالے سے تم مجھ سے بڑی بڑی چیزیں طلب کرتے ہو۔ ویسا ہی مَیں رحیم بھی ہوں۔ پس تم مجھ سے جوتے کا تسمہ بھی طلب کرو اور اپنی ہنڈیاکا نمک بھی مانگو۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےصفت رحیمیت کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: رحیمیت وہ فیض الٰہی ہے جو صفت رحمانیت کے فیوض سے خاص تر ہے۔ یہ فیضان نوع انسانی کی تکمیل اور انسانی فطرت کو کمال تک پہنچانے کے لئے مخصوص ہے۔ لیکن اس کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا، عمل صالح بجا لانا اور جذبات نفسانیہ کو ترک کرنا شرط ہے۔ یہ رحمت پورے طور پر نازل نہیں ہوتی جب تک اعمال بجا لانے میں پوری کوشش نہ کی جائے۔ اور جب تک تزکیہ نفس نہ ہو اور رِیا کو کلی طور پر ترک کرکے خلوص کامل اور طہارتِ قلب حاصل نہ ہو اور جب تک خدائے ذوالجلال کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر موت کو قبول نہ کر لیا جائے۔ پس مبارک ہیں وہ لوگ جنہیں ان نعمتوں سے حصہ ملا بلکہ وہی اصل انسان ہیں اور باقی لوگ تو چارپایوں کی مانند ہیں۔
سوال: صفت رحیم کی وجہ کیا انعام ملتا ہے ؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں:چوتھا سمندر صفت اَلرَّحِیْم ہے اس سے صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے تابندہ خاص انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہو جائے کیونکہ رحیمیت ایسی صفت ہے جو انعامات خاصّہ تک پہنچا دیتی ہے۔ جن میں فرمانبردار لوگوں کا کوئی شریک نہیں ہوتا۔ گو (اللہ تعالیٰ کا) عام انعام انسانوں سے لے کر سانپوں، اژدہاؤں تک کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے ان انعام یافتہ لوگوں کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ان انعام یافتہ لوگوں کی تعریف اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی ہے: وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا(النساء:70) اور جو لوگ بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔ یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔ اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔ تو رحیمیت سے فیض حاصل کرنا بعض عمل چاہتا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اس میں سے جو بنیادی چیز ہے وہ اللہ اور رسول کی کامل اور مکمل اطاعت ہے تبھی انعام یافتہ ٹھہریں گے۔
سوال:فلسفہ دعا اور رحیمیت کے تعلق سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک جگہ فلسفہ دعا اور رحیمیت کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود
علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’دوسری رحمت رحیمیت کی ہے۔ یعنی جب ہم دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ غور کیا جاوے تو معلوم ہو گا کہ قانون قدرت کا تعلق ہمیشہ سے دعا کا تعلق ہے۔ بعض لوگ آج کل اس کو بدعت سمجھتے ہیں۔ ہماری دعا کا جو تعلق خداتعالیٰ سے ہے مَیں چاہتا ہوں کہ اسے بھی بیان کروں ‘‘۔
سوال:اللہ تعالیٰ کی صفات رحمان اور رحیم کے بارے میں علامہ رازی ؒ نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:پھر علاّمہ رازیؒ فرماتے ہیں کہ وہ رحمان ہے اس نسبت سے کہ وہ ایسی تخلیق کرتا ہے کہ جس کی طاقت بندہ نہیں رکھتا اور وہ رحیم ہے اس نسبت سے کہ وہ ایسے افعال کرتا ہے کہ جیسے افعال کر ہی نہیں سکتا۔ گویا وہ فرماتا ہے کہ مَیں رحمن ہوں کیونکہ تم ایک حقیر سے نطفہ کا ذرہ میرے سپرد کرتے ہو تو مَیں تمہیں بہترین شکل و صورت عطا کرتا ہوں۔ نیز مَیں رحیم ہوں کیونکہ تم ناقص اطاعت مجھے دیتے ہو مگر مَیں تمہیں اپنی خالص جنت عطا کرتا ہوں۔
سوال: صفت رحیمیت سے فیض پانےکیلئے کیا بنیادی چیزیں ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: صفت رحیمیت سے فیض پانے کے لئے اعمال صالحہ اور استغفار انتہائی بنیادی چیزیں ہیں۔
سوال:رحیمیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت غَفُوْر کو کیوں رکھا ہوا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رحیمیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت غَفُوْر کو اس لئےرکھا ہوا ہے تاکہ بندوں کے لئے جو رحم اللہ تعالیٰ رکھتا ہے اس کی وجہ سے ان کو مغفرت کی چادر سے ڈھانپ لے اور ڈھانپتے ہوئے ان کی پردہ پوشی فرماتا رہے۔