اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-18

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 26 جنوری 2007 بطرز سوال وجواب

سوال:آنحضرتﷺ کا صفت رحمانیت کا پرتو ہونے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: رحمانیت کا مظہر تام محمد ﷺہے کیونکہ محمد کے معنے ہیں بہت تعریف کیا گیا اور رحمن کے معنے ہیں بلا مُزدبن مانگے بلاتفریق، مومن و کافر کو دینے والا اور یہ صاف بات ہے کہ جو بن مانگے دے گا، اس کی تعریف ضرور کی جائے گی۔ پس محمد(ﷺ ) میں رحمانیت کی تجلی تھی۔
سوال:رحمت کس طرح چھینی جاتی ہے ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: مَیں نے رسول اللہ ﷺ کو جو صادق ومصدوق ابوالقاسم اور جھونپڑی والے ہیں، یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رحمت تو صرف بدبخت سے ہی چھینی جاتی ہے۔
سوال: اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا کے بارے میں معلوم ہو جائے تو کیا ہوگا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا کے بارے میں معلوم ہو جائے تو جنت کی کوئی بھی امید نہ کرے اور اگر کافر کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ کے پاس کتنی رحمت ہے تو کوئی بھی جنت سے مایوس نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو سو حصوں میں پیدا کیا جن میں سے ایک حصہ مخلوقات میں رکھ دیا جس سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس رحمت کے ننانوے حصے ہیں۔
سوال: مومن کا جنت سے ناامید ہونے کا کیا مطلب ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مومن کا جنت سے نااُمید ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مومن ہونے کے بعدانسان رحمانیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ فرمایا کہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا کے بارے میں معلوم ہو جائے تو جنت کی کوئی امید نہ رکھے۔ اور کافر جو ہے اس کو رحمت کا پتہ لگ جائے تو اس کو یہی امید رہے کہ مَیں جنت میں جاؤں گا۔ اگر یہی ہو کہ مومن کو کوئی امید نہ ہو تو پھر تو کوئی ایمان لانے کی جرأت نہ کرے۔ مطلب یہ ہے کہ مومن کیونکہ تقویٰ کی وجہ سے، باقی صفات کا علم ہونے کی وجہ سے ان کا بھی فہم و ادراک رکھتا ہے اور اس میں بڑھ رہا ہوتا ہے اس لئے یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ کسی غلط عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نہ حاصل کرلے، اس لئے ہمیشہ سیدھے راستے پر چلتا رہنے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتا ہے۔
سوال: ہمیں آجکل آدم علیہ السلام کی کون سی دعا پڑھنی چاہئے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو، خواہ باطن کا ہو، اسے علم ہو یا نہ ہو… سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہےآج کل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئے، رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ یہ دعا اوّل ہی قبول ہو چکی ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس طرح رحم کرتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابو سعیدؓبیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے ایک شخص تھا جسے اللہ نے مال اور اولاد عطا کی تھی، جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا مَیں تمہارے لئے کیسا باپ رہا ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ سب سے بہتر باپ، آپ بہت اچھے باپ تھے۔ اس نے کہا لیکن مَیں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں چھوڑی اور جب مَیں اللہ کے حضور پیش ہوں گا تو وہ مجھے عذاب دے گا۔ میری کوئی نیکی ہی نہیں ہے۔ اس لئے دھیان سے سن لو، غور سے سن لو کہ جب مَیں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور جب میں کوئلہ بن جاؤں تو مجھے پیس دینا پھر جب شدید آندھی چلے تو میری راکھ کو اس میں اڑا دینا اور اُس نے ان سے اس بات کا بڑا پختہ عہد لیا۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ میرے ربّ کی قسم انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب اس طرح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو اکٹھا کیا تو وہ ایک مجسم شخص کی صورت میں کھڑا ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ اے میرے بندے کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر اکسایا تھا۔ اس نے کہا تیرے خوف نے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کی تلافی اس پر رحم کرتے ہوئے کی۔
سوال:صفت رحمانیت کا ادراک پیدا کرنے کا کیا طریق ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابوہریرہؓبیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا۔ اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا بچہ تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ چمٹانے لگا۔ اس پر نبی کریمﷺ نے فرمایا :کیا توُ اس سے رحم کا سلوک کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا جی حضورؐ، آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا تو اس سے کرتا ہے۔ اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کس شخص پر رحم کا سلوک نہیں کرے گا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت جریرؓبن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرے گا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔
سوال:کن کن معاملات میں صلح رحمی کا خاص خیال رکھنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپس کے تعلقات میں صلہ رحمی کا خیال رکھنا چاہئے، دوستی کا خیال چاہئے، ہمسائیگی کا خیال رکھنا چاہئے، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے، رحم کے جذبات دل میں ہونے چاہئیں۔ آنحضرت ﷺنے عام تعلقات میں ایک دوسرے کو رحم کی تلقین فرمائی ہے۔اسی طرح عام معاملات میں عمومی صرفِ نظر نظامِ جماعت کے لئے بھی ہے، خلیفہ ٔوقت کے لئے بھی ہے۔
سوال : چھوٹوں پر رحم اور بزرگوں کی عزت کے متعلق حضور انور نے کون سی حدیث پیش کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں، زربی کہتے ہیں کہ مَیں نے انس بن مالکؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک بوڑھا آدمی نبی کریم ﷺ سے ملنے کے لئے آیا۔ لوگوں نے اسے جگہ دینے میں سستی سے کام لیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بزرگوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
سوال: رسول کریم ﷺ نے اہل جنت کی کیا نشانیاں بیان فرمائیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت رسول کریم ﷺ نے اہل جنت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل جنت تین قسم کے ہیں ایسا حاکم جو انصاف پسند ہو، کثرت سے صدقات کرنے والا ہو، عقلمند ہو۔ اور ایسا آدمی جو رحم کرنے والا ہو، رشتے داروں اور مسلمانوں کے لئے نرم دل ہو اور پھر تیسری یہ چیز بتائی تھی کہ ایسا آدمی جو محتاج ہو مگر سوال نہ کرے اور صدقہ کرنے والا ہو۔
سوال: ایک مومن کا دوسرے مومن سے کس طرح کا سلوک ہونا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بیماری کی حالت میں ایک جسم کی جو یہ حالت ہے، وہی ایک مومن کی دوسرے مومن کے بارے میں ہونی چاہئے، بجائے نقصان پہنچانے کے، کسی کی تکلیف کا احساس نہ کرنے کے، تکلیف کا احساس کرنا چاہئے اور اس کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہونی چاہئے۔