اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-18

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ23؍مئی 2025بطرز سوال وجواب

سوال:جس روز آنحضرت ﷺنے مکہ سے ہجرت کی اس روز اللہ تعالیٰ نے آپؐکو کیا بشارت دی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حقیقت تو یہ ہے کہ جس روز آنحضرتﷺ نے مکہ سے ہجرت کی اللہ تعالیٰ نے اسی دن آپ ﷺکو یہ بشارت دے دی تھی کہ تو غم نہ کر ایک دن میں واپس تجھے اس جگہ لے کر آؤں گا۔
سوال: محققین کے نزدیک قرآن کریم کی یہ پیشگوئی کس بات کی دلیل ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:محققین کے نزدیک قرآن کریم کی یہ پیشگوئی آنحضرت ﷺکی نبوت پر دلیل ہے کیونکہ آپ ﷺنے خدا تعالیٰ کی طرف سے غیب کی خبر دی اور ویسا ہی رونما ہوا جیسا کہ آپؐ نے خبر دی تھی۔
سوال: اگر تمام اسلامی غزوات پر نظر دوڑائی جائے تو کیا معلوم ہوتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اگر تمام اسلامی غزوات پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ اپنے اندر ایک حکیمانہ رنگ رکھتی تھیں بالخصوص فتح مکہ سے پہلے جس قدر جنگیں ہوئیں ان سب کا مقصد صرف یہی تھا کہ فتح مکہ کا راستہ صاف کیا جائے۔
سوال: ہماری فریادیں کس کے آگے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہماری فریادیں تو اللہ تعالیٰ کے آگے ہیں اور اس کا پورا حق ہمیں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سوال: غزوہ فتح مکہ کب ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:غزوہ فتح مکہ 8 ہجری میں ہوا۔
سوال: غزوہ فتح مکہ کو اور کون سے نام سے یاد کیا جاتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس غزوہ کو فتحِ عظیم بھی کہتے ہیں۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتح مکہ کی بشارت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتح مکہ کی بشارت قرآن کریم کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وَ قُل رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا (بنی اسرائیل : 81) یعنی تو کہہ دے میرے رب! مجھے اس شہر یعنی مکہ میں نیک طور پر داخل کیجیو یعنی ہجرت کے بعد فتح اور غلبہ دے کر اور اس شہر سے خیریت سے ہی نکالیو یعنی ہجرت کے وقت اور خود اپنے پاس سے مجھے غلبہ اور مدد کے سامان بھجوائیو۔ یہ وہ آیت ہے جو ہجرت سے پہلے سورۂ بنی اسرائیل میں آپؐپر نازل ہوئی تھی اور جس میں ہجرت اور پھر فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی۔
سوال: سورۂ فتح میں فتح مکہ کی بشارت کن الفاظ میں بیان ہوئی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سورۂ فتح میں فتح مکہ کی بشارت یوں بیان ہوئی ہے: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَ اَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا (الفتح:19) یقیناً اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تیری بیعت کر رہے تھے وہ جانتا ہے جو ان کے دلوں میں تھا۔ پس اس نے ان پر سکینت اتاری اور ایک فتح عطا کی۔
سوال: ہجرت کے دوران اور کون سی آیت نازل ہوئی جس میں فتح مکہ کی بشارت موجود تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہجرت کے دوران یہ آیت نازل ہونے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ (القصص :86) یقیناً وہ جس نے تجھ پر قرآن کو فرض کیا ہےتجھے ضرور ایک وقت واپس آنے کی جگہ پر واپس لے آئے گا۔
سوال: امام فخر الدین رازی نے آیت اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ کی کیا تفسیر بیان فرمائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: امام فخر الدین رازی اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اس آیت میں مَعَاد واپس آنے کی جگہ سے مراد مکہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مراد فتح کے دن آنحضرت ﷺکا مکہ کی طرف واپس آنا ہے۔
سوال: محققین کے نزدیک قرآن کریم کی یہ پیشگوئی اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍکس کی دلیل ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:محققین کے نزدیک قرآن کریم کی یہ پیشگوئی آنحضرت ﷺکی نبوت پر دلیل ہے کیونکہ آپ ﷺنے خدا تعالیٰ کی طرف سے غیب کی خبر دی اور ویسا ہی رونما ہوا جیسا کہ آپؐنے خبر دی تھی۔
سوال: مفسرین نےوَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ کےکیا معنی بیان فرمائےہیں؟
جواب:حضرت مصلح موعودفرماتے ہیں: وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ کے معنی مفسرین نے یہ کیے ہیں کہ تم جہاں کہیں بھی ہو ہر حالت میں اپنا قبلہ مسجد حرام کو ہی رکھو اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ پہلے حکم سے یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ شاید یہ قبلہ صرف مدینہ والوں کے لیے ہی ہو باقی لوگوں کے لیے نہ ہواس لیے خدا تعالیٰ نے فرما دیا کہ تم جہاں کہیں سے بھی نکلو اپنے منہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو۔
سوال: حضرت مصلح موعودؓ نے وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کی کیا تفسیر بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ خواہ اس آیت میں محمد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کیا گیا ہو خواہ تمام مسلمانوں کو اس کے معنی قبلہ کی طرف منہ کرنے کے ہو ہی نہیں سکتے۔ اول تو اس لیے کہ وہ نمازیں جو کسی شہر یا گاؤں میں رہتے ہوئے اد اکی جاتی ہیں شہر سے نکلتے وقت کی نمازوں سے بالعموم زیادہ ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں حکم وہ دینا چاہیے تھا جس کا زیادہ نمازوں پر اطلاق ہو سکتا نہ کہ ایسا حکم دیا جاتا جس پر عمل کرنے کا امکان سفر کی حالت میں بہت ہی کم ہوتا ہے… ان حالات میں وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کا حکم بے معنی بن جاتا ہے کیونکہ کسی شہر سے نکلتے وقت شاذ ہی نماز کا موقعہ ہوتا ہے۔ بالعموم یا تو انسان اس وقت نماز ادا کر چکا ہوتا ہے یا اگر ادا کرنی ہوتی ہے تو کچھ دیر کے بعد بھی وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔
سوال: حضور انور نے مکرم ڈاکٹر شیخ محمد محمود صاحب کی شہادت کی کیا تفصیل بیان فرمائی؟
جواب: مکرم ڈاکٹر شیخ محمد محمود صاحب کو معاند احمدیت نے 16مئی کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ تفصیلات میں لکھا ہے کہ وقوعہ کے روز ڈاکٹر صاحب نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنی فیملی کے ہمراہ فاطمہ ہسپتال سرگودھا جہاں وہ پریکٹس کرتے تھے پہنچے۔ ہسپتال میں داخل ہو کر main استقبال کی جگہ سے گزرتے ہوئے ایمرجنسی کے سامنے کوریڈور میں پہنچ کر اپنے کمرے کی طرف جا رہے تھے کہ وہاں پہلے سے موجود ایک نامعلوم شخص جو آپ کے پیچھے پیچھے آیا اس نے شاپنگ بیگ سے پستول نکال کر پشت سے فائرنگ کر دی۔ انہیں دو گولیاں لگیں جو آر پار ہو گئیں۔ فوری طور پر سول (civil) ہسپتال لے جایا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مکرم ڈاکٹر صاحب شہید ہو گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔وقوعہ کے بعد حملہ آور اسلحہ لہراتے ہوئے ہسپتال کے باہر کھڑے اپنے ساتھی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا۔ شہادت کے وقت مرحوم کی عمر 59 سال تھی۔