سوال: اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کیا الہامات کئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً فرمایا تھا کہ ’’غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ تیرے لئے مَیں نے رحمت اور قدرت کو اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔‘‘اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپؑکو الہاماً فرمایا کہ یَا اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ اے احمد! تیرے لبوں پر رحمت جاری ہوئی ہے۔
سوال: کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام مخلوق کی خدمت کیا کرتے تھے اور آپؑ کے دل میں ان کی روحانی ترقی کیلئے کتنا درد تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک لالہ شرمپت رائے ہوتے تھے۔ قادیان کے رہنے والے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آپؑکی بعثت کے ایام سے بھی پہلے آیا کرتے تھے اور آپؑ کے بہت سے نشانات کے وہ گواہ تھے… ایک مرتبہ وہ بیمار ہوئے۔ مجھے اس وقت قادیان ہجرت کرکے آجانے کی سعادت حاصل ہو چکی تھی۔ ان کے پیٹ پر ایک پھوڑا نکلا تھا اور اس دُنبل نے، بہت گہرا پھوڑا تھا، اس نے خطرناک شکل اختیار کر لی تھی۔ حضرت اقدس ؑ کو اطلاع ہوئی۔ آپؑخود لالہ شرمپت رائے کے مکان پر تشریف لے گئے جو نہایت تنگ اور تاریک سا چھوٹا سا مکان تھا۔ اکثر دوست بھی آپؑکے ساتھ تھے مَیں بھی ساتھ تھا، جب آپ نے لالہ شرمپت رائے کو جا کے دیکھا تو وہ نہایت گھبرائے ہوئے تھے اور ان کو یقین تھا کہ میری موت آنے والی ہے۔ بڑی
بے قراری سے باتیں کر رہے تھے، جیسے انسان موت کے قریب کرتا ہے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کو بڑی تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں اور ڈاکٹر عبداللہ صاحب کو مقرر کیااور کہا کہ وہ اچھی طرح علاج کریں گے۔ چنانچہ دوسرے دن حضرت اقدسؑ ڈاکٹر صاحب کو ساتھ لے گئے اور ان کو خصوصیت کے ساتھ لالہ شرمپت رائے کے علاج پر مامور کیا۔ اور اس علاج کا بار یا خرچ لالہ صاحب پر نہیں ڈالا اور روزانہ بلاناغہ آپؑانکی عیادت کو جاتے تھے اور جب زخم مندمل ہونے لگے اور ان کی وہ نازک حالت بہتر حالت میں تبدیل ہو گئی۔ توپھر آپؑنے وقفہ سے جانا شروع کیا اور اُس وقت تک عیادت کا یہ سلسلہ جاری رکھا جب تک وہ بالکل اچھے نہیں ہو گئے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلب میں مخلوق کی ہمدردی اور غمگساری کس طرح کی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت یعقوب علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صاحب لکھتے ہیں کہ عیادت کیلئےباوجودیکہ آپؑتشریف لے جاتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے آپ کے قلب کو مخلوق کی ہمدردی اور غمگساری کے لئے جہاں استقلال سے مضبوط کیا ہوا تھا وہاں محبت اور احساس کیلئے اتنا رقیق تھاکہ آپؑاپنے مخلص احباب کی تکالیف کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ سکتے تھے اور اندیشہ ہوتا تھا کہ اگر آپؑاس موقعہ تکلیف پر پہنچ جاویں تو طبیعت بگڑ نہ جاوے۔ اسلئے بعض اوقات عیادت کے لئے خود نہ جاتے اور دوسرے ذریعہ سے عیادت کرلیتے یعنی ڈاکٹر وغیرہ کے ذریعہ سے حالات دریافت کر لیتے اور مریض کے عزیزوں رشتہ داروں کے ذریعہ سے تسلّی دیتے اور ایسا ہوا کہ اپنی اس رِقّت قلبی کا اظہار بھی بعض اوقات فرمایا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب کسی کی حاجت و ضرورت کا پتہ لگتا تو آپؑکیا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عرفانی صاحبؓ لکھتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کی عادت میں یہ امر بھی داخل تھا کہ بعض اوقات وہ کسی کی حاجت یا ضرورت کا احساس کرکے اس کے سوال یا اظہار کے منتظر نہ رہتے تھے بلکہ خود بخود ہی پیش کر دیا کرتے تھے۔ مکرمی شیخ فتح محمد صاحب پنشنر انسپکٹر ریاست کشمیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرصہ دراز سے آنے والے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں جب کبھی حضرت کی خدمت میں آتا تو ہمیشہ میرا کرایہ ادا کرنے کیلئے تیار ہوتے تھے۔ مگر مجھے چونکہ ضرورت نہ ہوتی تھی مَیں نے کبھی نہیں لیا۔ حضرت کی روح سخاوت اس قدر عظیم الشان تھی کہ آپ بغیر استفسار ہمیشہ پیش کر دیتے اور یہ میرے ساتھ معاملہ نہ تھا بلکہ اکثروں کو دیتے رہتے تھے۔ شام اور عرب سے بھی بعض لوگ آتے اور آپؑان کو بعض اوقات بیش قرار رقوم زادراہ کے طور پر دیتے۔ کیونکہ حضورؑ جانتے تھے کہ وہ دور دراز سے آئے ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب کسی کو کچھ دیتے تو کس طرح دیتے؟
جواب: حضورانور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عام عادت تھی کہ جو کچھ کسی کو دیتے تھے وہ کسی نمائش کے لئے نہ ہوتا تھا بلکہ محض خداتعالیٰ کی رضا کے لئے اور شفقت علی خلق اللہ کے نکتہ خیال سے اور اس لئے آپ عام طور پر نہایت مخفی طریقوں سے عطا فرماتے تھے اور کبھی دوسروں کو تحریک کرنے کے لئے اور عملی سبق دینے کے واسطے اعلانیہ بھی کرتے تھے، خداتعالیٰ کا حکم دونوں طرح ہے۔ تو مخفی طور پر عطا کرنے میں آپؑکا ایک یہ بھی طریق تھاکہ بعض اوقات ایسے طور پر دیتے تھے کہ خود لینے والے کو بھی بمشکل علم ہوتا تھا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی و انکساری کے متعلق حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت مولوی عبدالکریمؓصاحب لکھتے ہیں کہ بعض وقت دوائیاں لینے کے لئے گنوار عورتیں زور زور سے دروازے پر دستک دیتی تھیں اور سادہ اور گنواری زبان میں کہتی تھیں کہ مِرْجا جی ذرا بُوا کھولو۔ حضور اس طرح اٹھتے جس طرح مطاعِ ذیشان کا حکم آیا ہے، یعنی بڑا کوئی حاکم باہر کھڑا ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ فوراً اٹھ کر دروازہ کھولتے اور بڑی کشادہ پیشانی سے بڑی خوشدلی سے باتیں کرتے اور دوائی بتاتے۔ تو مولوی عبدالکریم صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں وقت کی قدر پڑھی ہوئی جماعت کو بھی نہیں تو پھر گنوار تو اور بھی وقت کے ضائع کرنے والے ہوتے ہیں۔ ویسے ابھی تک یہ حال ہے۔ ایک عورت بے معنی بات چیت کرنے لگ گئی ہے اور اپنے گھر کا رونا اور ساس نند کا گلہ شروع کر دیا ہے۔ گھنٹہ بھر اسی میں ضائع کر دیا ہے۔ آئی دوائی لینے اور ساتھ قصے شروع کر دیئے اور آپؑوقار اور تحمل سے بیٹھے سن رہے ہیں۔ زبان سے یا اشارے سے اس کو کہتے نہیں کہ بس جاؤ دوا پوچھ لی اب کیا کام ہے ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے۔ وہ خود ہی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوتی اور مکان کو اپنی ہوا سے پاک کرتی۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں کس قدر رحم اور ہمدردی کا جذبہ تھا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ جلّشانہٗ خوب جانتا ہے کہ مَیں اپنے دعویٰ میں صادق ہوں، نہ مفتری ہوں، نہ دجّال، نہ کذّاب۔ اس زمانہ میں کذّاب اور دجّال اور مفتری پہلے اِس سے کچھ تھوڑے نہیں تھے تا خداتعالیٰ صدی کے سر پر بھی بجائے ایک مجدّد کے جو اس کی طرف سے مبعوث ہو ایک دجّال کو قائم کرکے اور بھی فتنہ اور فساد ڈال دیتا۔ مگر جو لوگ سچائی کو نہ سمجھیں اور حقیقت کو دریافت نہ کریں اور تکفیر کی طرف دوڑیں مَیں ان کا کیا علاج کروں۔ مَیں اس بیمار دار کی طرح جو اپنے عزیز بیمار کے غم میں مبتلا ہوتا ہے اس ناشناس قوم کے لئے سخت اندوہ گین ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اے قادر ذوالجلال خدا، اے ہادی اور رہنما اِن لوگوں کی آنکھیں کھول اور آپ ان کو بصیرت بخش اور آپ ان کے دلوں کو سچّائی اور راستی کا الہام بخش اور یقین رکھتا ہوں کہ میری دعائیں خطا نہیں جائیں گی۔ کیونکہ مَیں اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کی طرف بلاتا ہوں۔ یہ سچ ہے کہ اگر مَیں اُس کی طرف سے نہیں ہوں اور ایک مفتری ہوں تو وہ بڑے عذاب سے مجھ کو ہلاک کرے گا کیونکہ وہ مفتری کو کبھی وہ عزت نہیں دیتا کہ جو صادق کو دی جاتی ہے۔