اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-25

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ30؍مئی 2025بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورہ نور کی آیت نمبر 54 تا 57 کی تلاوت فرمائی :وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ اَمَرْتَہُمْ لَیَخْرُجُنَّ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا ۚ طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ ۔ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ؁ قُلْ اَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَا حُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ۔ وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَہْتَدُوْا ۔ وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ؁ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۔یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا۔ وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ؁ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ؁
سوال:خلافت علیٰ منہاج نبوت کب تک قائم رہے گی؟
جواب: رسول کریم ﷺ نے فرمایا :تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو گی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔ پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذارساں بادشاہت قائم ہو گی۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا۔اس کے بعد پھر خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو گی اور یہ فرما کر آپؐ خاموش ہو گئے۔
سوال: ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث کب بنیں گے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جبتک ہم خلافت سے جڑے رہیں گے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں گے۔
سوال: خدا تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ کون سے ہوتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائےایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان جو نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اوروہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔
سوال: ہم خلافت سے وابستہ کس طرح رہ سکتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہمیں چاہیے کہ خلافت کے ساتھ جڑے رہیں اور خلافت کے نظام کے قائم کرنے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہیں۔ اگر ہم ایسا کرتے رہیں گے تو تا قیامت ہم خلافت سے وابستہ رہیں گے ہماری نسلیں خلافت سےوابستہ رہیں گی اور اس کے فیض سے فیض پاتے رہیں گے۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے خلافت کو جاری رکھنے کے لیے اور اس سے فیض پانے کے لیے ہم لوگوں کو کیاتلقین فرمائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے خلافت کو جاری رکھنے کے لیے اور اس سے فیض پانے کے لیے ہم لوگوں کو یہ تلقین فرمائی ہے کہ جو اس خلافت سے منسلک ہوں گے وہ اللہ اوررسول کی اطاعت کریں اور اس کے حکموں پر عمل کریں
سوال: جماعت احمدیہ میں خلافت کا نظام قائم ہوئے کتنے سال ہو چکے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں خلافت کا نظام قائم ہوئے ایک سو سترہ سال گزر چکے ہیں۔
سوال: جماعت احمدیہ میں خلافت کا نظام کب قائم ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: 1908ء میں یہ نظام قائم ہوا اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق یہ قائم ہوا۔
سوال: خلافت کے جاری رہنے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ (1) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔ (2)دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئےاور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۔ یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جبکہ موسیٰؑ مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اِس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہوگئے اور بنی اسرائیل میں ان کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا۔
سوال: ایمان میں ترقی کرنے والوں کی مثال کس طرح کی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایمان میں ترقی کرنے والے ایسے ہیں جو کبھی شرک نہیں کرتے۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازوں کے قیام کی تشریح کرتے ہوئے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازوں کے قیام کی تشریح کرتے ہوئے ایک جگہ بڑے عمدہ رنگ میں یہ فرمایا کہ صلوٰۃکا بہترین حصہ جمعہ ہے جس میں امام خطبہ پڑھتا ہے اور نصائح کرتا ہے اور خلیفۂ وقت دنیا کے حالات دیکھتے ہوئے دنیا کی مختلف قوموں کی وقتاً فوقتاً اٹھتی ہوئی اور پیدا ہوتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر نصائح کرتا ہے جس سے قومی وحدت اور یکجہتی پیدا ہوتی ہے۔
سوال: زکوٰۃ دینے سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم بھی دیا ہے۔ یہ بھی تزکیہ اموال کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مالوں کو پاک کرو۔ اس میں باقی مالی قربانیاں بھی شامل ہیں۔
سوال: چندوں سےکن کی ضروریات پوری ہوتی ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آج ہم دیکھتے ہیں کہ صرف جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے ہی یہ مالی نظام جاری ہے اور خلیفۂ وقت کی اطاعت میں دنیا میں چندہ دینے کے ذریعہ سے افراد جماعت اور جماعتوں کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔